ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کووڈ وبا کے باوجود ہیلتھ ورکر لوگوں کی خدمت کرنے میں پیش پیش ، جموں کی ہیڈ نرس ممتا شرما اس کی تازہ مثال

Jammu and Kashmir News : جموں کے میٹرنٹی چائلڈ ہیلتھ کئیراسپتال گاندھی نگر میں کام کر رہی 45 سالہ سینئر اسٹاف نرس ممتا شرما اسپتال میں داخل حاملہ خواتین کی زچگی میں اپنی ٹیم کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ کووڈ کے خطرات کو درکنار کر ممتا شرما اسپتال میں 12 گھنٹے ڈیوٹی انجام دیتی ہیں۔

  • Share this:
کووڈ وبا کے باوجود ہیلتھ ورکر لوگوں کی خدمت کرنے میں پیش پیش ، جموں کی ہیڈ نرس ممتا شرما اس کی تازہ مثال
کووڈ وبا کے باوجود ہیلتھ ورکر لوگوں کی خدمت کرنے میں پیش پیش۔جموں کی ہیڈ نرس ممتا شرما اسکی تازہ مثال۔

جموں و کشمیر: کورونا وبا کی وجہ سے ان دنوں جب ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی زندگی کی رفتار تھم سی گئی ہے اور لوگ گھروں میں کی قید ہو کر رہ گئے ہیں ، تو وہیں کچھ ایسے جانباز بھی ہیں ، جو خطروں کی پروا کئے بغیر اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہو کر لوگوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔ کورونا وبا سے متاثرہ لوگوں کی طبی نگہداشت کیلئے ہیلتھ ورکر سب سے آگے ہیں اور محکمہ صحت کے یہ اہلکار جاں فشانی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔


نرسز کے عالمی دن کے موقع پر ایسی ہی ایک جانباز اور جانفشاں ہیلتھ ورکر سے ہم آج آپ کی ملاقات کروا رہے ہیں جو جان ہتھیلی پر رکھ کر مریضوں کی دیکھ ریکھ کر رہی ہے۔ جموں کے میٹرنٹی چائلڈ ہیلتھ کئیراسپتال گاندھی نگر میں کام کر رہی 45 سالہ سینئر اسٹاف نرس ممتا شرما اسپتال میں داخل حاملہ خواتین کی زچگی میں اپنی ٹیم کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ کووڈ کے خطرات کو درکنار کر ممتا شرما اسپتال میں 12 گھنٹے ڈیوٹی انجام دیتی ہیں۔


گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران اسپتال میں 45 حاملہ خواتین کی مدد کرنے والی ممتا اس بات سے خوش ہے کہ سبھی 45 نوزائدہ بچے صحت مند ہیں ، جس سے ان کے والدین میں خوشی کا ماحول ہے۔ کورونا وائرس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ممتا پی پی ای کٹ و دیگر ضروری ساز وسامان کا استعمال کر کے اپنی ڈیوٹی خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہیں ۔ گرمیوں کے اس موسم میں اگرچہ پی پی ای کٹ پہننے سے وہ پسینے سے شرابور ہو جاتی ہیں ، تاہم وہ یہ سختیاں بھول کر اسپتال میں داخل حاملہ خواتین اور نوزائدہ بچوں کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتی ہیں۔


بچوں کی زچگی میں مدد کرنے کے بعد ممتا جہاں نوزائیدہ بچوں کو ان کی ماووں کی گود میں ڈال کر ان کی زندگیوں کو خوشیوں سے بھر دیتی ہیں ، وہیں یہ جانباز نرس کووڈ کی دوسری لہر شروع ہونے کے بعد سے اپنے بچوں کو گلے نہیں لگا پائی ہے۔ ممتا کا کہنا ہے کہ وہ ڈیوٹی انجام دینے کے بعد گھر تو چلی جاتی ہیں لیکن احتیاط کے طور پر وہ اپنے افراد خانہ سے قریب سے نہیں مل پاتی ۔ ممتا نے کہا کہ میں 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد جب گھر لوٹ جاتی ہوں ، اس بات کو یقینی بناتی ہوں کہ میں بچوں سے قریب سے نہ ملوں ۔ بچوں کو گلے لگانے کا دل کرتا ہے لیکن موجودہ وبا کے چلتے ایسا کرنا واجب نہیں ہے۔

ممتا ایم سی ایچ گاندھی نگر میں نوزائیدہ بچوں کے لیے قائم آئی سی یو میں بھی اپنی ڈیوٹی انجام دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کووڈ سے متاثرہ حاملہ خواتین کی زچگی میں اپنا بھر پور کردار نبھایا ہے اور کورونا وائرس سے متاثرہ خواتین کے صحت یاب ہونے کے بعد ہی نوزاید بچوں کو ان کے حوالے کر دیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے بچوں کی پڑھائی کا خیال کیسے رکھتی ہیں ۔ ممتا نے کہا کہ انہوں نے اپنے دونوں بچوں کو آن لائن پڑھائی کیلئے دو الگ الگ موبائل فون میسر رکھے ہیں اور وہ بچوں کو اپنا فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کی وجہ سے بچوں کو انفیکشن نا ہو۔

ممتا دیگر تمام ہیلتھ ورکرز سے بھی اپیل کرتی ہیں کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں افراد خانہ سے مناسب دوری بنائے رکھیں ۔ تاکہ کورونا کی چین کو توڑا جا سکے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہیں اسپتال میں کام کرتے ہوئے کسی قسم کے خوف کا احساس نہیں ہوتا ۔ ممتا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے مریضوں کے چہروں پر خوشی دیکھنے سے جو سکون حاصل ہوتا ہے ، اسے میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی ۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق عام لوگوں کے مقابلہ میں ہیلتھ ورکرز کو کووڈ انفیکشن کا زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق اگرچہ ہیلتھ ورکر کل آبادی کا محض دو سے تین فیصدی حصہ ہیں تاہم ان میں کووڈ انفیکشن کی شرح 14 فی صد ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 12, 2021 06:12 PM IST