ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

لاک ڈاون: کشمیریت اور انسانیت کی  ایک اور بہترین مثال قائم گلمرگ میں پھنسےغیر مسلم سیاح کی محمد ارشاد نے کی مدد

لاک ڈاون کے بیچ ٹنگمرگ کنزر کے اُٹکو میں کشمیریت اور انسانیت کی ایک اور بہترین مثال قائم ہوئی۔ محمد ارشاد نے گلمرگ میں پھنسےغیر مسلم گوتم نامی سیاح کو پریشان حال دیکھ کر انہیں اپنے گھر میں پناہ دی۔

  • Share this:
لاک ڈاون: کشمیریت اور انسانیت کی  ایک اور بہترین مثال قائم گلمرگ میں پھنسےغیر مسلم سیاح کی محمد ارشاد نے کی مدد
لاک ڈاون کے بیچ ٹنگمرگ کنزر کے اُٹکو میں کشمیریت اور انسانیت کی ایک اور بہترین مثال قائم ہوئی۔ محمد ارشاد نے گلمرگ میں پھنسےغیر مسلم گوتم نامی سیاح کو پریشان حال دیکھ کر انہیں اپنے گھر میں پناہ دی۔

لاک ڈاون کے بیچ ٹنگمرگ  کنزر کے اُٹکو میں کشمیریت اور انسانیت کی  ایک اور بہترین  مثال قائم ہوئی۔ محمد ارشاد نے گلمرگ میں پھنسےغیر مسلم  گوتم  نامی سیاح کو پریشان حال  دیکھ کر  انہیں اپنے گھر میں پناہ دی۔پچھلے چالیس روز سے گوتم اُٹکو کنزر میں قیام پذیر۔محمد ارشاد کہتے ہیں کہ انہوں نے دھرم کو نہیں بلکہ انسانیت کے ناطے گوتم کو اپنے گھر میں پناہ دی۔ گوتم   کشمیر کی مہمان نوازی سے بے حد  متاثر منیر حسین حرہ ۔گلمرگ کورونا وائر س اور لاک ڈاؤن نے جہاں دنیابھر میں ہر ایک کو ایک دوسرے سے دور کر دیا۔ اور جو جہاں تھا وہ وہی رہ گیا۔ ایسا ہی کچھ سیاحتی مقام گلمرگ میں بھی ہوا جہاں کچھ سیاح لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہی پھنس گئے ممبئی سے تعلق رکھنےگوتم پاریک   نامی سیاح لاک ڈاون سے پہلے  گلمرگ  کی سیر و تفریح کی غرض آئے  ہوئے تھے۔


لاک ڈاؤن نافذ ہونے  کی وجہ سے گوتم  پاریک  گلمرگ میں ہی  پھنس گئے تھے ۔گوتم گلمرگ آنے سے   پہلے ہی   ممبئی کے لئے واپسی کی ائیر ٹکٹ بھی نکال چکے تھے ۔لاک ڈاون کے بعد ہوائی سروس  معطل ہونے سے ان کی ہوائی ٹکٹ بھی منسوخ ہوئی جس کے بعد گوتم پریشان حال تھے اسی دوران   ٹنگمرگ کنزر کے اُٹکو گاؤں کے محمد ارشاد  نامی مقامی شخص   نے انسانیت اور کشمیریت کی عمدہ مثال قائم کرتے ہوئے اس غیر مسلم ہندو سیاح  کو اپنے گھر لے جاکر پناہ دی۔


گوتم نے نیوز 18اردو کو بتایا کہْ ڈیڑھ مہینے سے وہ اُٹکو کنزر میں محمد ارشاد کے  گھر میں  قیام پذیر ہیں ۔ گوتم نے نیوز 18 اردو کو بتایا محمد ارشاد نے انہیں اپنے بیٹے کی طرح رکھا ، اتنا پیار دیا جس سے انہیں  کوئی بھی فرق یہاں محسوس نہیں ہوئی ۔گوتم نے مزید بتایا کہ انہیں اچھی طرح   ٹنگمرگ اور سرینگر میں کورنا وائرس  طبی معانیہ  بھی کروایا  گیا۔


گوتم نے  بتایا کہ  کشمیر میں انہیں اچھے لوگ نظر آئےانہوں نے بتایا کہ  جو بھی میڈیا میں  کشمیر اور یہاں کے لوگوں سے متعلق جو نفرت آمیز اور منفی خبریں  دکھائی جارہی ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی ہے ۔گوتم نے بتایا کہ ان والدہ انہیں کہتی  ہیں   کہ تم خوش قسمت ہو کہ  کشمیر میں  تمہیں  اتنا وقت گزارنے کا موقع ملا ۔گوتم   کشمیر کی مہمان نوازی سے اتنے  متاثر ہوئے۔ وہ کہتے ہیں  کہ واقعی جو   کشمیر کی مہمان نوازی سے متعلق بہت پہلے سنتے آئے وہ حقیقت میں کشمیر  اور یہاں کے لوگوں میں پایا۔ محمد ارشاد نے نیوز18 اردو کوبتایا کہ جب گوتم  کو پریشان حال پایا تو انہوں نے فوراً اسے انسانیت کے ناطے  اپنے گھر میں پناہ دی۔

محمد ارشاد کہتے  ہیں کہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ  کسی بھی مذہب کے لوگوں کے ساتھ  احترام سے پیش آؤ۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے  دھرم کو  نہیں دیکھا  بلکہ  انسانیت دیکھی ۔ محمد ارشاد کہتے ہیں  کہ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ اسے اس پریشانی میں  ساتھ نہیں دیں گے تو رو زمحشر میں اللہ تعلیٰ کی پکڑ ہوگی۔  محمد ارشاد نے مزید بتایا کہ  ان کا پیغام ہر مسلمان اور ہر ہندو کے پاس پہنچنا چاہے کہ یہ مت دیکھو کہ اس کا دھرم کیا یہ دیکھو کہ  یہ انسان ہے ۔گوتم  اب اپنا گھر جانا چاہتے ہیں کہتے ہیں ان کی والد ہ بیمار ہیں اور ان کے گھر والے انتظار کررہے ہیں ۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی انہیں کسی طرح  اب گھر پہنچانے کی راہ ہموار کی جائے ۔تاہم گوتم دوبارہ کشمیر ضرور آنے کا ارادہ رکھتے ہیں
First published: May 03, 2020 02:22 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading