ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : کووڈ وبا کے چلتے کھیربھوانی میلے میں عقیدت مندوں کی کم شرکت ، مسلمانوں نے کیا کشمیری پنڈتوں کی مستقل وطن واپسی کی خواہش کا اظہار

Jammu and Kashmir News : حالانکہ رواں برس میلے میں کووڈ وبا کی وجہ سے کافی کم تعداد میں عقیدت مندوں نے متبرک درگاہ پر حاضری دی ۔ تاہم عقیدت سے سرشار مندر پر حاضری دینے والے یاتریوں کی موجودگی سے قلب و ذہن کو سکون فراہم کرنے والا ماحول پیدا ہو گیا۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : کووڈ وبا کے چلتے کھیربھوانی میلے میں عقیدت مندوں کی کم شرکت ، مسلمانوں نے کیا کشمیری پنڈتوں کی مستقل وطن واپسی کی خواہش کا اظہار
جموں و کشمیر : کووڈ وبا کے چلتے کھیربھوانی میلے میں عقیدت مندوں کی کم شرکت ، مسلمانوں نے کیا کشمیری پنڈتوں کی مستقل وطن واپسی کی خواہش کا اظہار

جموں و کشمیر :  جموں و کشمیر کی گرمائی راجدھانی سرینگر سے لگ بھگ 30 کلومیٹر دور ضلع گاندر بل کے تل ملہ گاؤں میں چناروں کے سائے میں واقع کشمیری پنڈتوں کی متبرک درگاہ راگنیا بھگوتی کے مندر کے احاطے میں آج ایک بار پھر " جے ماتا دی" نعروں کی گونج سنائی دی ۔ موقع تھا جیشٹھ اشٹمی کا ، جسے ماتا راگنیا دیوی کے یوم پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ راگنیا بھگوتی کے نام سے منسوب کھیربھوانی مندر میں ہر سال جیشٹھ اشٹمی کے موقع پر خصوصی میلے کا اہتمام صدیوں سے ہوتا آیا ہے ، جس میں ہزاروں کی تعداد میں ہندو خاص طور پر کشمیری پنڈت شرکت کرتے ہیں ۔ گزشتہ برس کووڈ وبا کی وجہ سے مندر کو پوجا کیلئے بند کر دیا گیا تھا ۔ تاہم رواں برس عقیدت مندوں کی کم تعداد کو مندر میں حاضری کی اجازت دی گئی ۔


حالانکہ رواں برس میلے میں کووڈ وبا کی وجہ سے کافی کم تعداد میں عقیدت مندوں نے متبرک درگاہ پر حاضری دی ۔ تاہم عقیدت سے سرشار مندر پر حاضری دینے والے یاتریوں کی موجودگی سے قلب و ذہن کو سکون فراہم کرنے والا ماحول پیدا ہو گیا۔ ہاتھوں میں دودھ ، پھول اور دیئے لے کر پوجا میں مصروف عقیدت مندوں نے اس موقع پر خصوصی دعا مانگی ۔ کھیر بھوانی استھاپن پر حاضری دینے والی ساکشی نامی عقیدت مند نے کہا کہ انہوں نے اس سال کووڈ وبا ختم ہونے کی خاص دعا مانگی ۔ نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ کووڈ سے پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے رواں برس کم تعداد میں عقیدت مند کھیر بھوانی مندر میں حاضر رہے ۔ تاہم مندر میں حاضری دینے والے افراد نے اس بار یہ خاص دعا مانگی کہ کووڈ وبا جڑ سے ختم ہو تاکہ پورے عالم کے لوگ بلا کسی خوف وخطر کے معمول کی زندگی بسر کر سکے ۔ انہوں نے کہا چونکہ اس مندر میں مانگی ہوئی ہر دعا پوری پو جاتی ہے ، اسلئے انہیں امید ہے کہ کووڈ کی وبا عنقریب ہی ختم ہو جائے گی ۔


ایک اور عقیدت مند مہاراج کرشن یوگی نے کہا کہ کووڈ وبا کی وجہ سے اس بار کافی کم تعداد میں کشمیری مہاجرین اس مندر میں حاضری دینے کیلئے پہنچ پائے ، جس کا انہیں بے حد ملال ہے ۔ نیوز18 اردو کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے یوگی نے کہا کہ کشمیری پنڈت ماتا کھیر بھوانی کے اس استھاپن سے انتہائی عقیدت رکھتے ہیں اور ہر فرد کی خواہش رہتی ہے کہ وہ جیشٹھ اشٹمی کے موقع پر ہر سال حاضری دے کر ماتا کا آشیرواد حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی سے ہجرت کے بعد یہ سالانہ میلہ بچھڑے ہوئے کشمیری پنڈتوں اور یہاں کی مسلم برادری کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ یوگی نے کہا کہ کووڈ صورتحال کی وجہ سے رواں برس کافی کم تعداد میں کشمیری مہاجرین اس مندر میں حاضری دے پائے ، جس کی وجہ سے یہ ملاقات کچھ ہی افراد تک محدود رہی ۔


کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ساتھ مسلم سماج سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اس بات کا ملال ہے کہ رواں برس کافی کم تعداد میں پنڈت برادری کے لوگ کھیر بھوانی میلے میں شامل ہو پائے ۔ بلال احمد نامی مقامی نوجوان نے نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مقامی مسلم أبادی کے لوگوں کے دل مایوس ہیں کہ کووڈ وبا کی وجہ سے اس بار کافی کم تعداد میں کشمیری مہاجرین سالانہ کھیر بھوانی میلے میں شریک ہو پائے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس روز ہر برس اپنے بچھڑے ہوئے پڑوسیوں اور دوستوں سے ملاقات کرتے تھے اور یہ ملاقات دونوں سماج کے لوگوں کے درمیان حائل دوریاں کم کرنے میں معاون ثابت ہو جاتی تھی ۔

تل ملہ کے ایک اور مقامی باشندے شفاعت احمد شاہ نے نیوز 18 اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی سال بھر کھیر بھوانی کے سالانہ میلے کے انتظار میں رہتی ہے ۔ تاکہ وہ اپنے کشمیری پنڈت پڑوسیوں کے ساتھ روبرو ملاقات کر سکے ۔ تاہم وہ اس بات سے رنجیدہ تھے کہ رواں برس وہ زیادہ تر پڑوسیوں سے ملاقات نہیں کر پائے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت مائیگرنٹ مستقل طور پر اپنے آبائی گھروں کو لوٹیں ۔ تاکہ 1990 سے پہلے جیسا کشمیر دوبارہ دیکھنے کو ملے۔ انہوں نے سرکار سے اپیل کہ کشمیری پنڈت مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 18, 2021 09:27 PM IST