உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیدر پورہ سرینگر انکاونٹر کی ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ سے جانچ کا اعلان ، لواحقین کو سونپی جارہی ہیں لاشیں

    حیدر پورہ سرینگر انکاونٹر کی ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ سے جانچ کا اعلان ، لواحقین کو سونپی جارہی ہیں لاشیں

    حیدر پورہ سرینگر انکاونٹر کی ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ سے جانچ کا اعلان ، لواحقین کو سونپی جارہی ہیں لاشیں

    Jammu and Kashmir News : منوج سنہا نے ٹویٹ کے ذریعے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک مقررہ وقت کے اندر تحقیقات کرارہی ہے اور رپورٹ آنے کے بعد موزوں کارروائی کی جائے گی۔

    • Share this:
    سرینگر : حیدر پورہ سرینگر انکاونٹر پر تنازع اور احتجاج کے بعد آج لیفٹننٹ گورنر جموں و کشمیر منوج سنہا نے معاملہ کی ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے جانچ کروانے کا اعلان کیا ۔ منوج سنہا نے ٹویٹ کے ذریعے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت  ایک مقررہ وقت کے اندر تحقیقات کرارہی ہے اور رپورٹ آنے کے بعد موزوں کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے لکھا کہ حکومت عام انسانی جانوں کی حفاظت کی عہد بند ہے اور کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔

    اس ٹویٹ کے بعد شام کے قریب ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ سرینگر نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ۔ اس میں اس واقعہ کی جانکاری رکھنے والے لوگوں کو ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ سرینگر واقع ڈی سی آفس ٹینکی پورہ میں اپنا بیان درج کرنے کے لئے دس دن کے اندر آنے کے لئے کہا گیا ہے ۔

    اُدھر اس انکاونٹر میں مارے گئے افراد  کے لواحقین کو لاشیں واپس کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ حالانکہ سرکاری طور پر اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے لیکن ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ لواحقین کی پولیس افسران سے بات چیت ہوئی ہے اور اُنہیں لاشیں واپس دینے کی بات کی گئی ہے۔

    سابق وزیر اعلٰی عمر عبداللہ نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ عمر عبداللہ  نے آج لواحقین کو لاشیں واپس کرنے کی مانگ کے ساتھ گُپکار پارک میں خاموش احتجاج کیا ۔ انھوں نے کہا کہ اب نئے کشمیر میں معصوم انسانوں کی لاشیں مانگنے کے لئے سابق وزرائے اعلی کو احتجاج کرنا پڑ رہا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پولیس خود مانتی ہے کہ الطاف احمد اور ڈاکٹر مدثر  اُن کے ساتھ گئے تھے ، پھر وہ مرے کیسے اور اگر کراس فائرنگ میں مارے گئے تو اُن کو ہندواڑہ لے جا کر پولیس کیسے دفن کر سکتی ہے اور لواحقین کو کفن دفن کرنے کا حق بھی نہیں مل رہا ۔

    سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس نے بھی اس واقعہ کو لے کر احتجاج کیا۔ انھوں نے سرینگر کے سنگرمال کمپلیکس سے احتجاجی جلوس برآمد کیا ، لیکن پولیس نے اُنھیں آگے جانے سے روک دیا۔ اس موقع پر پارٹی کے سنئیر لیڈر خورشید عالم نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مداخلت کرنے کی اپیل کی اور اس انکاونٹر کی سچائی عوام تک پہنچانے کی بات کہی ۔

    حیدرپورہ سرینگر میں 15 نومبر کی شام کو ایک انکاونٹر میں چار افراد مارے گئے تھے ۔ پولیس نے انکاونٹر کے بعد کہا تھا کہ ایک پاکستانی ملی ٹینٹ اور اُس کے ساتھی سمیت کُل چار افراد مارے گئے ہیں ۔ پولیس نے پریس کانفرنس میں دیگر دو مارے گئے افراد کے بارے میں کہا تھا کہ ایک ڈاکٹر مدثر او جی ڈبلیو تھا اور ایک عام شہری الطاف احمد کراس فائرنگ میں مارا گیا ، لیکن حیرت انگیز طور پر پولیس نے الطاف کی لاش بھی اُس کے گھر والوں کے حوالے نہیں کی بلکہ کہا کہ چاروں کو تقریبا سو کلو میٹر دور ہندواڑہ علاقہ میں دفن کیا گیا ہے۔

    مارے گئے افراد کے اہل خانہ کل دیر رات تک لاشیں اُن کے حوالے کرنے کے مطالبہ کو لے کر احتجاج کرتے رہے ، لیکن رات کے ساڑھے گیارہ بجے انہیں زبردستی گھسیٹ کر پولیس گاڑیوں میں بھر کر تھانے لے جایا گیا ، جہاں سے بعد میں اُنہیں رہا کردیا گیا۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کو کل سے گھر میں ہی نظر بند رکھا گیا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: