உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News : کشمیری پنڈت مہاجرین نے 19 جنوری 1990 کے خوف منظر کو کیایاد،کشمیرواپسی کا دہرایا عزم

    J&K News : کشمیری پنڈت مہاجرین  نے 19 جنوری 1990 کے خوف منظر کو کیایاد،کشمیرواپسی کا دہرایا عزم

    J&K News : کشمیری پنڈت مہاجرین نے 19 جنوری 1990 کے خوف منظر کو کیایاد،کشمیرواپسی کا دہرایا عزم

    Jammu and Kashmir News : قتل عام کے 32 ویں برس کے موقع پر کشمیری پنڈتوں نے اس انسانی المیے کو یاد کیا ، جس کا سامنا کشمیری پنڈتوں کو تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ قبل ہوا تھا۔ کشمیری پنڈت جو اس دن کو "یوم سیاہ"کے طور پر مناتے ہیں، سوال پوچھتے ہیں کہ اب تک کی حکومتیں کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری اور ان کی گھر واپسی کی بحالی میں کیوں ناکام رہی ہیں۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر : جنوری 1990 میں آج ہی کے روز پاکستانی پشت پناہی والے دہشت گردوں نے کشمیری پنڈتوں کو وادی کشمیر چھوڑنے کی دھمکی دی تھی۔ مصلح دہشت گردوں نے پنڈتوں سے کہا تھا کہ بصورت دیگر ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ دہشت گردوں نے مواصلات کے مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے کشمیری پنڈتوں کو کشمیر چھوڑنے کو کہا اور اس طرح پنڈتوں کو اپنے آبائی مقامات کو چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ، جہاں وہ 5000 سال سے مقیم تھے۔  کشمیری پنڈت جموں، دہلی اور ملک کے دیگر حصوں کی طرف جانے پر مجبور ہوئے اور اس طرح اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بن گئے۔

    وادی کشمیر سے پنڈتوں کے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی وجہ سے کافی تعداد میں لوگوں کے پاس انتظامیہ کے ذریعہ جموں کے مختلف مہاجر کیمپوں میں لگائے گئے ۔ خیموں میں رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ جموں اور ملک کے دیگر حصوں میں سخت موسمی حالات کی وجہ سے کشمیری مہاجرین کومشکل ترین حالات میں زندگی گزارنی پڑی۔  بدھ کے روز قتل عام کے 32 ویں برس کے موقع پر کشمیری پنڈتوں نے اس انسانی المیے کو یاد کیا ، جس کا سامنا کشمیری پنڈتوں کو تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ قبل ہوا تھا۔  کشمیری پنڈت جو اس دن کو "یوم سیاہ"کے طور پر مناتے ہیں، سوال پوچھتے ہیں کہ اب تک کی حکومتیں کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری اور ان کی گھر واپسی کی بحالی میں کیوں ناکام رہی ہیں۔

    یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آر کے بھٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ بتیس برسوں سے کوئی بھی سرکار کشمیری پنڈت مہاجرین کی وطن واپسی ممکن نہیں کرپائی۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بھٹ نے کہا : " گزشتہ بتیس برسوں سے ہم اس دن وہ خوف ناک منظر ہمارے ذہن میں آجاتا ہے ، جب چار لاکھ سے زائد کشمیری پنڈتوں کو رات کی تاریکی میں اپنے گھر بار چھوڑنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ پاکستان کی پشت پناہی والے دہشت گردوں اور علاحدگی پسند سوچ رکھنے والے ان کے حمایتوں نے ہمیں اپنا مادر وطن چھوڑنے پر مجبور کیا اور یوں ہم اپنے ہی ملک میں شرنارتھی بن گئے"۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سرکار کی جانب سے کشمیری مہاجرین کی وطن واپسی اور بازآبادکاری کے لئے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی گئی ہے۔ نتیجے کے طور پر لاکھوں کشمیری پنڈت مہاجرین آج بھی پناہ گزینوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ آر کے بھٹ نے ایک مرتبہ پھر سرکار سے اپیل کی کہ وہ کشمیری مہاجرین کی وادی واپسی اور ان کی مکمل بازآبادکاری کے لئے ایک جامعہ منصوبہ ترتیب دے۔ ایک اور کشمیری پنڈت لیڈر اشونی چرنگو نے کہا کہ پاکستان کی حمایت والے دہشت گردوں نے انیس جنوری انیس سو نوے کو کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکل جانے کی دھمکی دے کر ایک ایسا انسانیت سوز فعل انجام دیا ، جس کی دنیا میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کے ظلم وتشدد کے شکار چار لاکھ سے زائد کشمیری پنڈت تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اپنے مادر وطن سے دور ہیں۔ جو آپنے آپ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اشونی چرنگو نے کہا : " ہم سرکار سے بارہا یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ ایک خصوصی کرائم ٹریبونل قائم کرے ۔ تاکہ دہشت گردوں کی جانب سے کشمیری پنڈتوں کے خلاف کئے گئے تشدد کے معاملات کی چھان بین کی جائے اور ان جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکے اور آج کے روز ایک بار پھر ہم اپنا یہ مطالبہ دھرارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت سماج کو سیاست نے بھی معقول نمائندگی نہیں مل پائی ہے ، لہذاوہ مرکزی حکومت بالخصوص حد بندی کمیشن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جموں وکشمیر کی اسمبلی اور ملک کے پارلیمنٹ میں کشمیری پنڈتوں کے لئے سیٹیں مخصوص کریں۔

    کشمیری پنڈت کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ اپنے مادر وطن سے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دور ہیں، لیکن ان کے آبائی مقامات سے محبت ختم نہیں ہوئی ہے۔  وہ عزت اور وقار کے ساتھ کشمیر واپس آنا چاہتے ہیں ۔ کشمیری پنڈت سنجے رینہ نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے وطن کی محبت میں ذرا بھی کمی نہیں ہوئی ، بلکہ انہیں آج بھی وہ یادیں دلوں میں تازہ ہیں۔ وہ آج بھی عزت و احترام کے ساتھ اپنے وطن جانا چاہتے ہیں۔ ایک اور کشمیری پنڈت سنجے رینہ نے بتایا کہ ہر کوئی اپنے گھر میں رہنا پسند کرتا ہے ، لیکن دنیا میں شاید کشمیری پنڈت ہی ہیں جو اپنے گھر اور جائیداد ہونے کے باوجود مہاجرین بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔

    انہوں نے سرکار سے اپیل کی کہ وہ کشمیری مہاجرین کی وادی واپسی کے لئے ضروری اقدامات کریں ۔ تاکہ انہیں انیس جنوری کوہولو کاسٹ ڈے کو یاد کرنے کے لئے سڑکوں پر نہ آنا پڑے۔ واضح رہے کہ 44 ہزار سے زیادہ کشمیری پنڈت خاندان جموں و کشمیر کے ریلیف اور بازآبادکاری کے محکمے میں رجسٹر ہیں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: