உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: نئے کشمیر کے خواب کو حاصل کرنا اور تشدد کےدائرے کو توڑنا ہمارا مقصد: منوج سنہا

    نئے کشمیر کے خواب کو حاصل کرنا اور تشدد کےدائرے کو توڑنا ہمارا مقصد: منوج سنہا

    نئے کشمیر کے خواب کو حاصل کرنا اور تشدد کےدائرے کو توڑنا ہمارا مقصد: منوج سنہا

    کشمیر خطے کی شان کو واپس لانا اور نئے کشمیر کے خواب کو حاصل کرنا اور تشدد کےدائرے کو توڑنا مقصد ہے۔ منوج سنہا نوجوانوں کو 'صیحح راستہ' کے نام سے شخصیت کی ترقی کے تناظر میں فوج کی طرف سے پٹن میں شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    • Share this:
    کشمیر: شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے حیدر بیگ پٹن میں قائم فوج کی دس سیکٹر ہیڈ کوارٹر میں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ان نوجوانوں اور مقامی شہریوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا، جو غلط راستے پر چلتے تھے۔ واضح رہے کہ فوج کے اس اقدام کی بھی ستائش کی گئی جس کے تحت ایسے نوجوانوں کی کونسلگ، تربیت اور کلاسز دیئے جاتے ہیں، جو غلط راستے پر چلتے تھے۔ ان نوجوانوں کی کونسلگ کرکے فوج نے انہیں صحیح راستے پر لاکھڑا کردیا۔ تقریب پر ایل جی نے مختلف شعبوں اورمختلف میدانوں میں کامیابی حاصل کرنے والے نوجوانوں کو تہنیت بھی پیش کی۔

    لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ان کی کامیابیوں کو سراہا اور مبارکباد بھی پیش کی۔ یہ تقریب فوج کی دس سیکٹر کے زوراوار ہال میں منعقد ہوئی، جس میں کافی تعداد میں نوجوانوں، ان کے والدین اور دیگر مقامی شہریوں نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ آج یہاں ایسے نوجوانوں کے ساتھ ملنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سبھی مذاہب کی مقدس مقامات قائم ہیں وہی کشمیریت ہے۔ ایل جی نے کہا کہ یہاں کچھ لوگ نوجوانوں کو گمراہ کرتے تھے اور انہیں غلط راستے پر دھکیلتے تھے اور وہ اپنے بچوں کو باہر کے ممالک میں اچھی تعلیم سے روشناس کرتے تھے۔ اب یہاں کا نوجوان ان لوگوں کی ان کارستانیوں کو سمجھ گیا ہے۔

    ایل جی نے کہا کہ یہاں کچھ لوگ نوجوانوں کو گمراہ کرتے تھے اور انہیں غلط راستے پر دھکیلتے تھے اور وہ اپنے بچوں کو باہر کے ممالک میں اچھی تعلیم سے روشناس کرتے تھے۔ اب یہاں کا نوجوان ان لوگوں کی ان کارستانیوں کو سمجھ گیا ہے۔
    ایل جی نے کہا کہ یہاں کچھ لوگ نوجوانوں کو گمراہ کرتے تھے اور انہیں غلط راستے پر دھکیلتے تھے اور وہ اپنے بچوں کو باہر کے ممالک میں اچھی تعلیم سے روشناس کرتے تھے۔ اب یہاں کا نوجوان ان لوگوں کی ان کارستانیوں کو سمجھ گیا ہے۔


    منوج سنہا نے چنار کورکمانڈر کی پہل کی کامیابی کی ستائش کی۔ منعقدہ تقریب میں نوجوانوں کو 'صیحح راستہ' کے نام سے شخصیت کی ترقی کے تناظر میں فوج کی طرف سے اس شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد دہشت گردی اور تشدد کے چکر کے متبادل کے طور پر امن اور خوشحالی کی کشمیریت کے بیانیے کے ذریعے ان نوجوانوں کو علم کی طرف مخاطب کرنا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کا وژن خطے کی شان کو واپس لانا اور نئے کشمیر کے خواب کو حاصل کرنا اور تشدد کے چکر کو توڑنا ہے۔ اس پروگرام کے مختلف بیچوں میں اب تک 100 نوجوان حصہ لے چکے ہیں، جہاں انہیں کشمیر کی زندگی اور تاریخ اور اخلاقیات کے بارے میں سبق سکھایا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے دوران مختلف ماہرین تعلیم، رہنمائی اور نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    کولگام انکاونٹر میں پاکستانی سمیت دو دہشت گرد ہلاک، دو پولیس اہلکار بھی تصادم میں زخمی

    لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نےتقریب پر وادی کے سیکورٹی منظر نامے کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں منظر نامہ بدل گیا ہے اور خوف کی فضا کم ہو رہی ہے جو زمینی سطح پر واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کشمیر کے نوجوانوں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہیں۔ سیکورٹی فورسز اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے گولی کھانےکو تیار ہیں۔ انہوں نے معاشرے کے بزرگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس ملک کے دشمنوں کے پروپیگنڈے کے بارے میں سچائی بتائیں۔ انہوں نے لوگوں کو ان دشمنوں کے کھیل کو سمجھنا ہوگا۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انتظامیہ کا فوکس نوجوانوں کی ترقی ہے۔ انہوں نے کشمیریت کے تصور پر زور دیا، جہاں تنوع میں اتحاد منایا جاتا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ آزادی کے بعد سات دہائیوں میں ہندوستان کی تمام ریاستوں نے ترقی کیوں کی ہے اورجموں وکشمیر کے خطہ نے اس قسم کی ترقی کیوں نہیں دیکھی ہے۔ اس کی وجہ بدعنوانی، تشدد اور خاندانی سیاست تھی۔

    منوج سنہا نے یقین دلایا کہ انتظامیہ نوجوانوں کے تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے پرعزم ہے اور لوگوں کو ہر ممکن مواقع فراہم کرنے کے لئے نظام کے تمام شعبوں میں مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ بہتر زندگی گزار سکیں اور ہر طرح کا فائدہ اٹھا سکیں۔ سرکاری اسکیموں اور پروگراموں کے فوائد بھی پہنچائے جاتے ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کے دشمنوں کی جانب سے چلائے جانے والے پروپیگنڈے پر بھی روشنی ڈالی، جو بالآخر عام آدمی کو بھگتنے کا باعث بنتی ہے۔ ان دشمنوں اور پروپیگنڈوں کو سرپرستی فراہم کرنے والوں کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں جبکہ عام آدمی کے بچوں کو بندوق اور پتھر اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ گونر نے کہا،"دنیا میں ہندوستان کو نالج ہب کے طور پر جانا جاتا ہے، ہندوستان نے ستیہ نڈیلا، کلپنا چاولہ، عارف خان، عشرت اختر جیسے ٹیلنٹ دیئے ہیں جبکہ پاکستان کو دہشت گرد، دہشت گردی کو برآمد کرنے والا اور دہشت گردوں کو پیدا کرنے کی فیکٹری کہا جاتا ہے۔" منوج سنہا نے ان پروگرام کے سرپرستوں کو بھی مبارکباد پیش کی جنہوں نے ان پروگراموں کے کامیاب انعقاد میں اہم کردار ادا کیا اور نوجوانوں کی بہتر زندگی اور مواقع کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: