உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھدرواہ میں گجر طبقے نے ندی نالوں کو صاف ستھرا رکھنے کی شروع کی پہل

    جموں کشمیر کے اضافی ضلع بھدرواہ میں شہر کے بیچو بیچ بہنے والی ندیاں جو کبھی یہاں کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتی تھی لیکن افسوس کی بات ہے بھدرواہ کے پڑھے لکھے لوگوں کی وجہ سے یہی ندیاں آج کوڑا دان میں تبدیل ہوگئی ہیں۔

    جموں کشمیر کے اضافی ضلع بھدرواہ میں شہر کے بیچو بیچ بہنے والی ندیاں جو کبھی یہاں کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتی تھی لیکن افسوس کی بات ہے بھدرواہ کے پڑھے لکھے لوگوں کی وجہ سے یہی ندیاں آج کوڑا دان میں تبدیل ہوگئی ہیں۔

    جموں کشمیر کے اضافی ضلع بھدرواہ میں شہر کے بیچو بیچ بہنے والی ندیاں جو کبھی یہاں کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتی تھی لیکن افسوس کی بات ہے بھدرواہ کے پڑھے لکھے لوگوں کی وجہ سے یہی ندیاں آج کوڑا دان میں تبدیل ہوگئی ہیں۔

    • Share this:
    جہاں ایک طرف شہروں میں رہنے والے پڑھے لکھے لوگوں نے ندی نالوں کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے وہیں دوسری جانب بھدرواہ کے دور دراز علاقوں میں مقیم گجر طبقے نے اپنے علاقے میں بہنے والے ندی نالوں کو صاف ستھرا رکھنے کی پہل شروع کی ہے۔ جموں کشمیر کے اضافی ضلع بھدرواہ میں شہر کے بیچو بیچ بہنے والی ندیاں جو کبھی یہاں کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتی تھی لیکن افسوس کی بات ہے بھدرواہ کے پڑھے لکھے لوگوں کی وجہ سے یہی ندیاں آج کوڑا دان میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ بھدرواہ میں شہروں میں رہنے والی 90 فیصد آبادی ان ندیوں میں فضلہ بہاتے ہیں، کوڑا ڈال کر ان ندیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ وہیں بھدرواہ کے دور دراز علاقے شریکھی علاقے میں رہنے والے کم پڑھا لکھا گجر طبقے نے اپنی بستی میں safety tanks بنا کر ان کے علاقے میں بہنے والی ندیوں کو آلودہ ہونے سے بچانے کی پہل کی ہے۔ ان کے علاقے میں بہنے والی ندی سے یہ لوگ پینے کا پانی اور کئی فائدے لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے بھدرواہ کے شہروں میں بہنے والی ندیوں کی حالت دیکھ کر انہوں نے اپنی ندی کو صاف ستھرا رکھنے کی ٹھان لی اور آج کے وقت میں ان کو کسی بھی طرح پانی نہ ہونے کی دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔
    حکومت ہند کی فلیگ شپ اسکیم کو نافذ کرتے ہوئے ، سوچھ بھارت ابھیان (کلین انڈیا مشن) کو اپنا پورا تعاون دیتے ہوئے آلان بستی کے باشندے جن کی شرح خواندگی بہت کم ہے اور ان سب کے ساتھ جو غربت کی لکیر سے نیچے ہیں ، تقریبا a ایک دہائی قبل فیصلہ کیا وہ آبی ذخائر کے قریب گندگی نہیں ڈالیں گے اور بزرگ دیہاتیوں نے ایک ایڈوائزری جاری کی کہ تمام گھرانے اپنے safety tanks بنائیں گے۔

    شریکھی گاؤں کے رہنے والے گجر ہاشم دین نے کہا اس اقدام کو شروع کرتے وقت ، ہمارا بنیادی مقصد کچرے کو بشمول انسانی اور جانوروں کے فضلے کو ندی میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔ ہمارے گاؤں میں ایک اور مسئلہ یہ تھا کہ کسی نے بھی باتھ روم نہیں بنائے تھے۔ اور زیادہ تر رہائشی کھلے میں رفع حاجت کر رہے تھے جو آبی ذخائر کو بری طرح آلودہ کررہے تھے۔ محدود وسائل میں بیت الخلاء کی تعمیر کے لیے ایک دہائی قبل ہماری پہل کے بعد ، دیہی ترقیاتی محکمہ اپنے سوچھ بھارت ابھیان کے ایک حصے کے طور پر ہماری مدد کے لیے آگے آیا اور ان کی مدد سے ہم سب نے اپنے اپنے گھروں میں safety tanks تعمیر کیے۔اور اس سے ہم نے 90 فیصد تک پانی کو آلودہ ہونے سے بچا لیا۔

