உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: برف باری کے دوران اچانک لاپتہ ہوئے 6 فراد کا دو دنوں سے نہیں مل پا رہا کوئی سراغ ،ریسکیو آپریشن جاری

    کشمیر وادی میں سرما نکلتے نکلتے ایک بار پھر برفباری ہورہی ہے ۔

    کشمیر وادی میں سرما نکلتے نکلتے ایک بار پھر برفباری ہورہی ہے ۔

    Jammu and kashmir News : کشمیر میں قہر انگریز برف باری کے دوران واڈون کشتواڑ سےتعلق رکھنے والے 6 افراد اچانک لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جبکہ دو دنوں کی تلاش کے باوجود بھی ان کا کوئی سراغ حاصل نہیں ہو پایا ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: کشمیر میں قہر انگریز برف باری کے دوران واڈون کشتواڑ سےتعلق رکھنے والے 6 افراد اچانک لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جبکہ دو دنوں کی تلاش کے باوجود بھی ان کا کوئی سراغ حاصل نہیں ہو پایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہماچل پردیش میں کام کر رہے واڈون کشتواڑ کے 6 افراد اپنے گھر لوٹنے کے دوران مرگن ٹاپ پر برف باری کے دوران لاپتہ ہوگئے۔ ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ان سبھی لوگوں نے کوکرناگ سے واڈون پیدل سفر کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ موسم سرما کے دوران کوکرناگ - واڈون سڑک بند رہتی ہے۔ لیکن جوں ہی یہ لوگ مرگن ٹاپ پر پہنچ گئے تو بھاری برف باری کے بیچ ان کا اپنے گھر والوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا اور یہ لوگ تب سے لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کی پہچان اعجاز کوکہ، اکبر کوکہ، گلزار کوکہ، غلام نبی کوکہ، منظور کوکہ اور ادریس ڈار کے طور پر ہوئی ہے۔

    ادھر انتظامیہ کو جوں ہی ان لوگوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تو ان کا سراغ لگانے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ ڈی سی اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا کی ہدایت پر ایس ڈی ایم کوکرناگ سارب سہران کی قیادت میں ریسکیو آپریشن کا آغاز کرنے کی ہدایت دی۔ ایس ڈی ایم کوکرناگ کے مطابق جمعرات کو بھی برف باری کے باوجود فوج اور مقامی رضاکاروں اور انتظامیہ و پولیس کے اشتراک ساتھ ریسکیو آپریشن جاری رہا لیکن ابھی تک کسی بھی لاپتہ فرد کا سراغ حاصل نہیں ہو پایا ہے۔

    ایس ڈی ایم کے مطابق تین ٹیموں کو تشکیل دیا گیا جن میں سے دو ٹیمیں زمینی راستے سے مرگن ٹاپ کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔ جبکہ لارکی پورہ میں 19 راشٹریہ رائفلز کے فوجی ہیڈکوارٹر پر ایک چاپر سروس کو بھی تیار رکھا گیا ہے، لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے چاپر کو ریسکیو آپریشن میں شامل کرنا ناممکن بن گیا۔ تاہم موسم میں بہتری کے ساتھ ہی فوجی چاپر کو بھی ریسکیو آپریشن میں شامل کیا جائے گا۔

    ادھر واڈون کے ایک وفد نے ڈی سی آفس اننت ناگ میں انتظامیہ پر ریسکیو آپریشن میں عدم سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگایا۔ جبکہ ایل جی منوج سنہا سے چھ لاپتہ افراد کی بازیابی کےلئے ذاتی مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ واڈون کے ایک سماجی کارکن رؤف احمد نے کہا کہ ان کے علاقے کی پسماندگی کی وجہ سے اس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ۔ جبکہ ابھی تک کوکرناگ سے واڈون تک کے راستے میں کئی لوگوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔ رؤف کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا واڈون کا سڑک رابطہ بہتر بنانے اور ٹنل کی تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اس کے باوجود بھی سرکار نے تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

    لوگوں کا کہنا ہے کہ اننت ناگ ضلع کے ساتھ رابطہ ہونے کے باوجود بھی سیاسی رساکشی کی بنا پر واڈون کو کشتواڑ ضلع کے ساتھ رکھا گیا ہے جو کہ ایک بے جا اور حیران کن بات ہے۔ لوگوں نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ ان کے جائز مطالبات کو جلد سے جلد پورا کیا جائے ۔ تاکہ اس طرح کے واقعات پر روک لگنے کے ساتھ ساتھ واڈون کے لوگوں کی زندگی بہتر بن سکے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: