உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر میں نیم فوجی عملے کے مزید 5 ہزار جوان کئے جائیں گے تعینات، یہ ہے بڑی وجہ

    جموں و کشمیر میں نیم فوجی عملے کے مزید 5 ہزار جوان کئے جائیں گے تعینات، یہ ہی بڑی وجہ

    جموں و کشمیر میں نیم فوجی عملے کے مزید 5 ہزار جوان کئے جائیں گے تعینات، یہ ہی بڑی وجہ

    Jammu and Kashmir News : وادی کشمیر میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھے جانے کے پیش نظر مرکزی سرکار نے یوٹی میں نیم فوجی عملے کے مزید پانچ ہزار جوان تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    • Share this:
    سری نگر : وادی کشمیر میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھے جانے کے پیش نظر مرکزی سرکار نے یوٹی میں نیم فوجی عملے کے مزید پانچ ہزار جوان تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے دو ہزار پانچ سو جوان سی آر پی ایف جبکہ دیگر دو ہزار پانچ سو جوان بی ایس ایف سے وابستہ ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق اضافی فورسیز تعینات کرنے کا فیصلہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے جموں و کشمیر کے حالیہ دورے کے دوران کیا گیا تھا ۔ تاکہ وادی میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے اور ان کی جانب سے عام لوگوں کی ہلاکتوں کی روک تھام کی جاسکے۔ سات اور آٹھ نومبر کوچوبیس گھنٹوں کے اندر ہی دہشت گردوں کی جانب سے ایک پولیس اہلکار اور عام شہری کو ہلاک کئے جانے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان اضافی فورسیز کو ایک ہفتے کے اندر ہی وادی میں تعینات کیا جائے گا۔

    سلامتی امور سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدم سے عام لوگوں میں احساس تحفظ پیدا ہوگا۔ جموں و کشمیر کے سابق ڈائیریکٹر جنرل پولیس ڈاکلٹر ایس پی وید نے کہا کہ حفاظتی عملے کے مزید جوان تعینات کرنے سے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی  نقل و حرکت پر روک لگائی جاسکتی ہے ، جس سے عام لوگ اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ محفوظ کر پائیں گے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا  کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے لازمی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مزید تیز کردئے جائیں تاکہ ان کی تعداد میں کمی واقع ہو۔

    ٹارگیٹ کلنگس کے واقعات میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد نہتے افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمیر کی مجموعی صورتحال میں کافی بہتری واقع ہوئی ہے ، جس کی وجہ پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بوکھلاہٹ کا شکار ہوئے ہیں ۔ لہذا انہوں نے کشمیر میں موجود دہشت گردوں کو ایک بار پھر عام لوگوں کا چُن چُن کر ہلاک کرنے کا حکم جاری کردیا۔ ایس پی وید کے مطابق انٹلی جنس ایجنسی اور پولیس کے درمیاں قریبی تال میل سے دہشت گردوں کے ان منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

    سابق ڈائیریکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی بین الااقوامی سرحد اور کنٹرول لائین پر  سخت چوکسی  برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اور آئی ایس آئی کی کوشش رہے گی کہ پہاڑی علاقوں میں زیادہ  برفباری ہونے سے قبل زیادہ سے زیادہ دہشت گردوں کو جموں و کشمیر میں داخل کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد اور کنٹرول لائین سے متصل علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز میں جموں کشمیر پولیس اور مقامی لوگوں کی مدد بھی لی جانی چاہئے۔ تاکہ دہشت گردوں کو ڈھیر کیا جاسکے۔ ایس پی وید نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کا سپیشن آپریشنز گروپ ایس او جی اور مقامی لوگھ جنگلی علاقوں کے بارے میں زیادہ  جانکاری  رکھتے ہیں لہذا وہ دہشت گردوں کے  خلاف کامیاب آپریشنز انجام دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

    ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں برفباری ہونے کے ساتھ ہی دہشت گرد میدانی علاقوں کا رُخ کریں گے کیونکہ پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت میں کمی آنے کے سبب ان کا وہاں رُکنا دشوار ہوتا ہے۔ انہوں نے سرکار کو مشورہ دیا کہ  وہ میدانی علاقوں میں حفاظتی عملے کی تعیناتی میں اضافہ کرے اور تلاشی کاروائیوں میں مزید سُرعت لائی جائے تاکہ دہشت گردوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے۔

    واضح رہے کہ اکتوبر ماہ کے دوران کشمیر وادی میں دہشت گردوں نے  گیارہ عام شہریوں کا قتل کیا ۔ ان میں جموں و کشمیر سے باہر رہنے والے چار مزدور بھی شامل ہیں۔ سات اور آٹھ نومبر کو سرینگر میں چوبیس گھنٹوں  کے اند ہی ٹارگیٹ کلنگ کے دو واقعات رونما ہونے کے سبب سرکار نے فیصلہ کیا ہے کہ اضافی فورسیز کو ایک ہفتے کے اندر ہی تعینات کیا جائے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: