உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حجاب تنازعہ : Karnataka High Court کے فیصلے پر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے ظاہر کی ناراضگی، بتایا مایوس کن فیصلہ

    Youtube Video

    Karnataka hijab controversy: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی ایف کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کا حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے۔

    • Share this:
      Karnataka High Court: نئی دہلی: کرناٹک ہائی کورٹ نے کرناٹک حجاب تنازعہ پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی مختلف درخواستوں کو خارج کر دیا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا کہ اسکول یونیفارم ایک ایسا اصول ہے جس پر طلبہ اعتراض نہیں کر سکتے۔ ساتھ ہی اس معاملے پر ملک کی سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔
      اسی پہر میں جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی ایف کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کا حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے۔ ایک طرف ہم خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کرتے ہیں پھر بھی ہم انہیں ایک آسان متبادل کے حق سے محروم کر رہے ہیں۔ یہ صرف مذہب کے بارے میں نہیں ہے بلکہ انتخاب کرنے کی آزادی ہے



      وہیں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس پارٹی کے لیڈر عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیا اور لکھا کہ میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے بے حد مایوس ہوں۔ چاہے آپ حجاب کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، یہ لباس کی کسی چیز کے بارے میں نہیں ہے، یہ عورت کے اس حق کے بارے میں ہے کہ وہ کس طرح کا لباس پہننا چاہتی ہے۔ عدالت نے اس بنیادی حق fundamental right کو برقرار نہیں رکھا، یہ ایک مذاق ہے۔

      وہیں ایک ٹویٹ میں اویسی نے لکھا کہ مسلمانوں کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ سختی سے (نماز، حجاب، روزہ وغیرہ) کی پیروی کرتے ہوئے تعلیم حاصل کریں۔ اب حکومت لڑکیوں کو انتخاب کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اب تک عدلیہ مسجد، داڑھی اور اب حجاب کو غیر ضروری قرار دے چکی ہے۔ مذہب کی آزادی کے لیے کیا رہ گیا ہے؟

      غور طلب ہے کہ  حجاب کو مذہبی آزادی کا حوالہ دے کر اسکول کالجوں میں پہننے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس جے ایم قاضی کی بینچ نے کہا کہ حجاب مذہب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اس لئے یہ عرضی منسوخ کردی جاتی ہے۔

      حجاب آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ایک بنیادی حق محفوظ ہے کہ نہیں اس بات پر کرناٹک ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنا تھا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے واضح حکم دیا کہ اسلام میں حجاب لازمی حصہ نہیں ہے، اس لئے اسکول میں اگر کوئی ڈریس کوڈ ہے تو بنیادی حق کا حوالہ دے کر کوئی اپنی مرضی کا ڈریس نہیں پہن سکتا۔ عدالت نے کہا کہ ہم نے حجاب موضوع کو لے کر دونوں فریق کی باتیں سنیں۔ ایک فریق کا سوال تھا کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کا حق آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت محفوظ ہے۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ اسکول کا یونیفارم آئینی طور پر رکاوٹ نہیں پیدا کرتا ہے کیونکہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

      کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا، 5 فروری کو کرناٹک کے سرکاری حکم کو غلط قرار دینے کے لئے کوئی معاملہ نہیں بنتا ہے۔ اس لئے اسکول میں ڈریس کوڈ نافذ کرنا آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: