ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر کا یہ 55 سالہ کرکٹر بنا لوگوں کیلئے مثال ، سوشل میڈیا پر جم کر ہورہی تعریف، جانئے کیوں

Jammu and Kashmir News : محمد ایوب نے 11 سال کی عمر سے کرکٹ کھیلنی شروع کی ۔ وہ کہتے ہیں کہ تب سے لیکر اب تک وہ کبھی بھی میدان سے باہر نہیں رہے ۔ اب تو ان کے دو بیٹے بھی کرکٹ کھیلتے ہیں اور اتوار کو تینوں گھر سے ایک ساتھ نکلتے ہیں اور میدان میں اپنے ہُنر آزماتے ہیں ۔

  • Share this:
کشمیر کا یہ 55 سالہ کرکٹر بنا لوگوں کیلئے مثال ، سوشل میڈیا پر جم کر ہورہی تعریف، جانئے کیوں
کشمیر کا یہ 55 سالہ کرکٹر بنا لوگوں کیلئے مثال ، سوشل میڈیا پر جم کر ہورہی تعریف، جانئے کیوں

سرینگر : کشمیر وادی کے ناربل علاقہ کے محمد ایوب عمر میں تو 55 سال کے ہیں لیکن میدان میں ان کی سرعت دیکھ کر کوئی بھی ان کی عمر کا اندازہ نہیں لگا سکتا ۔ محمد ایوب نے 11 سال کی عمر سے کرکٹ کھیلنی شروع کی ۔  وہ کہتے ہیں کہ تب سے لیکر اب تک وہ کبھی بھی میدان سے باہر نہیں رہے ۔ اب تو ان کے دو بیٹے بھی کرکٹ کھیلتے ہیں اور اتوار کو تینوں گھر سے ایک ساتھ نکلتے ہیں اور میدان میں اپنے ہُنر آزماتے ہیں ۔


ایوب کئی ٹیموں اور ٹورنامنٹوں میں کھیلتے رہے ہیں اور مقامی نوجوان کھلاڑیوں کے لئے ایک مثال ہیں اور مشعل راہ بھی ۔ ویسے تو محمد ایوب کو کئی لوگ ایک کھلاڑی کے طور جانتے تھے ، لیکن کچھ عرصہ قبل ایک اسپورٹس جرنلسٹ مشتاق احمد وار نے ان کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال دی اور ویڈیو وائرل ہوگئی ۔ مشتاق وار کا کہنا ہے کہ انھوں نے ویڈیو اس غرض سے بنایا تھا تاکہ مزید لوگ ان سے متاثر ہوکر کھیل اور ورزش میں دلچسپی لیں۔




محمد ایوب نہ صرف ایک اچھے بلے باز ہیں بلکہ اچھے گیند باز اور چُست فیلڈر بھی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اُنہیں ٹیم میں کبھی نہیں لگتا کہ وہ 55 سال کے ہیں اور کسی سے کم ہیں ۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ بینائی میں کچھ کمی ہوئی ہے ، جس کی وجہ سے ان کی بلے بازی میں اب دقتیں محسوس ہوتی ہیں ۔ وہ چست درست ہیں اور باقی لوگوں ، خاص طور سے نوجوانوں کو سپورٹس میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ تاکہ وہ بُری لت اور بُرے عادات سے دور رہنے کے ساتھ ساتھ صحت مند زندگی گذار سکیں ۔

کھیل کے میدان میں بھی یہ کرکٹر کبھی نماز قضا نہیں کرتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ نماز کا وقت آیا تو وہ میدان کے باہر نماز ادا کرتے ہیں ۔ کرکٹ میں اپنے شروعاتی دنوں کو یاد کرتے ہوئے ایوب کہتے ہیں کہ ان دنوں ایک ٹیم کو مشکل سے ایک بلا اور گیند مل جاتی تھی ، وہ بھی جب سبھی کھلاڑی پیسے جمع کرتے تھے ۔ انکا کہنا ہے آج کل ہر چیز میسر ہے ، بس دل میں لگن اور محنت کی ضرورت ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 03, 2021 09:52 PM IST