ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں میں گرمی کی شدید لہر سے لوگ بے حال ، بجلی کی غیر شیڈول کٹوتی نے پریشانیوں میں کیا مزید اضافہ

Jammu and Kashmir News : جموں و کشمیر یوٹی کے جموں میں گزشتہ کئی روز سے گرمی کی شدید لہر جاری ہے اور دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41.6 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا ہے ، جو معمول کے درجہ حرارت سے لگ بھگ 2 ڈگری سیلسیس زیادہ ہے ۔

  • Share this:
جموں میں گرمی کی شدید لہر سے لوگ بے حال ، بجلی کی غیر شیڈول کٹوتی نے پریشانیوں میں کیا مزید اضافہ
جموں میں گرمی کی شدید لہر سے لوگ بے حال ، بجلی کی غیر شیڈول کٹوتی نے پریشانیوں میں کیا مزید اضافہ

جموں و کشمیر : جموں و کشمیر یوٹی کے جموں میں گزشتہ کئی روز سے گرمی کی شدید لہر جاری ہے اور دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41.6 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا ہے ، جو معمول کے درجہ حرارت سے لگ بھگ 2 ڈگری سیلسیس زیادہ ہے ۔ عام لوگ جہاں بڑھتی ہوئی گرمی سے پریشان ہیں ، وہیں بجلی کٹوتی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔ جموں ضلع کے ساتھ ساتھ خطے کے مختلف علاقوں میں روزانہ دو گھنٹے سے لے کر آٹھ گھنٹے تک بجلی سپلائی منقطع کی جاتی ہے۔ جس کے خلاف لوگ سراپا احتجاج ہیں ، لیکن سننے والا کوئی نہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے اس دور میں بجلی کی غیر شیڈول کٹوتی نے انکا جینا محال کر دیا ہے ۔


جموں کے ایک مقامی باشندے امت نے نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بار بار بجلی سپلائی بند ہو جانے کی وجہ سے ان کے گھروں میں موجود انویٹر بھی چارج نہیں ہو پاتا ہے ، جس کی وجہ سے پنکھا چلانا تو دور عام لوگ گھپ اندھیرے میں رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ایک اور شہری وشال کا کہنا تھا کہ بار بار بجلی سپلائی منقطع ہوجانے کی وجہ سے وہ اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ تاکہ وہ شہر میں موجود رنبیر کنال کے کناروں پر کچھ پل صرف کر کے راحت کی سانس لے سکیں ۔


وہیں جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ سپلائی اور ڈیمانڈ میں فرق آنے کی وجہ سے بجلی کی کٹوتی ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر انجینئر گرمیت سنگھ نے نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں خطے میں دوپہر اور شام کے اوقات کے دوران بجلی کی روزانہ ضرورت 1530 میگاواٹ ہے ، جبکہ محکمہ ان اوقات میں 1258 میگاواٹ بجلی ہی فراہم کر سکتا ہے ۔ نتیجے کے طور پر ڈیمانڈ سپلائی گراف میں تفاوت پیدا ہوجانے کی وجہ سے کئی علاقوں میں کچھ وقت کیلئے بجلی سپلائی بند کرنا ناگزیر بن جاتا ہے ۔ گرمیت سنگھ نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں بجلی کے استعمال میں 22 فی صدی اضافہ ہو گیا ہے ، جو کارپوریشن کے لئے بھی باعث پریشانی ہے۔


کٹوتی کی تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خطے کے میٹرڈ علاقوں میں روزانہ ایک سے دو گھنٹے کی کٹوتی کی جاتی ہے، جبکہ ان علاقوں میں جہاں الیکٹرانک میٹر نصب نہیں کئے گئے ہیں ، روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے تک بجلی کی سپلائی بند کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن آنے والے دنوں میں کورٹ بلوال جموں سمیت کئی اور مقامات پر مزید ٹرانسفارمر نصب کرنے جارہا ہے ، جس سے موجودہ صورتحال پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔

گرمیت سنگھ نے کہا کہ خطے میں بجلی کی چوری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ خود غرض صارفین چند ضمیر فروش بجلی اہلکاروں کے ساتھ ساز باز کر کے بجلی کی چوری انجام دیتے ہیں ، جس کا خمیازہ عام صارفین کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن بجلی کی چوری پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے ۔ تاہم سماج کے بااثر افراد کا تعاون بھی لازمی ہے ، تاکہ بجلی کے اس بحران سے لوگوں کو نجات مل سکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 09, 2021 09:15 PM IST