ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

تیزی سے ناپید ہورہے ہانگُل کی واحد آماجگاہ خطرے میں ، پروجیکٹ ٹائیگر کی طرز پر تحفظاتی پروجیکٹ سے ماہرین کو اچھی امید

علاقہ میں حال ہی میں ہانگُل کا ایک بڑا گروپ دیکھا گیا تھا ۔ ہانگُل کے لئے ان مشکل حالات میں یہ اچھی خبر ہے ، لیکن یہ ضروری ہے کہ سیاحت اور دیگر ترقیاتی پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی کے وقت قدرتی ماحول کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے ۔

  • Share this:
تیزی سے ناپید ہورہے ہانگُل کی واحد آماجگاہ خطرے میں ، پروجیکٹ ٹائیگر کی طرز پر تحفظاتی پروجیکٹ سے ماہرین کو اچھی امید
تیزی سے ناپید ہورہے ہانگُل کی واحد آماجگاہ خطرے میں ، پروجیکٹ ٹائیگر کی طرز پر تحفظاتی پروجیکٹ سے ماہرین کو اچھی امید

سرینگر شہر کے شمال مغرب میں 15 کلومیٹر کی دوری پر واقع داچھی گام نیشنل پارک ، تیزی سے ناپید ہورہے ہانگُل کی دنیا میں واحد آماجگاہ ہے ۔ بیسویں صدی کے ابتدا میں کشمیر کے مختلف علاقوں میں ایک سروے کے مطابق پانچ ہزار کے قریب ہانگُل پائے جاتے تھے ، لیکن بعد میں ان کی تعداد تیزی سے گھٹتی گئی ۔ ایک وقت یہ تعداد کم ہوکر 100 تک پہنچ گئی تھی اور ان کی آماجگاہ داچھی گام نیشنل پارک تک ہی محدود ہو کے رہ گئی ۔ گزشتہ کئی سال سے ہانگُل کے تحفظ کے لئے قومی سطح پر پروگرام چلائے جارہے ہیں ، جن کی وجہ سے ان کی تعداد زیادہ  بڑھی تو نہیں ، لیکن اس میں کچھ بہتری ضرور آئی اور یہ ناپید ہونے سے بچ گئے ۔


سال 2019 کے سروے کے مطابق داچھی گام نیشنل پارک میں محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق ہانگُل کی آبادی 230 تک پہنچ گئی ہے اور داچھی گام سے باہر بھی کچھ مقامات پر ان کے چھوٹے چھوٹے گروپ دیکھے گئے ۔ لیکن ان کو سب سے بڑا خطرہ داچھی گام نیشنل پارک کے اندر اور اس کے آس پاس آبادی اور بے ہنگم ترقیاتی پروجیکٹوں سے ہے ۔ وائلڈ لایف کے ماہر ڈاکٹر خورشید جو اب کئی سالوں سے ہانگُل کے تحفظاتی پروجیکٹوں سے وابستہ ہیں ، کہتے ہیں کہ داچھی گام کے اوپری حصہ میں چرواہوں کی آمد سے نہ صرف ہانگُل کی افزائش نسل پر اثر پڑتا ہے ۔ بلکہ چرواہوں کے کتے بھی ان کو نشانہ بناتے ہیں ۔


علاوہ ازیں نیشنل پارک کے اندر سیکوریٹی فورسیز کے پالتو کتوں سے بھی ہانگُل اپنے آخری گھر میں غیر محفوظ ہیں ۔ نیشنل پارک کے آس پاس کئی غیر قانونی بستیاں بسائی گئی ہیں ، جو پورے ماحول کو غیر محفوظ بناتی ہیں ۔ ڈاکٹر خورشید نے بتایا کہ حال ہی میں سیٹلائٹ کالرنگ سے ملی جانکاری سے انھیں پتا چلا ہے کہ ہانگُل ایک مخصوص ٹریک کا استعمال کرکے داچھی گام سے باہر نکلتے ہیں اور گاندربل ضلع کے کنگن وانگت علاقہ تک جاتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد واپس آجاتے ہیں ، لیکن حال ہی میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اس راستہ پر تعمیرات کی جارہی ہیں، جو اس حساس جانور کے لئے کافی نقصان دہ ثابت ہوگا ۔


نیشنل پارک کے اندر سیکوریٹی فورسیز کے پالتو کتوں سے بھی ہانگُل اپنے آخری گھر میں غیر محفوظ ہیں ۔
نیشنل پارک کے اندر سیکوریٹی فورسیز کے پالتو کتوں سے بھی ہانگُل اپنے آخری گھر میں غیر محفوظ ہیں ۔


داچھی گام نیشنل پارک میں ایک لمبے عرصہ کے بعد جنگلی سور کی تعداد بڑھ گئی ہے ، جو ہانگُل کے لئے چارہ کی کمی کا باعث بن رہے ہیں ۔ نیشنل پارک کے قریب اور آس پاس سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں اور وہ بھی محکمہ وائلڈ لائف کے اعتراضات کے باوجود ۔ یہ ساری صورتحال ہانگُل کی آماجگاہ کو متاثر کر رہی ہے ۔

تاہم اس سب کے درمیان اچھی خبر یہ ہے کہ جموں و کشمیر حکومت نے پروجیکٹ ٹائیگر کی طرز پر پروجیکٹ ہانگُل شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس پورے پروجیکٹ کی فنڈنگ مرکزی حکومت کرے گی ۔ اس سلسلے میں پروجیکٹ کے خدوخال اور دیگر لوازمات پورے کئے جاچکے ہیں اور مرکزی وزارت جنگلات و ماحولیات کی منظوری کا انتظار ہے۔ اسی دوران جنوبی کشمیر کے شکار گاہ ترال کے علاقہ میں کئی سال پہلے بنائے گئے ہانگُل بریڈنگ سینٹر کی تجدید کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔

جموں و کشمیر حکومت نے پروجیکٹ ٹائیگر کی طرز پر پروجیکٹ ہانگُل شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔
جموں و کشمیر حکومت نے پروجیکٹ ٹائیگر کی طرز پر پروجیکٹ ہانگُل شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔


واضح رہے کہ اس علاقہ میں حال ہی میں ہانگُل کا ایک بڑا گروپ دیکھا گیا تھا ۔ ہانگُل کے لئے ان مشکل حالات میں یہ اچھی خبر ہے ، لیکن یہ ضروری ہے کہ سیاحت اور دیگر ترقیاتی پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی کے وقت قدرتی ماحول کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے ۔ حالانکہ قومی سطح پر اب ماحولیات کے تحفظ پر کافی زور دیا جارہا ہے ۔ لیکن جموں و کشمیر میں کئی بار سیاست کو ماحولیات پر ترجیح دی جاتی ہے ۔ داچھی گام کے مین گیٹ کے سامنے واقع ملنار بستی اور دیگر تعمیرات اس کی گواہ ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 10, 2020 07:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading