ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : جانئے آخر کیوں کیا گیا ہے سرکاری ملازمین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا فیصلہ

Jammu and Kashmir News : دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد یہ پہلی ایسی کمیٹی ہوگی ، جو سرکاری ملازمین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے ۔ ٹاسک فورس کی کمان ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سی آئی ڈی کو سونپی گئی ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : جانئے آخر کیوں کیا گیا ہے سرکاری ملازمین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا فیصلہ
جموں و کشمیر : جانئے آخر کیوں کیا گیا ہے سرکاری ملازمین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا فیصلہ

سری نگر : جموں وکشمیر انتظامیہ نے ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے سرکاری ملازمین کی ملک مخالف سرگرمیوں کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ پولیس افسر کی قیادت میں اسپیشل ٹاسک فورس کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی سرکاری ملازمین کی تمام حرکات و سکنات اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے گی ۔ جو بھی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے گا ، اس کے خلافِ قانون کی مختلف دفعات کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی ۔ سرکار کی جانب سے پولیس کے اعلیٰ افسر کی قیادت میں چھ رکنی ٹاسک فورس کے قیام کو منظوری ملی ہے ۔


اس کا مقصد ان سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کا مشورہ دینا ہے ، جو انتظامیہ کے مطابق ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہوں ۔ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد یہ پہلی ایسی کمیٹی ہوگی ، جو سرکاری ملازمین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے ۔ ٹاسک فورس کی کمان ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سی آئی ڈی کو سونپی گئی ہے ۔


جبکہ جموں اور کشمیر کے صوبائی پولیس سربراہان کے علاوہ محکمہ داخلہ، محکمہ قانون، انصاف و پارلیمانی امور اور متعلقہ محکمہ کے نمائندے جن کے عہدے ایڈیشنل سیکریٹری سے کم نہ ہو، اس ٹاسک فورس کے ممبران ہوں گے۔ ٹاسک فورس کو مزید کہا گیا کہ وہ ان ملازمین کے ریکارڈ کو مرتب کریں اور اس کو سرکاری کمیٹی کے سپرد کریں ، جس کی تشکیل پہلے ہی حکم نامہ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے ۔


ٹاسک فورس کو کہا گیا ہے کہ وہ  اس حوالے سے دیگر ایجنسیوں سے تعاون بھی حاصل کرسکتے ہیں،جبکہ یہ ٹاسک فورس سی آئی ڈی محکمہ کے ماتحت کام کرے گا ۔ اس اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس کے قیام کے ساتھ ہی سرکاری ملازمین میں تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 23, 2021 05:04 PM IST