ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : کٹرہ ماتا ویشنو دیوی شرائن میں جانے والے یاتریوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ

Jammu and Kashmir News : گھوڑوں اور خچر کے مالکان سے لے کر بڑے ہوٹلوں کے ملازمین تک ، تقریبا ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ ان کی آمدنی کا تعلق ماتا ویشنو دیوی شرائن پر آنے والے زائرین کی تعداد سے براہِ راست تھا ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : کٹرہ ماتا ویشنو دیوی شرائن میں جانے والے یاتریوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ
جموں و کشمیر : کٹرہ ماتا ویشنو دیوی شرائن میں جانے والے یاتریوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ

سری نگر : جموں و کشمیر میں لگاتار بڑھتے کورونا معاملات کے چلتے یوٹی انتظامیہ نے پورے جموں و کشمیر میں کورونا کرفیو نافذ کر دیا ہے ، جس کا جموں کے تاجر طبقہ نے خیرمقدم کیا ہے ۔ تاجر طبقہ نے کورونا کرفیو کو مزید بڑھانے کی بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے ۔ لوگوں نے بھی اس کرفیو کا خیرمقدم کیا ہے ۔ کورونا کرفیو کے نافذ ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں تمام کاروباراور ٹرانسپورٹ بند ہیں ۔ لوگوں کو گھروں میں رہنے کی بھی اپیل کی جا رہی ہے ۔ تاکہ کرونا کی چین کو توڑا جا سکے۔


سیاحت کا شعبہ بھی کورونا وبا سے بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ جموں کٹرہ میں ہر دن ہزاروں یاتری ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لئے آتے تھے۔ اس سے کئی سارے لوگوں کا روزگار چلتا تھا ، لیکن کورونا کے بعد یہاں چھوٹے بڑے پیمانے پہ کاروبار کرنے والے لوگوں کو کافی ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 30,000 یاتری کی تعداد اب کم ہو کر تین ہندسوں کی رہ گئی ہے ، جس کی وجہ سے کٹرہ میں کاروبار بُری طرح متاثر ہوگیا ہے اور بہت سے لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں ۔


گھوڑوں اور خچر کے مالکان سے لے کر بڑے ہوٹلوں کے ملازمین تک ، تقریبا ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ ان کی آمدنی کا تعلق ماتا ویشنو دیوی شرائن پر آنے والے زائرین کی تعداد سے براہِ راست تھا ۔ کٹرہ کے 98 فیصد ہوٹلوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ باقی دو فیصد کم سے کم عملہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں ، جن میں سے کچھ کے پاس صرف سیکورٹی عملہ موجود ہے ۔ جبکہ کٹرہ کے ہوٹلوں ، گیسٹ ہاؤس، ریستوراں اور اندرون میں کام کرنے والے تقریباً 25,000 ہزار افراد بے روزگار ہوگئے ہیں ۔


40 سالہ اسلم کھٹانہ کو گھر چلانے میں مشکلات پیش آرہی ہے ، کیونکہ ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ گھوڑا ہے اور اس وقت گھوڑے ایک بوجھ ثابت ہورہے ہیں ۔ کھٹانہ اپنے گھوڑوں کا استعمال یاتریوں کو کٹرہ سے بھون تک پہنچانے کیلئے کرتے تھے اور یہی ان کا ذریعہ معاش بھی تھا ۔ کھٹانہ نے کہ میں ہر مہینے گھوڑوں کے ذریعہ 25,000 روپے کماتا تھا ، لیکن ان دنوں کورونا کی وجہ سے یاتری نہیں آرہے ہیں اس وجہ سے ان آمدنی صفر ہو گئی ہے ۔

وہیں 50 سالہ مسکین علی نے کہا کہ ہم پالکیوں کے ذریعہ یاتریوں کو کٹرہ سے بھون تک لے جاتے تھے اور اس سے گھر کا چولہا جلتا تھا ، لیکن گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی یاتری بہت کم تعداد میں آرہے ہیں اور اس سے ہمارا کام پوری طرح سے متاثر ہو گیا ہے ۔ ہم سب بے بس ہیں ، کیونکہ وبائی مرض کے ساتھ کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن دوسری طرف حکومت کاروباری برادری کی طرف مدد فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 10, 2021 11:37 PM IST