உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: کولگام تصادم میں لشکر طیبہ کا پاکستانی دہشت گرد عثمان ہلاک، آپریشن ختم

    جموں وکشمیر: کولگام تصادم میں لشکر طیبہ کا پاکستانی دہشت گرد ہلاک، آپریشن ختم

    جموں وکشمیر: کولگام تصادم میں لشکر طیبہ کا پاکستانی دہشت گرد ہلاک، آپریشن ختم

    کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع کولگام کے میر پورہ میں سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر جمعرات کی سہ پہر کو چھڑنے والے مسلح تصادم میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد مارا گیا ہے۔ اس مسلح تصادم کے دوران ایک زیر عمارت کمرشل بلڈنگ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر: کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع کولگام کے میر پورہ میں سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر جمعرات کی سہ پہر کو چھڑنے والے مسلح تصادم میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد مارا گیا ہے۔ اس مسلح تصادم کے دوران ایک زیر عمارت کمرشل بلڈنگ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ نیز سیکورٹی فورسز کے دو اہلکار اور دو عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔ آئی جی پی نے ٹوئٹر ہینڈل پرکہا کہ 'مسلح تصادم کے دوران مارا جانے والا دہشت گرد عثمان ایک پاکستانی شہری ہے اور حال ہی میں مارے گئے، جیش محمد کے اعلیٰ کمانڈر محمد اسماعیل علوی عرف لمبو عرف عدنان کا ساتھی تھا۔ اس سے بی ایس ایف کانوائے پر حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوتی ہے'۔
      انسپکٹر جنرل وجے کمار کا مزید کہنا تھا: 'ایک لمبے عرصے کے بعد غیر ملکی دہشت گردوں کی طرف سے آر پی جی کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اے کے 47 رائفل، راکٹ لانچر اور گرینیڈ (سلز) برآمد کئے گئے ہیں۔ ایک بڑے حادثے کو ٹالا گیا ہے۔ سی آر پی ایف، فوج اور پولیس مبارکبادی کے مستحق ہیں'۔ قبل ازیں آئی جی پی نے جمعے کی صبح اس تصادم کے بارے میں نامہ نگاروں کو تفصیلات فرہم کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کولگام کے میر پورہ میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کی نفری الرٹ تھی جب بی ایس ایف کی ایک کانوائے آر ہی تھی تو ایک بڑی بلڈنگ سے اس پر دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے بلڈنگ کو گھیر لیا اور طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔


       کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع کولگام کے میر پورہ میں سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر جمعرات کی سہ پہر کو چھڑنے والے مسلح تصادم میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد مارا گیا ہے۔فائل فوٹو
      کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع کولگام کے میر پورہ میں سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر جمعرات کی سہ پہر کو چھڑنے والے مسلح تصادم میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد مارا گیا ہے۔فائل فوٹو



      آئی جی پی وجے کمار نے کہا کہ ہم نے راکٹ لانچر کا استعمال کیا اور ایک دہشت گرد کو رات میں ہی مار گرایا۔ انہوں نے کہا: 'چونکہ رات کو سرچ آپریشن جاری رکھنا مشکل تھا، اس لئے ہم نے آج صبح جب سرچ آپریشن شروع کیا تو ایک پاکستانی دہشت گرد کی لاش برآمد کی اور وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا'۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمد شدہ اسلحہ و گولہ باردو میں ایک اے کے 47 رائفل، چار میگزین، کچھ گرینیڈ اور آر پی جی لانچر اور اس کی ایک سیل بھی شامل ہے۔ وجے کمار نے مہلوک دہشت گرد کی شناخت لشکر طیبہ سے وابستہ عثمان کے بطور کی۔ انہوں نے کہا کہ بھاری مقدار میں برآمد شدہ اسلحہ و گولہ بارود سے معلوم ہوتا ہے کہ مہلوک دہشت گرد قومی شاہراہ پر ایک بڑے حادثے کو انجام دینے کا منصوبہ رکھتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ہفتے سے اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ دہشت گرد قومی شاہراہ پر ایک بڑے حادثے کو انجام دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس دوران آئی جی پی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آپریشن ختم ہوا ہے اور قومی شاہراہ کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے کھولا جا رہا ہے۔


      قبل ازیں ان کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا: 'سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسنے والے دہشت گردوں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ فائرنگ کے تبادلے میں سیکورٹی فورسز کے دو اہلکار اور دو عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔ کولگام پولیس نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ میر پورہ، جہاں مسلح تصادم ہو رہا ہے، سے 22 عام شہریوں بشمول 12 دکانداروں، 6 خواتین اور 4 غیر مقامی مزدوروں کو بحفاظت نکال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کیا گیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: