உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دودھ پتھری بڈگام سیاحوں کے لئے بحال، سیاح اسے سوتزر لینڈ سے کر رہے ہیں تعبیر

     برف جوں ہی ہٹائی گئی تو سیاحوں کی آمد بھی دودھ پتھری میں شروع ہوئی۔یہ سیاح قدرتی نظاروں سے مالا مال دودھ پتھری میں خوب لطف اندوز پو رہے ہیں۔

    برف جوں ہی ہٹائی گئی تو سیاحوں کی آمد بھی دودھ پتھری میں شروع ہوئی۔یہ سیاح قدرتی نظاروں سے مالا مال دودھ پتھری میں خوب لطف اندوز پو رہے ہیں۔

    برف جوں ہی ہٹائی گئی تو سیاحوں کی آمد بھی دودھ پتھری میں شروع ہوئی۔یہ سیاح قدرتی نظاروں سے مالا مال دودھ پتھری میں خوب لطف اندوز پو رہے ہیں۔

    • Share this:
      عابدحسین۔ بڈگام

      دودھ پتھری بڈگام سیاحوں کے لئے بحال، سیاح اسے تعبیر کر رہے ہیں سوتزر لینڈ سے عابد حسین،بڈگام وادی بھر میں گزشتہ ہفتے بھاری برفباری ہوئی۔ برفبافی کے بعد کئی دور دراز علاقوں کے رابطے منقطع ہوگئے۔ وہیں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں قائم مشہور سیاحتی مقام دودھ پتھری بھی بند پڑی تھی۔ دودھ پتھری میں چار فٹ سے زائد برف جمع ہوئی جسکے بعد وہاں جانے والا راستہ بند ہو گیا تھا۔ ایسے میں اس سیاحتی مقام پر کوئی آتا جاتا نہ تھا۔ لیکن اب دس دن گزر جانے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور دودھ پتھری جانے والے راستوں سے برف ہٹایا گیا۔

      برف جوں ہی ہٹائی گئی تو سیاحوں کی آمد بھی دودھ پتھری میں شروع ہوئی۔یہ سیاح قدرتی نظاروں سے مالا مال دودھ پتھری میں خوب لطف اندوز پو رہے ہیں۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دودھ پتھری کو اتنا فروغ نہیں ملا ہے لیکن اسکے باوجود یہ جگہ بیت خوبصورت ہے۔ کرناٹک سے آئے ایک سیاح کا کہنا تھا، "یہاں پر یہ حسین نظارے دیکھ کر کافی خوشی ہوئی، میں کشمیر پہلی بار آیا ہوں اور پہلے ہی دن میں ان قدرتی نظاروں کو دیکھ کر مطمئن ہوگیا ہے، وہ جب کہتے ہیں کشمیر جنت ہے وہ سچ کہتے ہیں"۔ بعض سیاحوں نے تو دودھ پتھری کو سوتزرلینڈ سے تعبیر کیا۔

      انہوں نے کہا کہ دودھ پتھری سوتزرلینڈ جیسا خوبصورت یے۔ "میں ملک کے شہریوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کی آپ اگر سوتزر لینڈ جانا چاہتے ہیں تو اپنے شوق پورے کرنے کے لئے دودھ پتھری آئے اور اپنے شوق پورے کریں"، ان باتوں کا اظہار چنئی سے آئی ہرشا ورما نے کیا۔ ہرشا نے کہا وہ ایک میک اپ آرٹسٹ ہے اور یہاں یہ نظارے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی"۔ ہرشا کا مزید کہنا تھا کہ اگر سرکار اس دودھ پتھری کی طرف توجہ دیں تو دنیا بھر میں ایسی کوئی دوسری جگہ نہیں ہو سکتی۔

      واضح رہے دودھ پتھری شہر سرینگر سے محض چالیس کیلومیٹر کی دوری پر واقع ہے وہیں سرینگر ایئرپورٹ سے قریب پچیس کیلومیٹر دور ہے۔ ایسے میں اگر اس جگہ کو مزید فروغ دیا جائے اور سیاحوں کے لئے یہاں سہولت دستیاب رکھی جائے تو یہاں کافی تعداد میں سیاح آئیں گے اور مقامی افراد کے لئے بھی روزگار کے ذرائع فراہم ہونگے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: