ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : شادیوں کی تقریبات سے غائب ہوئی رونق ، اب کچھ اس طرح ہورہی ہیں شادیاں

Jammu and Kashmir News : جموں کے پرکھو مائیگرنٹ کیمپ میں پھولوں سے سجی کار میں ماسک پہنے ونود رینہ نامی اس دولہے کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی ہوگی کہ زندگی کے اہم اور یادگار دن پر انہیں صرف چار باراتیوں کے ساتھ سسرال کی طرف روانہ ہونا پڑے گا ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : شادیوں کی تقریبات سے غائب ہوئی رونق ، اب کچھ اس طرح ہورہی ہیں شادیاں
جموں و کشمیر : شادیوں کی تقریبات میں رونقیں پھیکی ، اب کچھ اس طرح ہورہی ہیں شادیاں

جموں و کشمیر: بغیر بینڈ باجے کی بارات سے متعلق آپ نے شاید کبھی سنا یا پڑھا نہیں ہوگا۔ لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسی بارات کے بارے میں بتائیں گے جہاں دولہا بنا بینڈ باجے کے اپنے سسرال کی طرف چل پڑا۔  یہ کہانی ہے جموں کے پرکھو مائیگرنٹ کیمپ کی ۔ جموں کے پرکھو مائیگرنٹ کیمپ میں پھولوں سے سجی کار میں ماسک پہنے ونود رینہ نامی اس دولہے کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی ہوگی کہ زندگی کے اہم اور یادگار دن پر انہیں صرف چار باراتیوں کے ساتھ سسرال کی طرف روانہ ہونا پڑے گا ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسے محض چار افراد خانہ کے ساتھ ہی بغیر کسی بینڈ باجے کے جانا پڑا۔ وجہ۔۔۔ کورونا وبا سے پیدا شدہ حالات !


ونود کے افراد خانہ گزشتہ ایک برس سے ان کی شادی کے لیے کی جانے والی تیاریوں میں مصروف تھے۔ انہیں امید تھی کہ ان کے سبھی پڑوسی ، رشتہ دار ان کے لاڈلے بیٹے کی شادی کی تقریب کا حصہ بنیں گے۔ تاہم کووڈ کی وبا کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو پایا ۔ ونود کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے تمام دوستوں کو دعوت نامے بھی ارسال کئے تھے تاکہ وہ اس کی شادی کی تقریب کا حصہ بنیں اور ان کی خوشیوں میں اضافہ کریں ۔


نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے ونود نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہوں نے اپنے دوستوں کو ٹیلیفون کے ذریعہ ہی مبارکبادی کے پیغام پھیجنے کے لیے کہا ۔ دولہے نے کہا کہ میرے دوستوں نے تمام تیاریاں کر رکھی تھیں ۔ انہوں نے بارات میں جانے کیلئے اپنے لیے نئی ملوباست سے لیکر بینڈ باجے تک ہر تیاری مکمل کر دی تھی ۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ میری شادی کی تقریب کا حصہ بن کر اسے ایک یادگار دن بنائیں گے۔ تاہم موجودہ حالات کے چلتے ایسا ممکن نہیں ہو پایا۔


ونود رینہ نے کہا کہ انہیں زندگی بھر اس بات کا ملال رہے گا کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنی شادی کی تقریب پر بلانے سے قاصر رہا ۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا صرف لازمی ہی نہیں بلکہ ضروری بھی ہے ، کیونکہ وبا کو مزید پھیلنے سے روکنا ہم سب کا فرض اولین ہے۔ ونود رینہ جب اپنے چار رشتہ داروں پر مشتمل بارات لیکر اپنے سسرال واقع مٹھی جموں پہنچے تو وہاں بھی نظارہ کچھ مختلف نہیں تھا۔ روایت کے برعکس ان کے استقبال کے لئے بینکٹ ہال میں چند ہی لوگ موجود تھے۔

کشمیر کی صدیوں پرانی روایات کے مطابق دولہے کا کشمیری ون ون گا کر استقبال  تو کیا گیا، لیکن ون ون میں شامل خواتین کی تعداد کافی کم تھی ۔ استقبال کے بعد کشمیری پنڈتوں کی روایت کے مطابق شادی کے منڈپ میں دولہے ونود رینہ اور دلہن انوشا بٹ کی شادی کشمیری پنڈتوں کے روایتی اور مذہبی طریقے سے انجام دی گئی ۔ ونود کی اہلیہ انوشا نے کہا  انہیں اس بات کا ملال ہے کہ ان کے تمام عزیز و اقارب ان کی شادی کی تقریب میں شامل نہیں ہو پائے۔ تاہم نیا شادی شدہ جوڑا اس بات سے مطمئن ہے کہ دونوں خاندانوں نے کووڈ ضوابط کا خیال رکھ کر ذمہ دار شہری ہونے کا فرض ادا کیا۔

واضح رہے کہ یو ٹی کے تمام 20 اضلاع میں کورونا کرفیو نافذ العمل ہے اور یہ امتناعی احکامات فی الحال 18 مئی تک جاری رہیں گے۔ ان احکامات کے تحت شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی تعداد کو 25 افراد تک ہی محدود کر دیا گیا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 11, 2021 06:19 PM IST