ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : بی جے پی کارکنان کے قتل کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ، فوج کے نشانے پر تین دہشت گرد

کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا کہ جنوبی ضلع کولگام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تین کارکنوں کے قتل میں لشکر طیبہ اور دی ریزسٹنس فرنٹ کے دو مقامی سمیت تین دہشت گرد ملوث ہیں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 30, 2020 04:15 PM IST
  • Share this:
جموں و کشمیر : بی جے پی کارکنان کے قتل کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ، فوج کے نشانے پر تین دہشت گرد
جموں و کشمیر : بی جے پی کارکنان کے قتل کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ، فوج کے نشانے پر تین دہشت گرد

کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا کہ جنوبی ضلع کولگام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تین کارکنوں کے قتل میں لشکر طیبہ اور دی ریزسٹنس فرنٹ کے دو مقامی سمیت تین دہشت گرد ملوث ہیں ۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رات کے وقت سکیورٹی کے بغیر کہیں بھی جانے سے گریز کریں۔ وجے کمار نے جمعہ کو ضلع کولگام کے یور خوشی پورہ قاضی گنڈ نامی گاوں، جہاں یہ واقعہ جمعرات کی شام دیر گئے پیش آیا ، میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم نے مقامی افسروں سے ملاقات کی ہے اور جائے واردات کا دورہ کیا ہے ۔


انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ الطاف نامی مقامی شہری کی آلٹو گاڑی میں تین دہشت گرد یہاں تک آئے تھے ۔ یہاں فدا حسین اور ان کے دو ساتھی گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ دہشت گردوں نے نزدیک سے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی ۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے ۔


انہوں نے کہا کہ پھر دہشت گرد فدا حسین کی گاڑی لے کر اچھہ بل علاقے سے نکلے جہاں ہمیں وہ گاڑی ملی ہے ۔ آئی جی پی نے کہا کہ حملے میں لشکر طبیہ کا نام آ رہا ہے اور اس میں ملوث دہشت گرد کو بہت جلد مارگرایا جائے گا ۔


انہوں نے کہا کہ اس میں ڈوڑو کا رہنے والا مقامی ملی ٹینٹ نثار کھانڈے اور کھڈونی کا رہنے والا عباس ملوث ہے ۔ عباس پہلے حزب المجاہدین میں تھا اور بعد ازاں لشکر طیبہ ، جو اپنے آپ کو ٹی آر ایف بھی کہتے ہیں، میں شامل ہو گیا ۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھ ایک غیر ملکی دہشت گرد بھی ہو۔ ہم تحقیقات میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم بہت جلد سبھی ملوثین کو اس کے انجام تک پہنچادیں گے ۔

وجے کمار نے سیاسی کارکنوں کی سیکورٹی کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے پانچ اگست سے پہلے 1619 سیاسی کارکنوں کی فہرست بنائی تھی ، جن کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ ان کو مختلف محفوظ جگہوں پر منتقل کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ فدا حسین کو پہلگام کے ڈولپن ہوٹل میں رکھا گیا تھا ۔ لیکن تین ہفتوں تک وہاں رہنے کے بعد وہ اپنی مرضی سے انڈر ٹیکنگ دے کر وہاں سے چلے گئے۔ ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ وہ اپنے گھر سے اتنا دور یہاں کیا کر رہے تھے ۔

آئی جی پی نے کہا کہ جن سیاسی کارکنوں کو لگتا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ہم ان کو سیکورٹی فراہم کریں گے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 30, 2020 04:15 PM IST