உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قوت سماعت و قوت گویائی سے محروم بشیراحمد اپنے قلم سے مصوری میں کرتے ہیں کمال لیکن محکمہ اور حکومت نے نہیں دی توجہ

    قوت سماعت اور قوت گویائی سے محروم رتنی پورہ  ٹنگمرگ کے بشیر احمد  نامی نوجوان  آرٹ یعنی مصوری اور کرکٹ جیسی کھیل میں  اپنالوہا منوا رہے ہیں ۔ بشیر نے مصوری میں لاجواب نمونے بنا ڈالے ہیں۔

    قوت سماعت اور قوت گویائی سے محروم رتنی پورہ  ٹنگمرگ کے بشیر احمد  نامی نوجوان  آرٹ یعنی مصوری اور کرکٹ جیسی کھیل میں  اپنالوہا منوا رہے ہیں ۔ بشیر نے مصوری میں لاجواب نمونے بنا ڈالے ہیں۔

    قوت سماعت اور قوت گویائی سے محروم رتنی پورہ  ٹنگمرگ کے بشیر احمد  نامی نوجوان  آرٹ یعنی مصوری اور کرکٹ جیسی کھیل میں  اپنالوہا منوا رہے ہیں ۔ بشیر نے مصوری میں لاجواب نمونے بنا ڈالے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ ٹنگمرگ کے رتنی پورہ سے تعلق والے قوت گویائی اور قوت سماعت سے محروم آ رٹسٹ بشیر احمد بشیر بچپن سے ہی قوت سماعت اور قوت گویائی سے محروم ہیں۔ البتہ بشیر کو اللہ نے ایک ایسی قوت اور ہنر سے نوازا ہے جسے دیکھ کر ہرکوئی انہیں محبت تو کرتا ہی ہے اور حیرت بھی کرتا ہے۔ قوت سماعت و گویائی سے محروم سے بشیر ایک قلمی آرٹسٹ کے طور پر ابھرے ہیں۔ گھر والوں کے مطابق بشیر بچپن سے ہی کاغذوں اور کاپیوں پر مختلف تصاویر بناتے تھے۔ بڑھتے بڑھتے بشیر کی زندگی میں مصوری ایک جز بن کر رہ گیا۔ سماعت و گویائی سے محروم یہ نوجوان ہاتھ میں قلم لے کر دیکھتے ہی دیکھتے ہر کسی کی بھی حیران کن تصویر بنا لیتے ہیں۔ بچپن سے ہی مصوری ان کا ایک مشغلہ رہا ہے۔

    انہوں نے آج تک بے شمار لاجواب اور حیران کن تصاویر بنا ئی ہیں ۔ یہ نوجوان فنکارانہ آرٹ کے تقاضوں کی پابندی کرتے ہیں۔بشیر احمد احساس کمتری کا شکار ہونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں۔ لیکن آج تک ان کی صلاحیتوں کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی نہ ہی انہیں آگے بڑھنے کے لئے کسی طرح کا کوئی پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔ بشیر سیاحتی مقام گلمرگ میں قائم گلمرگ گنڈولہ کیبل کار میں بحیثیت کیجول ملازم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    بشیر احمد کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ انہیں گلمرگ میں اسی لئے تعینات کیا گیا کہ وہ یہاں مصوری کر کے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرسکیں۔ ساتھ ہی اپنی روزی روٹی بھی کما سکیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ بعد میں متعلقہ محکمہ یا حکومت نے ان کے اس آرٹ کی جانب کوئی توجہ نہیں دی اور انہیں پھر گنڈولہ میں کیجوئل ملازم کے طور پر ہی کام کرنا پڑا۔

    جب بھی ٹوائلیٹ جاتا ہوں، کوئی پیچھا کرتا ہے، اس کرکٹر نے بتایا پاکستان میں سکیورٹی کا حال

    2005 میں فیصل آباد بچ سے چھیڑ چھاڑ پر شاہد آفریدی کا بڑا انکشاف، بتایا شعیب ملک بھی۔۔۔

    بشیر نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ بشیر شادی شدہ ہےان کے د وبچے بھی ہیں ۔بشیر کے فرزند ہازک کہتے ہیں کہ گھر وہ سب اپنے والد کا اشارہ سمجھتے ہیں ان کا مزید کہناہے کہ افسوس ان کے والد کی صلاحیتوں کو کسی نے آج تک کوئی توجہ نہیں دی یہ گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ انہیں کسی جگہ کوئی نوکری فراہم کی جائے۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ کئی بار حکومت کی جانب سے انہیں کہا گیاکہ بشیر کی مصوری کے نمونے نمائش گاہوں میں رکھی جائے گی لیکن وہ آج تک نہ ہوسکا۔بشیر نے اپنی اس مصوری کے لئے اپنے گھر میں علیحدہ ایک کمرہ رکھا ہے جس میں مصوری کے لئے انہوں نے رنگ و روغن کے علاوہ تمام تر چیزیں دستیاب رکھے ہیں۔

    انہوں نے آج تک لاتعداد تصاریر بنائی ہیں ۔ ان کے فنکارانہ اور مصوری کا کمال یہ ہے کہ گلمرگ میں جو بھی اعلیٰ افسر یا عہدہ دار آچکے ہیں ان کی ہوبہو تصویر بنا ڈالی ہے۔ ان میں کئی شخصیات کو بطور تحفہ بھی دے چکے ہیں ۔بشیر احمد کرکٹ بھی کھیلتے ہیں۔ انہوں نے قوت گویائی اور قوت سماعت سے محروم نوجوانوں کی ایک ٹیم بھی بنائی ہے ۔ جس کےیہ خود کپتان بھی ہیں ۔ بشیراحمد ہر فن مولا ہے۔حکومت کو چاہے کہ صحت مند افراد اور جسمانی طور معزور افراد میں دوریاں ختم کرکے ان کے حقوق دلوانے میں اہم رول ادا کریں ۔ ساتھ ہی بشیر کے آرٹ کو بھی آگے بڑھایا جائے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: