உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں کشمیر : کئی سرغناوں کی ہلاکت سے ملی ٹینٹس بوکھلاہٹ کے شکار، پاکستان بھی رچ رہا نئی سازش

    جموں کشمیر : کئی سرغناوں کی ہلاکت سے ملی ٹینٹس بوکھلاہٹ کے شکار، پاکستان بھی رچ رہا نئی سازش

    Jammu and Kashmir News : ایس پی وید نے کہا کہ پاکستان ماضی میں کٹھوعہ اور سانبہ سیکٹروں میں زیر زمین ٹنل کھود کر دراندازوں کو اس پار دھکیلنے کی کوشش کرتا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹنلوں کے ذریعہ پاکستان ہتھیار اور گولہ بارود بھی اسمگل کرنے کا مرتکب رہا ہے ۔ تاہم کچھ عرصے سے اب پاکستان زیر زمین راستوں کی بجائے فضائی راستوں کا استعمال کر رہا ہے ۔

    • Share this:
    Jammu and Kashmir News : جموں و کشمیر میں ملی ٹینٹوں کے خلاف حفاظتی عملہ کی کامیاب کارروائیاں جاری ہیں ۔ ان کاروائیوں کے دوران کشمیر وادی میں کئی سرغنہ ملی ٹینٹوں کو ہلاک کیا گیا۔ ہفتہ کے روز ایسے ہی ایک کامیاب آپریشن میں حفاظتی عملے نے جیش کے  مطلوب پاکستنی دہشتگرد عرف  Mohd Ismal Alvi لمبو کو ہلاک کر دیا ۔ اطلاعات کے مطابق لمبو جیش محمد کے سربراہ کا قریبی رشتہ دار تھا اور وہ پلوامہ حملے میں ملوث بتایا جارہا ہے ۔ وہیں دوسری جانب حفاظتی عملہ نے آج راجوری پونچھ شاہراہ پر ایک بارودی سرنگ کو وقت رہتے ناکام بنادیا اور ایک بڑے حادثے کو ٹال دیا ۔

    کشمیر وادی میں ملی ٹینٹوں پر حفاظتی عملہ کے بڑھتے دباو کے پیش نظر گزشتہ چند ماہ سے جموں خطے میں بھی ملی ٹینٹ سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خطہ کے بین الا اقوامی سرحد اور کنٹرول لائن سے متصل علاقوں میں ملی ٹینٹوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں میں اضافہ سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان جموں خطے کے راستے دہشت گردوں کو جموں و کشمیر میں دھکیلنے کی کوششیں کر رہا ہے اور وہ جموں و کشمیر میں موجود دہشت گردوں کو ہتھیار بیجنے کی م‍ذموم سازش کو انجام دینے کی فراق میں ہے ۔

    جموں و کشمیر کے سابق ڈی جی پی ایس پی وید کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کنٹرول لائن اور سرحد پر جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنانے سے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ خطہ میں امن کی فضا قائم کرنے کا خواہشمند ہے ۔ تاہم وہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی اپنی پرانی پالیسی پر اب بھی کاربند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع نیز اکھنور میں بین الا اقوامی سرحد اور راجوری اور پونچھ اضلاع میں کنٹرول لائن کے اس پار ملی ٹینٹوں کے عارضی لانچنگ پیڈ قائم کئے ہیں اور وہ ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ ان دہشت گردوں کو ہندوستان کے علاقے میں کب اور کیسے داخل کرایا جاسکے ۔

    ایس پی وید نے کہا کہ پاکستان ماضی میں کٹھوعہ اور سانبہ سیکٹروں میں زیر زمین ٹنل کھود کر دراندازوں کو اس پار دھکیلنے کی کوشش کرتا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  ان ٹنلوں کے ذریعہ پاکستان ہتھیار اور گولہ بارود بھی اسمگل کرنے کا مرتکب رہا ہے ۔ تاہم کچھ عرصے سے اب پاکستان زیر زمین راستوں کی بجائے فضائی راستوں کا استعمال کر رہا ہے ۔ ایس پی وید نے کہا کہ پاکستان اب ڈرون کے ذریعہ ہتھیار اور گولی بارود جموں و کشمیر میں داخل کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ڈرونز کا استعمال جموں خطے میں ہی کیوں کیا جارہا ہے ؟ ایس پی وید نے کہا چونکہ جموں خطے کے کٹھوعہ ، سانبہ اور اکھنور علاقے زیادہ تر میدانی علاقے ہیں ، لہذا یہاں ڈرون کا استعمال کرنا آسان رہتا ہے ۔ جبکہ راجوری پونچھ اور کشمیر کے بیشتر سرحدی علاقے جنگلاتی علاقے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اوڑی ، کپواڑہ ، راجوری اور پونچھ کے علاقوں میں ڈرونز کے ذریعہ ہتھیار اس پار بھیجنا کافی مشکل ہے ۔ لہذا پاکستان ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لئے ڈرونز کا استعمال جموں خطے میں ہی کر رہا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش رہے گی کہ وہ آئندہ دو تین ماہ میں سرحدوں اور کنٹرول لائن پر دراندازی کی کوششوں میں مزید تیزی لائے گا ۔ کیونکہ وہ پہاڑی علاقوں میں برفباری ہونے سے قبل ہی زیادہ سے زیادہ دہشت گردوں کو جموں و کشمیر میں داخل کرنا چاہتا ہے ۔ ایس پی وید نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے سے پاکستان بوکھلا گیا ہے اور اس کی یہ کوشش رہے گی کہ جموں و کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول قائم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ  جموں و کشمیر میں مستقبل قریب میں اسمبلی انتخابات کے بارے میں ہورہے تذکرے سے بھی پاکستان پریشان ہے ۔ لہذا وہ اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا ۔

    انہوں نے کہا کہ ان خدشات کے پیش نظر سیاسی لیڈروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایس پی وید کے مطابق جہاں سرحدوں اور کنٹرول لائن پر مزید چوکسی برتنے کی ضرورت ہے تو وہیں جموں و کشمیر میں ملی ٹینٹوں کے خلاف آپریشن آل آوٹ کو مزید شدت کے ساتھ جاری رکھنا لازمی ہے ۔

     
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: