ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں خطے میں سورج اگل رہا ہے آگ ، درجہ حرارت 45 ڈگری سلسیس کے قریب ، بجلی کی آنکھ مچولی سے پریشانیوں میں مزید اضافہ

Jammu and Kashmir News : شدید گرمی کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ تاہم نوکری پیشہ اور تجارت سے وابستہ افراد روزگار کمانے کے سلسلے میں گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہیں ۔

  • Share this:
جموں خطے میں سورج اگل رہا ہے آگ ، درجہ حرارت 45 ڈگری سلسیس کے قریب ، بجلی کی آنکھ مچولی سے پریشانیوں میں مزید اضافہ
جموں خطے میں سورج اگل رہا ہے آگ ، درجہ حرارت 45 ڈگری سلسیس کے قریب ، بجلی کی آنکھ مچولی سے پریشانیوں میں مزید اضافہ

جموں و کشمیر : جموں ڈویژن کے اکثر علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے شدید گرمی کی لہر جاری ہے ، جس سے عام لوگوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے ۔ جموں شہر میں گزشتہ کئی روز سے سورج جیسے آگ اگل رہا ہے ۔ نتیجہ کے طور پر دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔ 30 جون  جموں میں رواں موسم کا گرم ترین دن تھا ۔ بدھ کے روز جموں میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.9 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا ، جو معمول کے درجہ حرارت سے 5.2 ڈگری سیلسیس زیادہ ہے ۔


شدید گرمی کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ تاہم نوکری پیشہ اور تجارت سے وابستہ افراد روزگار کمانے کے سلسلے میں گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہیں ۔ اس کے علاوہ جو لوگ کسی اور مجبوری کی وجہ سے گھروں سے نکلتے ہیں ، وہ گرمی کی شدت اور اس کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقے اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جموں کے بازاروں میں تازہ پھلوں کا رس ، آئس کریم اور دیگر ٹھندی مشروبات کی دکانوں پر لوگوں کا جم غفیر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔


جموں کے ایک مقامی باشندے رویندر سنگھ نے نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں درجہ حرارت میں غیر متوقع اضافہ ہوا ہے ، جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گرمی کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے وہ گنے اور دیگر تازہ پھلوں کے رس کا استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں خطے میں بارش ہو تاکہ عام لوگوں کو گرمی سے راحت مل سکے ۔ جموں کی ایک دکان پر تازہ پھلوں کے رس کا مزہ لیتے ہوئے ایک اور عام شہری مندیپ نے کہا کہ وہ گرمی کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے کافی مقدار میں تازہ پھلوں کے رس کا استعمال کرتے ہیں۔


بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔ تاہم موجودہ موسمی حالات نے ایک طبقے کی خوشیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ جی ہاں! تازہ پھلوں کے رس کا کاروبار کرنے والے اور آئس کریم کی تجارت سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جموں کے گاندھی نگر علاقہ میں قائم ایک آئس کریم پارلر میں بحثیت منیجر کام کر رہے جتیندرا شرما نے نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آمدنی کا زیادہ دارومدار مئی سے اکتوبر ماہ تک کی تجارت پر ہی ہوتا ہے ، کیونکہ ان ہی ایام کے دوران عام لوگ آئس کریم وغیرہ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ۔

جہاں ایک طرف لوگ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے پریشان ہیں تو وہیں بجلی کی لگاتار آنکھ مچولی نے ان کی تکالیف مزید بڑھا دی ہیں ۔ گنیش سنگھ نامی جموں کے ایک مقامی باشندے نے نیوز18 سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ درجہ حرارت 43 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا ہے اور ایسے میں بجلی کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے ۔ تاہم بجلی کی مسلسل کٹوتی سے عام لوگ خاص طور پر بزرگ اور بچے پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیش نظر بجلی کی کٹوتی میں کمی کی جائے ۔ وہیں بجلی حکام نے اعتراف کیا کہ جموں کے کئی علاقوں میں اکثر اوقات بجلی سپلائی بند کرنی پڑتی ہے ، کیونکہ بجلی کی پیداوار اور مانگ میں کافی تفاوت ہے۔

ادھر محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ جموں میں آئندہ ایک ہفتے تک بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کے موسمی حالات میں آئندہ ایک ہفتے تک کوئ خاص تبدیلی ہونے کا امکان نہیں ہے ۔ ایسے میں جموں خطے کے لوگوں کو آئندہ کچھ دنوں تک کم و بیش اسی طرح کے درجہ حرارت کا سامنا رہے گا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 01, 2021 10:10 PM IST