ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی میں چار دنوں میں دو الگ گرامین بینک برانچ سے نامعلوم افراد نے اڑائے لاکھوں روپئے، ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں

وادی میں بینک ڈکیتی کی واردات  میں اضافہ ۔چار دونوں میں دومقامات پر گرامین بنک شاخوں میں رونماہوئی وارداتنامعلوم افراد نےلاکھوں روپئےاڑالئے۔ابھی تک کسی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

  • Share this:
وادی میں چار دنوں میں دو الگ گرامین بینک برانچ سے نامعلوم افراد نے اڑائے لاکھوں روپئے، ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں
وادی میں بینک ڈکیتی کی واردات  میں اضافہ ۔چار دونوں میں دومقامات پر گرامین بنک شاخوں میں رونماہوئی وارداتنامعلوم افراد نےلاکھوں روپئےاڑالئے۔ابھی تک کسی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

وادی کشمیر میں بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ سرینگر کے مضافاتی علاقہ پنزی نار ہ میں آج   نامعلوم افراد نے منہ پر نقاب پہن کر گرامینک بینک کی ایک شاخ سے 3.50 لاکھ روپے اڑالئے۔ گزشتہ چار دنوں میں  بینک ڈکیتی کی  اس طرح کی یہ دوسری واردات ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ سرینگر کے پنزی نار علاقے میں قائم گرامین بینک میں آج یعنی منگل کے روز بعد دوپہر کچھ نامعلوم بندوق بردار بنک میں گھس آئےِ، جہاں انہوں نے بنک کے ملازمین پر بندوق تان کرتین لاکھ پچاس ہزار روپئےلوٹ لئے۔ بنک کے اندراس دوران افراتفری کاماحول پیدا ہوگئی۔


پولیس نے اس معاملے کے بعدجائے واردات پر پہنچ کرواقعہ کی تحقیقات شروع کی۔ واضح رہے کہ  رواں مہینے کی بارہ مارچ کو شمالی کشمیر کےکنزر کےاُگمنہ میں قائم گرامین بنک میں ہی نامعلوم نقاب پوش پستول برداروں نے دو لاکھ چوبیس ہزار روپیہ لوٹ لیے ۔ یہاں  تین افراد پر مشتمل نامعلوم نقاب پوشوں نے کنزر سے قریب پانچ کلو میٹر دور واقع گاوں اوگمونہ میں قائم جموں و کشمیر گرامین بینک سے اس وقت دو لاکھ چوبیس ہزار روپیہ لوٹ کر راہ فرار اختیار کیا جن کی تلاش پولیس نے شروع کردی ہے۔



قابل غورطلب بات یہ ہےکہ دونوں مقامات پربنکوں کےاندرسی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کئے ہوئے ہیں بنکوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرناترجیحی بنیادوں پر کرنا چاہے۔ایک  ہی ہفتے میں  وادی میں  بینک ڈکیتی  وہ بھی گرامین بنک کی یہ دوسری واردات  سے سوال اٹھنےلگےہیں۔ادھر کنزرکےاُگمنہ میں بنک ڈکیتی کی واردات اس وقت رونماہوئی جب برانچ میں تعینات منیجر نماز جمہ  ادا کرنے مقامی جامع مسجد گیا ہوا تھا اوراسی دوران یہ نقاب پوش بینک میں داخل ہوئے اسوقت وہاں ایک دوسرا منیجر۔کلرک کے علاوہ مزید دو افراد موجود تھے۔  تین نقاب پوش بینک میں داخل ہوئے  جن میں ایک نے پستول نکال کر فائر کیا اوربعد میں کونٹر توڈ کر وہاں موجود دو لاکھ چوبیس  ہزار لوٹ کر بڑی تیزی کے ساتھ فرار ہوگئے۔

کنزر پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس زیر نمبر 17درج کرکےتحقیقات شروع کردی ہے۔ اس سے پہلے بھی جنوبی کشمیر کے مختلف مقامات پر متعدد بینکوں سے نقدی رقم لوٹ لی  گئی ہے تاہم ابھی تک کسی بھی معاملے میں کسی کی گرفتار ی عمل میں نہیں لائی گئی نہ ہی کسی کا نام سامنے آیا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 16, 2021 10:37 PM IST