ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

مذہبی ہم آہنگی کی مثال: کولگام میں کشمیری پنڈت کی آخری رسوم انجام دینے میں مقامی مسلمان رہے پیش پیش

ایک مقامی مسلمان نے بتایا 'ہم سب نے مل کر کشمیری پنڈت سریندر سنگھ کی آخری رسومات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا ایس خبریں پھیلائی جاتی ہیں کہ کشمیر میں آپسی بھائی چارہ ختم ہو رہا ہے۔ ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کے بھائی چارے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ہم اپنے پنڈت بھائیوں کے ساتھ مل کر یہاں اپنی زندگی گزر بسر کرنا چاہتے ہیں'۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 25, 2021 07:04 PM IST
  • Share this:
مذہبی ہم آہنگی کی مثال: کولگام میں کشمیری پنڈت کی آخری رسوم انجام دینے میں مقامی مسلمان رہے پیش پیش
ایک مقامی مسلمان نے بتایا 'ہم سب نے مل کر کشمیری پنڈت سریندر سنگھ کی آخری رسومات انجام دی ہیں۔

سیرنگر: جنوبی ضلع کولگام کے کاکرن میں مقامی مسلمانوں نے مذہبی ہم آہنگی، اتحاد، انسانیت نوازی اور کشمیریت کی عمدہ مثال قائم کی ہے جہاں وہ ایک معمر کشمیری پنڈت سریندر سنگھ کی آخری رسومات انجام دینے میں پیش پیش رہے۔ آخری رسومات میں بیسیوں مقامی افراد خاص کر نوجوانوں نے شرکت کی اور نم آنکھوں سے پنڈت کو رخصت کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کولگام کے کاکرن میں سریندر سنگھ کا یہ خاندان اُن سینکڑوں کشمیری پنڈت خاندانوں میں ایک ہے جو گذشتہ تین دہائیوں کے نامساعد حالات کے دوران بھی کشمیر میں ہی مقیم رہے اور اپنے ہمسایہ مسلم برادری کے دُکھ سُکھ میں شامل رہے۔ گذشتہ شام جب 75 سالہ سریندر سنگھ کا انتقال ہوا، تو اس گائوں کے بیسیوں مسلمان اُن کی آخری رسومات انجام دینے میں پیش پیش رہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ گذشتہ شام جب معمر سریندر سنگھ کے انتقال کرجانے کی خبر گائوں میں پھیل گئی تو درجنوں کی تعداد میں مرد، زن، بچے اور بوڑھے ان کے گھر پر پہنچ گئے۔

مقامی مسلمانوں نے جمعرات کو نہ صرف اپنے پنڈت بھائیوں کے شانہ بشانہ آنجہانی کی آخری رسومات سرانجام دیں بلکہ اُن کی ارتھی کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کے علاوہ چتا کو آگ لگانے کے لئے درکار لکڑی اور دوسری چیزیں مہیا کیں۔ آنجہانی کے ایک رشتہ دار گلزار سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کشمیری پنڈتوں اور مسلمانوں نے مل کر سریندر سنگھ کی آخری رسومات انجام دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا، 'ہم سب نے مل کر ان کی آخری رسومات ادا کر دی ہیں۔ یہاں کی مقامی مسلم برادری نے آخری رسومات کے لئے درکار ہر ایک چیز فراہم کی'۔ کشمیری پنڈت سریندر سنگھ کے ایک اور رشتہ دار نے بتایا 'ہمارے رشتہ دار سریندر سنگھ کی کل بارہ بجے موت واقع ہوئی۔ مقامی مسلمانوں نے رات کے دوران ہی لکڑی وغیرہ کا انتظام کیا۔ انہوں نے آخری رسومات ادا کرنے میں ہماری کافی مدد کی'۔


ایک مقامی مسلمان نے بتایا 'ہم سب نے مل کر کشمیری پنڈت سریندر سنگھ کی آخری رسومات انجام دی ہیں۔ جو پنڈت یہاں سے ہجرت کر چکے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ واپس آ جائیں۔ ہم ان کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کی زمین خالی پڑی ہے'۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'میڈیا میں۔ انہوں نے کہا  ایس خبریں پھیلائی جاتی ہیں کہ کشمیر میں آپسی بھائی چارہ ختم ہو رہا ہے۔ ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کے بھائی چارے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ہم اپنے پنڈت بھائیوں کے ساتھ مل کر یہاں اپنی زندگی گزر بسر کرنا چاہتے ہیں'۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں سال 1990 میں مسلح شورش شروع ہونے کے ساتھ ہزاروں پنڈت اپنے گھر چھوڑ کر بھارت کے مختلف حصوں میں مقیم ہوگئے۔ تاہم سینکڑوں کنبوں نے ہجرت نہیں کی اور یہیں مقیم رہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 25, 2021 07:04 PM IST