ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : جموں میں کورونا کے نئے ویریئنٹ کا انکشاف ، تیزی سے پھیل رہا انفیکشن

Jammu and Kashmir News : ڈاکٹر سودھن نے کہا کہ جموں میڈیکل کالج کی لیباریٹری میں جانچ شدہ 38 فیصد نمونوں میں یہ نیا ویرینٹ پایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا یہ نیا ویرینٹ معمول سے 22 فی صد زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : جموں میں کورونا کے نئے ویریئنٹ کا انکشاف ، تیزی سے پھیل رہا انفیکشن
جموں و کشمیر : جموں میں کورونا کے نئے ویریئنٹ کا انکشاف ، تیزی سے پھیل رہا انفیکشن

جموں و کشمیر: یو ٹی جموں کشمیر میں کورونا سے متعلق ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے کہ یہاں کے جموں میں وائرس کا ایک نیا ویرینٹ  پایا گیا ہے ، جس کی وجہ سے کورونا وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ جموں میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ششی سودھن کے مطابق جموں کے مختلف علاقوں سے متاثرہ افراد سے لئے گئے نمونوں سے معلوم ہوا کہ مارچ اور اپریل کے مہینے میں لئے گئے ان نمونوں میں نیا  B.1.617.2 وائرس موجود ہے، جو کافی تیزی سے پھیلتا ہے ۔ ڈاکٹر ششی سودھن نے کہا کہ اس بات کی تصدیق جمعہ کے روز ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں میڈیکل کالج میں نمونوں کی جانچ کرنے کے لیے ایک جدید سیٹ اپ قائم کیا گیا ہے ، جو مرکز میں متعلقہ وزارت کے ساتھ قریبی تال میل بنائے ہوئے ہے، جس کی بدولت اس نئے ویرینٹ کا پتہ چل پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا ویرینٹ ذیادہ تر جموں ڈویزن میں ہی پایا گیا ہے، جس کی وجہ سے جموں میں کووڈ متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔


ڈاکٹر سودھن نے کہا کہ جموں میڈیکل کالج کی لیباریٹری میں جانچ شدہ 38 فیصد نمونوں میں یہ نیا ویرینٹ پایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا یہ نیا ویرینٹ معمول سے 22 فی صد زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وبا کی پہلی لہر کے مقابلہ میں جموں ڈویژن میں کئی پورے خاندان متاثر ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر ششی سودھن نے کہا کہ جموں میڈیکل کالج کی لیباریٹری میں جانچ کئے گئے نمونوں سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ جموں ڈویزن میں پازیٹیوٹی ریٹ بھی کافی بڑھ گئی ہے۔


انہوں نے کہا کہ یہ ویریئنٹ 22 فیصدی زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے ، اسی لئے خاندانوں کے خاندان اکٹھے بیمار ہوئے اور پازیٹیوٹی ریٹ بھی کافی بڑھ گئی ۔ ہماری اپنی جی ایم سی کی لیباریٹری میں پازیٹیویٹی ریٹ لگ بھگ 35 سے 40 فیصدی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا ویریتنٹ پہلے مہاراشٹر ، گجرات ، دلی ، اترا کھنڈ اور چھتیس گڈھ میں بھی پایا گیا ہے ۔


ڈاکٹر ششی سودھن نے کووڈ ضابطہ اخلاق میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہیں برتنے کی لوگوں سے تاکید کی ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو زیادہ تر اپنے گھروں میں ہی رہنا چاہئے اور جو لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے گھروں سے باہر نکلتے ہیں ، انہیں ڈبل ماسک پہننے کے ساتھ ساتھ دیگر احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہئے ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جلد سے جلد ویکسین لگوائیں ۔

واضح رہے کہ نیشنل ہیلتھ مشن جموں و کشمیر کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 15 اپریل سے 12 مئی تک جو لوگ کووڈ وبا کی وجہ سے اپنی جان گنوا بیٹھے ، ان میں سے 93 فیصدی وہ مریض تھے ، جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی تھی ۔ جبکہ باقی ماندہ 7 فیصدی لوگوں نے صرف ویکسین کا ایک ڈوز لیا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 15, 2021 05:22 PM IST