ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کٹرا کے تاجر طبقے کو جھیلنی پڑ رہی ہے کووڈ کی مار، ایسے حالات آئے نظر

یو۔ ٹی جموں کشمیر انتظامیہ نے پورے جموں کشمیر میں کرونا کرفیو نافذ کر دیا ہے جس کے بعد جموں کے تاجر طبقے نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاجر طبقے نے کرونا کرفیو کو مزید بڑھانے کی بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے۔

  • Share this:
کٹرا کے تاجر طبقے کو جھیلنی پڑ رہی ہے کووڈ کی مار، ایسے حالات آئے نظر
یو۔ ٹی جموں کشمیر انتظامیہ نے پورے جموں کشمیر میں کرونا کرفیو نافذ کر دیا ہے

جموں کشمیر میں لگاتار بڑھتے کرونا معاملوں کے چلتے یو۔ ٹی جموں کشمیر انتظامیہ نے پورے جموں کشمیر میں کرونا کرفیو نافذ کر دیا ہے جس کے بعد جموں کے تاجر طبقے نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاجر طبقے نے کرونا کرفیو کو مزید بڑھانے کی بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے۔ لوگوں نے بھی اس کرفیو کا خیرمقدم کیا ہے۔ کرونا کرفیو کے نافذ ہونے کے بعد جموں کشمیر میں تمام کاروبار، ٹرانسپورٹ بند ہیں۔ لوگوں کو گھروں میں رہنے کی بھی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ کرونا کی بنی چین کو توڑا جا سکے۔ سیاحت کا شعبہ بھی کرونا مہاماری سے بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ کٹرہ ویشنو دیوی بھون میں ہزاروں لوگ ماتا کے درشن کرنے کے لئے آتے تھے لیکن اس بار کوویڈ کی وجہ سے روزانہ کٹرا شہر آنے والے یاتریوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس بار صرف 300سے400 یاتری، جن میں زیادہ تر جموں وکشمیر کے علاقوں کے مقامی یاتری ہیں درشن کرنے کے لئے ماتا ویشنو دیوی کے ستھان پر جا رہے ہیں۔


انیل کمار ایک مقامی دکاندار نے بتایا، " 24 گھنٹے چہل پہل سے بھری ہوی کٹرا کی مارکٹ رہتی تھی لیکن آج چاروں طرف سنسانی چھائی ہوئی ہے۔ جو ریل گاڑیاں یاتریوں سے بھری ہوئی ہوتی تھیں آج وہی ریل گاڑیاں پٹریوں پر خاموش کھڑی نظر آرہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ”کہ صرف شری ماتا ویشنو دیوی شورائن بورڈ کے ذریعہ چلائے جانے والے فوڈ پوائنٹس کام کررہے ہیں۔ اور جو تھوڑے بہت یاتری آ رہے ہیں اُن کے لئے ہیلی کاپٹر ، بیٹری کار اور کیبل کار جیسی خدمات شرائن بورڈ کی طرف سے فراہم کی جا رہی ہیں۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر شری ماتا واشنو دیوی شورائن بورڈ ، رمیش کمار نے یہ بتایا "بورڈ کے ذریعہ فراہم کی جانے والی تمام سہولیات یاتریوں کے لئے دستیاب ہیں۔شورائن بورڈ یاتریوں کی حفاظت کے لئے تمام حفاظتی اقدامات کی دیکھ بھال کررہی ہے جس میں ان کی آمد کی جانچ بھی شامل ہے۔" سی ای او نے مزید کہا، روزانہ 300 سے 400 یاتری ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لئے آتے ہیں۔


کوویڈ کے دوران 2021 کے پہلے چار مہینوں میں 16 لاکھ سے زیادہ یاتریوں نے شری ماتا ویشنو دیوی کے درشن کئے۔ پہلے دو مہینوں میں یاتریوں میں اضافہ ہوا اور یومیہ تعداد 15000 سے 20000 تک پہنچ گئی لیکن دوسری COVID لہر کے ساتھ ، تعداد کم ہوگئی اور ابتدائی چار مہینوں میں ، 16،45،333 یاتری بھون میں آئے تھے۔ جنوری میں کل 408812 ،فروری میں 389129 ، مارچ میں 525031 اور اپریل کے مہینے میں322125 یاتری بھون میں آئے تھے۔ مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کریں کیونکہ وہ اپنے اداروں اور دیگر کاروباروں کی مسلسل بندش کے پیش نظر ان کو کافی نقصان جھیلنا پڑ رہا ہے۔


ہوٹلوں اینڈ ریسورینٹس ایسوسییشن کٹرا کے صدر ، راکیش وزیر نے بتایا کہ اس سے قبل ، روزانہ 30،000 سے 40،000 افراد درشن کے لئے آتے تھے۔ لیکن کوویڈ وبائی صورتحال کے پیش نظر ان دنوں صرف 100-150 یاتری آتے ہیں۔ ایک مقامی تاجر آشیش نے کہا کہ جموں میں لوگ زیادہ تر ماتا ویشنو دیوی یاتریوں کے رش پر منحصر تھے۔لیکن اب ان کی غیر موجودگی میں ان پر انحصار کرنے والا ہر شخص جیسے ٹیکسی اور آٹو ڈرائیور ، تاجر ، ہوٹل والا ، کھانے پینے کا سامان بیچنے والے، وغیرہ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ تاجر طبقے نے لیفٹیننٹ گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی خصوصی پیکیج کا اعلان کریں تاکہ تاجر طبقہ وبائی دور کے دوران اپنے نقصان کی بھر پائی کرسکیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 25, 2021 09:27 PM IST