உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیری مہمان نوازی کی شبیہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ، جانئے پورا معاملہ

    Youtube Video

    بیشتر ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ وادی میں واقع ہوٹلس اوور چارجنگ اور دھوکہ دہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اورشکایات کے باوجود ان پر کوئی کاروائی نہیں ہورہی ہے۔

    • Share this:
      کشمیر میں اس سال ریکارڈ تعداد میں سیاح آرہے ہیں۔ سیاح اور سیاحت سے جڑے افراددونوں خوش ہیں لیکن اس بمپر سیزن کے ساتھ ہی اوور چارجنگ اور دھوکہ دہی کی شکایتیں آرہی ہیں۔ سیاحت سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ گٹھ جوڑ کا عمل بڑھ گیا ہے جو کشمیر ی مہمان نوازی کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔  ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی سیاح ،کشمیر کی جھیلوں، باغات اور وادیوں کا رخ کر رہے ہیں۔ سیاحوں کی آمدسے اُن لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئی ہے جو کووڈ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بمپر سیزن اپنے ساتھ کچھ پریشانیاں بھی لے کر آتا ہے۔ سیاحوں نے ٹورزم سے وابستہ چند افراد کے خلاف اوور چارجنگ اور دھوکہ دہی کی شکایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرائیوروں، شکارا والوں اور دیگر کے درمیان مکمل گٹھ جوڑ ہے جو کمیشن پر کام کرتے ہیں اورکئی سیاحوں کو لوٹ رہے ہیں۔

      بیشتر ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ وادی میں واقع ہوٹلس اوور چارجنگ اور دھوکہ دہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اورشکایات کے باوجود ان پر کوئی کاروائی نہیں ہورہی ہے۔ یہاں تک کہ آن لائن ٹورازم پورٹلس کی بھی شکایات ہیں۔ جموں کشمیر ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر شوکت چودھری نے تسلیم کیا کہ کچھ ہوٹل مالکان اوور چارجنگ اور دھوکہ دہی میں ملوث ہیں اورانہوں نے محکمہ سیاحت سےکہا کہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

      حالانکہ محکمہ سیاحت کی جانب سے کاروائیاں کرنے کی بات کی جارہی ہے لیکن ہوٹل مالکین کے معاملے میں یہ محض زبانی جمع خرچ لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملے کا حل نہیں ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 24 اپریل کو PM Modi کے جموں دورے سے پنچایتی و دیگر عوامی نمائندوں کی کافی امیدیں وابستہ

      محکمہ سیاحت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق وادی کشمیر میں مارچ میں ایک لاکھ 80 ہزار سیاح آئے اور رواں ماہ اس میں مزید اضافہ دِکھ رہا ہے۔ سیاحوں کی آمد خوش آئند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر اچھے طریقوں کے ساتھ ان کی میزبانی کے لیے تیار ہے؟ ایک اعداد و شمار کے مطابق وادی کشمیر میں سیاحوں کے لیے 27 ہزاربیڈس دستیاب ہیں لیکن اعلیٰ درجے کے ہوٹل بہت کم ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: