ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سات ماہ بعد نظربندی سے رہا ہوئے فاروق عبد اللہ ، لوگوں کے سامنے آئے اور کہی یہ بڑی بات

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبد اللہ نے اپنے گھر کی چھت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس کہنے کیلئے لفظ نہیں ہے ۔ میں آج آزاد ہوا ہوں ۔ اب میں دہلی جاسکوں گا ۔

  • Share this:
سات ماہ بعد نظربندی سے رہا ہوئے فاروق عبد اللہ ، لوگوں کے سامنے آئے اور کہی یہ بڑی بات
فاروق عبد اللہ ۔ اے این آئی تصویر ۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبد اللہ پر عائد پابندی جمعہ 13 مارچ 2020 کو ختم کردی گئی ، جس کے بعد وہ میڈیا کے سامنے آئے ۔ انہوں نے اپنے گھر کی چھت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس کہنے کیلئے لفظ نہیں ہے ۔ میں آج آزاد ہوا ہوں ۔ اب میں دہلی جاسکوں گا ۔ پارلیمنٹ میں آپ کی بات اٹھا سکوں گا ۔ فاروق عبد اللہ نے کہا کہ میں ان سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ، جنہوں نے میرے لئے آواز اٹھائی ۔ یہ آزادی اس وقت پوری ہوگی ، جب دیگر لیڈران بھی آزاد ہوجائیں گے ۔ مجھے امید ہے کہ وہ بھی جلد ہی رہا ہوں گے ۔



واضح رہے کہ 83 سالہ فاروق عبداللہ پر 16 ستمبر 2019 کو پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا تھا۔ انہیں 5 اگست 2019 ، جس دن مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے منسوخ کی تھیں اور جموں وکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا ، کو گپکار میں واقع اپنی رہائش گاہ جس کو سب جیل قرار دیا گیا تھا ، میں نظربند کیا گیا تھا۔

تاہم جمعہ کو فاروق عبد اللہ کی پی ایس اے کے تحت نظر بندی ختم کردی ۔ جموں کشمیر حکومت کے ترجمان روہت کنسل نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر فاروق عبد اللہ کی نظر بندی کے خاتمے کے متعلق جاری کردہ حکمنامے کی کاپی کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: حکومت نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نظر بندی کے خاتمے کے لئے احکامات جاری کئے ہیں۔

یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔ 
First published: Mar 13, 2020 04:59 PM IST