    شریکھی کے رہنے والے سلیم حسین نے کہا ہم اس ندی کے پانی کو اپنے پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں، کھانا بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔


    ۲۰ سالا روزی بیگم نے کہا ہم بھدرواہ شہر اور دوسرے علاقوں کے لیے ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ لوگ قدرتی آبی وسائل کو گندہ کر رہے ہیں وہیں ہم ان کو بچا کر سب کے لئے ایک مشلِ راہ بننا چاہتے ہیں۔ جہاں لوگ پانی کو آلودہ کر کے کئی طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور شہروں میں رہنے کے باوجود وزیراعظم ہند کے سپنے سوچھ بھارت ابھیان کے بارے میں پوری جانکاری ہونے کے باوجود قدرتی وسائل کو گندہ کررہے ہیں وہیں ہم سوچھ بھارت ابھیان کے مدِنظر اپنے علاقے کو، اپنے علاقے میں بہنے والی ندی کو صاف رکھ کو سوچھ بھارت ابھیان کی مہم کو ہم گجر طبقہ پورا تعاون دے رہا ہے۔

    یہاں کے لوگ قدرتی آبی وسائل کا فائدہ بخوبی جانتے ہیں اسی لئے انہوں نے یہ قابلِ ستائش پہل شروع کی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ، بھدرواہ قصبے میں کل 2029 گھر ہیں۔ ان میں سے1987 گھروں میں میں safety tanks نہیں ہیں اور تمام انسانی فضلہ کھلے نالوں میں بہایا جاتا ہے۔ شریکھی گاؤں کے لوگوں نے سب سے پہلے اپنے گھروں میں safety tanks بنا کر پانی کو آلودہ ہونے سے بچا لیا اور آج اس علاقے کی 100فیصد آبادی اسی دریا کا پانی پیتی ہے۔

    شریکھی کے رہنے والے سلیم حسین نے کہا ہم اس ندی کے پانی کو اپنے پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں، کھانا بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں لیکن اس چیز سے بخوبی واقف ہیں کہ قدرتی پانی کے وسائل ہمارے لئے کتنا ضروری ہے۔ ہمیں قدرت کی طرف سے یہ تحفہ ملا ہے اور ہمیں اسکا پوری طرح سے خیال رکھنا چاہیے۔ وزیر اعظم بھی لگاتار لوگوں سے اپیل کرتے نظر آتے ہیں کہ سوچھ بھارت ابھیان مہم کو کامیاب کرنے کے لئے اُن کا ساتھ دیں۔ ہم اپنی ندی کو صاف ستھرا رکھ کے اُن کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اُن کی اس مہم میں اُن کا پورا ساتھ دے رہے ہیں۔ بارشیں ہونے کی وجہ سے یا تیز ہوا چلنے کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں سے پلاسٹک جیسی چیزیں اُڑ کر یا بہہ کر اس دریا میں آتی ہیں۔اس لئے یہاں کے علاقے کے لوگ ہر دن اس دریا کی صفائی کرتے ہیں۔ ہر ایک گھر کو اس دریا کی صفائی کرنے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

    شریکھی گاؤں کے رہنے والے محمد اکبر نے بتایا ہم نے جب پانی کو صاف ستھرا رکھنے کی پہل کی تو اُس وقت ہمیں یہ یقین کرنا مشکل ہورہا تھا کہ ہم اس کو گندہ ہونے سے کیسے بچائیں کیونکہ ہمارے علاقے میں کافی بارشیں بھی ہوتی ہیں اور تیز ہوائیں بھی چلتی ہیں۔ اور اس سے آس پاس کا کچرا، پیڑوں کی ٹوٹی ٹہنیاں پانی میں گر کر اس کو گندہ کرتی ہیں۔ ٹہنیوں کی وجہ سے کئی جگہ پر پانی بلاک ہو جاتا ہے جس میں پھر کچرا جمع ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ہم نے ہر ایک گھر کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ دریا کی صفائی کرے۔ اسی لئے ہم ہر روز ایک ایک پریوار اس ندی کی صفائی کرکے اس کو پھر سے صاف ستھرا بنا دیتے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: