ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : وزیر اعظم مودی کی کل جماعتی میٹنگ سے لوگوں میں پیدا ہوئی امید کی نئی کرن

Jammu and Kashmir News : جموں و کشمیر پر کل وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ سے جموں میں مقیم کشمیری مہاجرین، مغربی پاکستان سے آئے ہوئے پنا ہ گزینوں اور والمکی سماج سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوگئی ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : وزیر اعظم مودی کی کل جماعتی میٹنگ سے لوگوں میں پیدا ہوئی امید کی نئی کرن
جموں و کشمیر : وزیر اعظم مودی کی کل جماعتی میٹنگ سے لوگوں میں پیدا ہوئی امید کی نئی کرن

جموں : جموں و کشمیر پر کل وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ سے جموں میں مقیم کشمیری مہاجرین، مغربی پاکستان سے آئے ہوئے پنا ہ گزینوں اور والمکی سماج سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں ایک نئی امید کی کرن جاگ گئی ہے ۔ ان سبھی قسمت اور حالات کے ستائے لوگوں کو اب یہ لگنے لگا ہے کہ جموں و کشمیر میں اب سیاسی عمل شروع ہوگا ، جس سے ان کے دیرینہ مطالبات کو پورا کیا جائے گا ۔ اگر کشمیری مائیگرنٹوں کی بات کی جائے تو پانچ لاکھ سے زیادہ کشمیری پنڈت جموں ، دہلی اور ملک کے دیگر علاقوں میں مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ان کشمیری پنڈتوں کو مرکزی اور جموں و کشمیر کی سرکار سے شکایت ہے کہ ان کیلئے کل جماعتی میٹنگ میں بازآبادکاری کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا گیا ۔ ان لوگوں کا شکوہ ہے کہ وزیر اعظم نے ان کو اس میں شرکت کی دعوت نہیں دی ۔


یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آر کے بٹ کا کہنا ہے کہ ان کو اس بات سے مایوسی ہوتی ہے کہ مرکزی سرکار نے یہ قدم ابھی اٹھایا ۔ انہوں نے کہا کہ جتنی بھی سیاسی پارٹیاں اس میٹنگ میں مدعو کی گئی تھیں ، ان میں سے کسی نے گزشتہ تین دہائیوں سے کشمیری مائیگرنٹوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کام نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مرکزی سرکار کو اس سماج کے لئے بڑے سیاسی فیصلے لینے ہوں گے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکار کو کشمیری پنڈتوں کے لئے کشمیر وادی میں تین اسمبلی سیٹیں مختص کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیری پنڈتوں کو سیاسی طور پر طاقتور نہیں بنایا جاتا ، تب تک ان کی بہبودی ممکن نہیں ہوپائے گی ۔


آل انڈیا مائیگرنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے صدر دیش رتن کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کو اب ان کے سماج کے لئے کارگر قدم چاہئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا بھروسہ صرف مرکزی سرکار پر ہی ہے ۔ دوسری طرف پنُن کشمییر کے چیئرمین ڈاکٹر اگنی شیکھر نے مرکزی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار کو اب کشمیری پنڈتوں کے ساتھ استحصال کرنے کے بجائے ان کی بازآبادکاری کی طرف دھیان دینا ہوگا۔


ادھر پناہ گزینوں نے بھی سیاسی عمل شروع کرنے کئے جانے کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے ۔ جموں کے کئی علاقوں میں مقیم پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ستر سالوں سے وہ طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ دفعہ تین سو ستر کے ہٹائے جانے کے بعد وہ تھوڑی راحت محسوس کر رہے ہیں ، لیکن اب انہیں امید ہے کہ سرکار ان کو حدبندی کے عمل کے دوران اسمبلی سیٹوں میں ریزرویشن فراہم کرے گی ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے وہ بھی اسمبلی میں اپنے طبقے کے مسائل کو اجاگر کر سکتے ہیں ۔

ادھر والمکی سماج کے لیڈر جنگ بہادر نے بھی اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ دنوں میں مرکزی سرکار اس طبقہ کی طرف توجہ کرے گی ۔ تاکہ ان کے ساتھ ہوئی ناانصافی ختم ہوسکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 25, 2021 04:59 PM IST