உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     جموں وکشمیر: وادی چھوڑ کر نہ جائیں، ہم سب ساتھ ہیں- نماز کے بعد علمائے کرام کی کشمیری پنڈتوں سے بڑی اپیل

    سری نگر کے لال چوک پر بھی نماز کے بعد سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے دہشت گردوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ لوگوں نے دہشت گردانہ حملوں کو کائرانہ بتایا۔

    سری نگر کے لال چوک پر بھی نماز کے بعد سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے دہشت گردوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ لوگوں نے دہشت گردانہ حملوں کو کائرانہ بتایا۔

    سری نگر کے لال چوک پر بھی نماز کے بعد سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے دہشت گردوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ لوگوں نے دہشت گردانہ حملوں کو کائرانہ بتایا۔

    • Share this:
      سری نگر: گزشتہ کچھ دنوں سے وادی میں دہشت گرد مسلسل کشمیری پنڈتوں، فوجی جوانوں اور عام شہریوں ک و اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وادی میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی بھی تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جموں وکشمیر میں رہنے والے اقلیتوں میں دہشت کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہر کوئی دہشت گردوں کی ناپاک حرکتوں کی سخت مذمت کر رہا ہے۔ وادی میں رہنے والے امن پسند مسلمان بھی کشمیری پنڈتوں کی حمایت میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ روز یعنی جمعہ کے دن وادی کے تقریباً ہر اہم مساجد سے نماز کے بعد دہشت گردوں کو سخت پیغام دیا گیا کہ اسلام میں معصوم لوگوں کا قتل گناہ ہے۔ پیغام میں کشمیری پنڈتوں اور عام لوگوں کے قتل کی بھی مذمت کی گئی۔

      نوبھارت ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد علمائے کرام اور مفتیان کرام نے کشمیری پنڈتوں اور دیگر ہندو اقلیتوں کو بھروسہ دلایا کہ وہ سب ان کے ساتھ ہیں، لہٰذا وہ کشمیر چھوڑ کر نہ جائیں۔ علمائے کرام اور مفتیان کرام نے یہ بھی کہا کہ وہ معصوم لوگوں کے قتل سے بے حد مایوس ہیں اور تشدد کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔

      وہیں جمعہ کی نماز کے بعد بارہمولہ میں مسلم برادری کے لوگوں نے امن مارچ بھی نکالا۔ بارہمولہ کے علاوہ کلگام، شوپیاں، سری نگر، باندی پورہ اور کپواڑہ واقع مساجد سے بھی اقلیتوں کے خلاف ہو رہے تشدد کی سخت مذمت کی گئی۔

      مساجد سے جاری پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ ہم سبھی پاکستان حامی دہشت گردی کے خلاف ہیں اور کشمیری پنڈتوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سری نگر کے لال چوک پر بھی نماز کے بعد سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے دہشت گردوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ لوگوں نے دہشت گردانہ حملوں کو کائرانہ بتایا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: