ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : آزادی کے 74 برس بعد مژھل کپواڑہ میں آئی بجلی ، لوگوں میں خوشی کی لہر

کپوارہ ضلع کے سرحدی علاقہ مژھل میں 74 برس بعد بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے اور یوں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ مژھل کے لوگوں نے بجلی کی حقیقی جھلک دیکھی ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر  : آزادی کے 74 برس بعد مژھل کپواڑہ میں آئی بجلی ، لوگوں میں خوشی کی لہر
جموں و کشمیر : آزادی کے 74 برس بعد مژھل کپواڑہ میں آئی بجلی ، لوگوں میں خوشی کی لہر

کپوارہ ضلع کے سرحدی علاقہ مژھل میں 74 برس بعد بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے اور یوں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ مژھل کے لوگوں نے بجلی کی حقیقی جھلک دیکھی ۔ ایسپائزیشنل ضلع قرار دینے کے بعد سے ہی کپوارہ ضلع کے سرحدی علاقہ مژھل میں بجلی کی بحالی کا مسئلہ انتہائی مشکل ترین سمجھا جارہا تھا اور اس طرح سے کوئی امید نہیں کر سکتا تھا کہ سطح سمندر سے ہزاروں فٹ کی اونچائی پر واقع اس دور دراز علاقہ میں بجلی کی سپلائی ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ دشوار گزار راستے ، ڈھلانوں اور پہاڑی دروں کے بیچوں بیچ ترسیلی لائنیں گزارنی تھیں اور بجلی کے کھمبے نصب کرنے تھے ، جو کسی بھی معجزے سے کم نہیں لگتا تھا ۔ اوپر سے یہ سرحدی علاقہ چھ ماہ کیلئے بند رہتا ہے ، کیونکہ ایک دو نہیں بلکہ دس سے بارہ فٹ تک کی برفباری سے پورا علاقہ چھ ماہ تک ضلع صدر مقام کپوارہ سے کٹ کر رہ جاتا ہے ۔


کپوارہ اور مژھل کے درمیان آنے والی سب سے بڑی رکاوٹ زیڈ گلی سمجھی جاتی ہے ، جو ہزاروں فٹ اونچائی پر ہے اور اس پر پہنچ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انسان آسمان سے باتیں کررہا ہے ۔ چنانچہ ایسپائریشنل ضلع کا خطاب پانے کے بعد ضلع انتظامیہ نے مژھل جیسے سرحدی علاقے میں بجلی سپلائی بحالی کیلئے کھمبے لگانے اور تار بچھانے کی شروعات کی اور بالاآخر کئی برس کی محنت کے بعد اس میں کامیابی حاصل ہوگئی اور یوں 70 برس بعد علاقہ میں بجلی کی بحالی کا پروجیکٹ مکمل ہوا اور ایسے میں لوگوں کا ایک خواب شرمندہ تعبیر ہوا ۔


بجلی کی پہلی جھلک سے مژھل کے اندر لوگ انتہائی خوش دکھائی دے رہے ہیں اور ایسے میں پورے علاقہ میں جشن کا سماں ہے
بجلی کی پہلی جھلک سے مژھل کے اندر لوگ انتہائی خوش دکھائی دے رہے ہیں اور ایسے میں پورے علاقہ میں جشن کا سماں ہے


علاقہ کو باضابط طور پر گرڈ اسٹیشن سے بجلی سپلائی بحال ہوگئی ہے ۔ حالانکہ اسے پہلے برسہا برس تک اندھیرے میں رہنے کے بعد انتظامیہ نے فوج کی مدد سے علاقہ کے لوگوں کو منی جنریٹر فراہم کئے تھے ، جو ہزاروں نفوس پر مشتمل مژھل کی اس آبادی کو شام کے اوقات محض تین گھنٹے بجلی فراہم کرتے تھے ۔ لیکن یہ ناکافی تھے اور اکثر اوقات سرما کے ایام میں وہ جنریٹر بھی ناکارہ بن کر پوری آبادی کو اندھیرے کے حوالے کر دیتے تھے ۔ تاہم ضلع انتظامیہ اور محکمہ بجلی کی ان تھک کوششوں کے باوجود مژھل علاقہ میں بجلی سپلائی بحال ہوچکی ہے اور اب لوگوں کو وافر مقدار میں بجلی سپلائی دن رات فراہم ہوجائے گی ۔

بجلی آنے سے سب سے زیادہ خوش اسکولی طلبہ وطالبات ہیں ، جو امتحانات کی تیاریاں پہلے اندھیرے میں کرتے تھے اور اب انہیں روشنی میں ہی امتحانات کی تیاری کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ وہ انتظامیہ اور سرکار کے اس قدم سے کافی خوش نظر آرہے ہیں ۔ تاہم بجلی کی پہلی جھلک سے مژھل کے اندر لوگ انتہائی خوش دکھائی دے رہے ہیں اور ایسے میں پورے علاقہ میں جشن کا سماں ہے اور ہر سو خوشی کی لہر ہے ۔ بچے بوڑھے خواتین سبھی بجلی کی آمد پر شادماں ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 27, 2020 11:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading