உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: جامع مسجد سرینگر ایک بار پھر بند ، شب قدر اور جمعۃ الوداع کی اجازت نہیں 

    J&K News: جامع مسجد سرینگر ایک بار پھر بند ، شب قدر اور جمعۃ الوداع کی اجازت نہیں 

    J&K News: جامع مسجد سرینگر ایک بار پھر بند ، شب قدر اور جمعۃ الوداع کی اجازت نہیں 

    Jammu and Kashmir : ملک بھر میں آج شب قدر کے موقع پر مساجد اور خانقاہوں میں رات بھر عبادات کی جائیں گی ، لیکن کشمیر کی تاریخی جامع مسجد نوہٹہ سرینگر میں آج خاموشی چھائی ہے ۔ کیونکہ یہاں شب قدر کی عبادات کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : ملک بھر میں آج شب قدر کے موقع پر مساجد اور خانقاہوں میں رات بھر عبادات کی جائیں گی ، لیکن کشمیر کی تاریخی جامع مسجد نوہٹہ سرینگر میں آج خاموشی چھائی ہے ۔ کیونکہ یہاں شب قدر کی عبادات کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ جامع مسجد کی اوقاف کمیٹی نے پہلے یہاں شب قدر اور جمعتہ الوداع کے اوقات کا بھی اعلان کیا تھا ، لیکن کل شام انتظامیہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جامع مسجد نوہٹہ سرینگر میں شب قدر اور جمعتہ الوداع کی اجتماعی تقریبات کی اجازت نہیں ہوگی۔

    اوقاف کمیٹی نے ایک پریس ریلیز میں جموں و کشمیر انتظامیہ کی اس پابندی پر سخت پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ جامع مسجد سرینگر کو اس سال 30 ہفتوں کے بعد 4 مارچ کو نماز جمعہ کے لئے کھولا گیا تھا۔  جامع مسجد کو ان متبرک ایام میں بند رکھے جانے پر سابق وزیر اعلٰی عمر عبداللہ نے آج انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

     

    یہ بھی پڑھئے :  کشمیر میں عین افطار اور سحری کے وقت بجلی کی بندش، شہریوں کو پریشانیوں کا سامنا


    عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت ایک طرف کشمیر میں نارملسی کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف جامع مسجد جیسی تاریخی عبادت گاہ کو بند کیا جارہا ہے۔ انھوں نے اسے مذہبی معاملات میں دخل اندازی سے تعبیر کیا۔ لیلتہ القدر اور جمعتہ الوداع کے موقع پر کشمیر کے کئی علاقوں سے ہزاروں مسلمان یہاں آکر عبادات میں مشغول رہتے ہیں ، لیکن اس مرتبہ وہ اس سے محروم رکھے گئے ۔

     

    جموں وکشمیر: لولاب میں ہندو مسلم بھائی چارہ کی بہترین مثال، پنڈت خاتون ریتا کی آخری رسومات مسلمانوں نے ادا کی


    حالانکہ سرکاری طور پر کوئی حکمنامہ جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بات کرنے کیلئے تیار ہے ، لیکن پچھلی بار جمعہ کے موقع پر یہاں نعرے بازی کا ایک معاملہ سامنے آیا تھا اور ماضی میں کئی بار یہاں حکومت مخالف احتجاج ہوئے ہیں۔

    سال 2019 سے پہلے یہاں پر ہندوستان مخالف نعرے بازی اور پرچم کشائی کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ تو شب بیداری کے موقع پر ایک سرکاری پولیس افسر کا قتل بھی کیا گیا ، جس کے الزام میں کئی نوجوان ابھی بھی جیل میں ہیں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: