உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: ایل جی منوج سنہا کا بڑا فیصلہ، راہل بھٹ قتل معاملے کی جانچ کرے گی ایس آئی ٹی

    کشمیری پنڈت راہل بھٹ کے قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

    کشمیری پنڈت راہل بھٹ کے قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

    وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چاڈورہ تحصیل میں دہشت گردوں کی جانب سے بارہ مئی کو کشمیری پنڈت ملازم راہل بھٹ کے قتل کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایل جی منوج سنہا کے دفتر سے جاری ایک ٹویٹ میں یہ جانکاری دیتے ہوئے بتایا گیا کہ معاملے کی آزادانہ جانچ کے لیے متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو ایٹیچ کردیا گیا ہے۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے چاڈورہ تحصیل میں دہشت گردوں کی جانب سے بارہ مئی کو کشمیری پنڈت ملازم راہل بھٹ کے قتل کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایل جی منوج سنہا کے دفتر سے جاری ایک ٹویٹ میں یہ جانکاری دیتے ہوئے بتایا گیا کہ معاملے کی آزادانہ جانچ کے لیے متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو ایٹیچ کردیا گیا ہے۔

    ایل جی کے دفتر سے ملی جانکاری کے مطابق مقتول کے اہل خانہ کو مالی معاونت فراہم کئے جانے کے علاوہ مرحوم راہل بھٹ کی بیوہ میناکشی کو سرکاری نوکری فراہم کی جائے گی اور ان کی آٹھ سالہ بیٹی کی تعلیم کا پورا خرچہ یوٹی انتظامیہ برداشت کرے گی۔ ادھر راہل بھٹ کی ہلاکت کے خلاف یوٹی بھر میں آج دوسرے روز بھی کشمیری پنڈتوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔

    وزیراعظم روزگار پیکیج کے تحت کشمیر وادی میں سرکاری نوکری انجام دینے والے راہل بھٹ کی موت کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی کشمیر وادی اور جموں میں لوگوں نے احتجاج کیا وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ آج جموں میں بھی کئی مقامات پر لوگوں نے اس انسانیت سوز واقعہ کے خلاف آواز بلند کی۔ جموں کے جانی پور علاقے میں کشمیری پنڈتوں نے دھرنا دیا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی اور پاکستان کے قومی پرچم کو نذر آتش کردیا۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ وادی کشمیر میں مقیم کشمیری پنڈت ملازمین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔ ایک احتجاجی سوامی کمارجی نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،"گزشتہ چند عرصے سے وادی کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو چن چن کر ہلاک کیا جا رہا ہے، جس سے لگتا ہے کہ وہاں دوبارہ 1990 جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں، میں سرکار سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ایسی ہلاکتوں کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات کرے تاکہ کشمیر کے مجموعی حالات کو مزید ابتر ہونے سے بچایا جاسکے۔"

    احتجاج میں شامل انل کمار بھان نامی کشمیری پنڈت نے کہا کہ دہشت گردوں نے جس طرح سرکاری دفتر میں گھس کر راہل بھٹ کا قتل کیا، اس سے انتظامیہ کی ناکامی ظاہر ہورہی ہے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انل کمار نے کہا، "یہ انتظامیہ کی ناکامی ہے کہ دہشت گرد ہتھیار لے کر سرکاری دفتر میں داخل ہوگئے اور ایک کشمیری پنڈت کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا ہمارے بھائی کو تحصیلدار کے دفتر میں شہید کردیا گیا، ہم تب تک اس قتل کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے، جب تک کہ اس انسانیت سوز واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا۔"

    یہ بھی پڑھیں۔

    24 گھنٹے میں بدلا مکمل، کشمیری پنڈت راہل بھٹ کے قاتل دہشت گردوں کو فوج نے مار گرایا

    ستیش کمار نامی احتجاجی نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے کسی نہ کسی کشمیری پنڈت کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکت کی جاتی ہے، جو ہمارے لئے کافی دردناک ہے۔ انہوں نے کہا،"بھارت سرکار نے کشمیری پنڈت مہاجرین کے لئے ایک خصوصی روزگار پیکیج کا اعلان کیا، جس کے تحت اب تک تقریباً چھ ہزار پڑھے لکھے کشمیری پنڈت نوجوانوں کو روزگار ملا۔ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان کشمیر میں اکثریتی فرقے کے طالب علموں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے اوردیگر محکموں میں اپنی خدمات انجام دے کر مقامی لوگوں کے مسائل کو حل کر رہے ہیں، لیکن گزشتہ دو برسوں سے تقریباً ہر مہینے کشمیری پنڈت ملازم کی لاش جموں پہنچ جاتی ہے، جو دہشت گردوں کی گولیوں کا شکار ہو جاتا ہے جو ہمارے لئے دردناک ہے میں بھارت سرکار سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا وہ کشمیری پنڈتوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کروانے کے لئے وہاں کے جاتے ہیں۔ ہم امن پسند لوگ ہیں اور گزشتہ بتیس برسوں سے پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دہشت گرد وادی میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے والے سرکاری ملازمین دہشت گردوں کی کارروائیوں کی بھینٹ چھڑ جائیں۔ ہم بھارت سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کے لئے وادی کے اندر ایک الگ ہوم لینڈ کا قیام عمل میں لایا جائے۔"

    جموں وکشمیر ڈوگرہ فرنٹ کی جانب سے بھی جموں شہر کے پرانے علاقے میں راہل بھٹ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے پاکستان اور دہشت گردوں کے خلاف نعرہ بازی کی۔ فرنٹ کے صدر اشوک گپتا نے اس موقع پرکہا،"میں سرکار سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کشمیر میں دہشت گردوں کے اعانت کار سرکاری دفاتر میں بھی موجود ہیں، جو اس طرح کی کارروائیاں انجام دینے کے لئے دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ میں ایل جی منوج سنہا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دہشت گردوں کے اعانت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔" وہیں کشمیر میں وزیراعظم روزگار پیکیج کے تحت کام کر رہے کشمیری مائیگرنٹ ملازمین اس واقعہ کے بعد خوف زدہ ہو چکے ہیں اور وہ مسلسل اس مطالبہ کو دہرا رہے ہیں کہ سرکار ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کرے۔ اب تمام نگاہیں یوٹی انتظامیہ پرلگی ہوئی ہیں کہ وہ اقلیتی فرقے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کیسی حکمت عملی وضع کرتی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: