உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر بندوق لائسنس گھوٹالہ : چھاپہ ماری کے دوران سی بی آئی کے ہاتھ لگے کئی اہم دستاویزات ، جانچ جاری

    جموں وکشمیر بندوق لائسنس گھوٹالہ : چھاپہ ماری کے دوران سی بی آئی کے ہاتھ لگے کئی اہم دستاویزات ، جانچ جاری

    Jammu and Kashmir News : سی بی آئی نے مبینہ طور پر جموں و کشمیر کے 22 اضلاع میں پھیلے ہوئے مسلح لائسنس کے اجراء سے متعلق دستاویزات بھی جمع کیں ۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ تفتیش اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔

    • Share this:
    جموں : سی بی آئی نے جموں و کشمیر میں اسلحہ لائسنس ریکیٹ سے متعلق ایک کیس میں 40 کے قریب مقامات پر چھاپہ مار کارروائی انجام دی ، جن میں کچھ آئی اے ایس اور کے اے ایس افسران کے سرکاری اور رہائشی احاطے شامل تھے۔ سی بی آئی کے ذریعہ آج جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جموں ، سرینگر  ، اودھم پور ، راجوری ، اننت ناگ ، بارہمولہ ، دہلی سمیت 40 کے قریب مقامات پر تلاشی کارروائی انجام دی ۔ سرکاری ملازمین کے سرکاری اور رہائشی احاطے میں جن میں آئی اے ایس ، کے اے ایس افسران ، اس کے بعد ڈی ایم ، پھر اے ڈی ایم وغیرہ شامل ہیں ۔ اسلحے کے لائسنس ریکٹ سے متعلق ایک مقدمے کی جاری تحقیقات میں 20 کے قریب اسلحہ ہاؤس ، ڈیلرس بھی شامل ہیں۔

    سی بی آئی نے جموں وکشمیر حکومت کی درخواست اور حکومت ہند کے مزید نوٹیفکیشن پر دو مقدمات درج کیے تھے اور اس سے قبل پولیس اسٹیشن ویجیلنس آرگنائزیشن کشمیر سترہ مئی دوہزار اٹھارہ میں درج ایف آئی آر نمبر 18 کی تفتیش کررہے ہیں اور اگست 2012 سے 2016 کے دوران ریاست جموں وکشمیر میں اسلحہ لائسنس کے بڑے پیمانے پر اجرا کے الزامات کے تحٹ تھانہ ویجیلنس آرگنائزیشن جموں  کی مورخہ سترہ مئی دوہزار اٹھارہ کی ایف آئی آر نمبر 11درج ہے ۔ اس معاملے میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ غیر مستحق افراد کو اسلحہ کے 2.78 لاکھ سے زیادہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔

    سی بی آئی نے مبینہ طور پر جموں و کشمیر کے 22 اضلاع میں پھیلے ہوئے مسلح لائسنس کے اجراء سے متعلق دستاویزات بھی جمع کیں ۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ تفتیش اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس وقت کے متعلقہ ضلع کے ڈی ایم اور اے ڈی ایم نے نا اہل افراد کو مبینہ طور پر اسلحہ کے غیر قانونی لائسنس جاری کیے تھے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ جن افراد نے یہ لائسنس حاصل کیے ہیں ، وہ ان جگہوں کے رہائشی نہیں تھے ، جہاں سے مذکورہ اسلحہ لائسنس جاری کیا گیا تھا ۔ اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: