ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

بانڈی پورہ میں روزگار کی متلاشی لڑکیوں کا انوکھا اقدام ، ہر طرف ہورہی جم کر تعریف ، جانئے کیوں

کرشی وگیان کیندر بانڈی پورہ میں کٹنگ ٹیلرنگ شعبے میں تربیت پانے والی لڑکیوں نے اپنے روزگار کو آگے جاری رکھنے کے لئے ایک انوکھا قدم اُٹھا کر اپنے لئے سلائی کی مشین حاصل کی ۔

  • Share this:
بانڈی پورہ میں روزگار کی متلاشی لڑکیوں کا انوکھا اقدام ، ہر طرف ہورہی جم کر تعریف ، جانئے کیوں
بانڈی پورہ میں روزگار کی متلاشی لڑکیوں کا انوکھا اقدام ، ہر طرف ہورہی جم کر تعریف ، جانئے کیوں

کرشی وگیان کیندر بانڈی پورہ میں کٹنگ ٹیلرنگ شعبے میں تربیت پانے والی لڑکیوں نے اپنے روزگار کو آگے جاری رکھنے کے لئے ایک انوکھا قدم اُٹھا کر اپنے لئے سلائی کی مشین حاصل کی ۔ سینٹر انتظامیہ کے مطابق کٹنگ ٹیلرنگ شعبے میں چھ ماہ کی تربیت حاصل کرنے کے دوران پہلے ہی دن لڑکیوں کے ایک گروپ نے یہ مطالبہ کیا کہ انھیں روزانہ ملنے والا ریفریشمینٹ نہیں چاہئے ۔ بلکہ ریفریشمینٹ پر خرچ ہونے والے پیسے بچا کر انہیں تربیت مکمل ہونے کے بعد سلائی مشین دی جائے ۔ تاکہ وہ یہاں سے نکل کر اپنے لئے روزگار حاصل کرسکیں ۔


لڑکیوں کے اس مطالبے کو سینٹر کی انتظامیہ نے اسکاسٹ کے وائس چانسلر کو بھیجا اور وہاں سے اس منصوبے کو منظوری مل گئی ۔ چناچہ جب چند روز پہلے ان لڑکیوں نے اپنی چھ ماہ کی تربیت مکمل کی تو انہیں اسناد فراہم کرنے کے علاوہ سلائی کی مشین بھی دی گئی ۔


نیوز 18 اردو سے بات چیت کرتے ہوئے روزی نامی ایک لڑکی کا کہنا تھا کہ مالی حالت خراب ہونے کی وجہ سے وہ اپنے لئے سلائی کی مشین نہیں خرید سکتی تھیں اور یوں تربیت مکمل کرنے کے بعد صرف ایک سند مل جاتی جب کہ خود روزگار کا مسئلہ ان کیلئے دھرا کا دھرا رہ جاتا ۔


 کرشی وگیان کیندر بانڈی پورہ میں کٹنگ ٹیلرنگ شعبے میں تربیت پانے والی لڑکیوں نے اپنے روزگار کو آگے جاری رکھنے کے لئے ایک انوکھا قدم اُٹھا کر اپنے لئے سلائی کی مشین حاصل کی ۔
کرشی وگیان کیندر بانڈی پورہ میں کٹنگ ٹیلرنگ شعبے میں تربیت پانے والی لڑکیوں نے اپنے روزگار کو آگے جاری رکھنے کے لئے ایک انوکھا قدم اُٹھا کر اپنے لئے سلائی کی مشین حاصل کی ۔


یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکز میں صرف چھ ماہ کی مفت پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ تربیت کے دوران روز ریفریشمینٹ بھی فراہم کیا جاتا ہے ۔ جب کہ تربیت مکمل ہونے کے بعد ہاتھ میں صرف ایک سند تھما دی جاتی ہے اور یوں غیر مستحکم مالی حالت کے چلتے اس طرح کے تربیتی پروگراموں کا مقصد ہی فوت یوجاتا ہے ۔  تاہم ان لڑکیوں نے ریفریشمینٹ نہ لینے کا فیصلہ لے کر اپنے لئے صرف سلائی کی مشین ہی حاصل نہیں کی بلکہ یہ سلائی مشین ان کے روزگار کی ضمانت بن گئی اور اب یہ لوگ اپنے لئے روزگار کمانے کے اہل بن گئے ۔

لڑکیوں کی تربیت سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افسہ کا کہنا تھا کہ ان لڑکیوں نے ریفریشمینٹ کے پیسے کو ایک تعمیری کام میں استعمال میں لاکر دوسری لڑکیوں کیلئے ایک مثال قائم کی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 27, 2020 01:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading