உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: انتخابی تیاریوں کا باضابطہ آغاز، چیف الیکٹورل آفیسر نے اٹھائے یہ قدم

    جموں وکشمیر میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ کیونکہ چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) مرکز کے زیر انتظام علاقے میں جاری خصوصی سمری ریویژن (SSR) کے ایک حصے کے طور پر جلد ہی حتمی پولنگ اسٹیشنوں کی اشاعت شروع کریں گے جو 31 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوگا۔

    جموں وکشمیر میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ کیونکہ چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) مرکز کے زیر انتظام علاقے میں جاری خصوصی سمری ریویژن (SSR) کے ایک حصے کے طور پر جلد ہی حتمی پولنگ اسٹیشنوں کی اشاعت شروع کریں گے جو 31 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوگا۔

    جموں وکشمیر میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ کیونکہ چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) مرکز کے زیر انتظام علاقے میں جاری خصوصی سمری ریویژن (SSR) کے ایک حصے کے طور پر جلد ہی حتمی پولنگ اسٹیشنوں کی اشاعت شروع کریں گے جو 31 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوگا۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ کیونکہ چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) مرکزکے زیر انتظام علاقے میں جاری خصوصی سمری ریویژن (SSR) کے ایک حصے کے طور پر جلد ہی حتمی پولنگ اسٹیشنوں کی اشاعت شروع کریں گے جو 31 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوگا۔ حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت اور انتخابات میں استعمال ہونے والے VVPATs سول اور پولیس انتظامیہ کی سخت نگرانی میں کئی اضلاع میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور انہیں اسٹرانگ روم میں جمع کیا جا رہا ہے۔

    ایک متعلقہ پیش رفت میں، مرکزی وزارت داخلہ نے آج کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن آف انڈیا کا اختیار ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد جموں ڈویژن میں تقریباً 5600 اور کشمیر ڈویژن میں تقریباً 5400 ہونے کی امید ہے۔ جبکہ اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے عمل کے بعد جموں و کشمیر کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے جاری حکم کے مطابق خصوصی سمری نظرثانی 31 اکتوبر کو ختم ہو جائے گی۔

    حکام کو توقع ہے کہ جموں و کشمیر کے رائے دہندگان کی تعداد 85 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ تاہم، یہ محض عارضی اعداد و شمار ہیں، لیکن 85 لاکھ کے اعدادوشمارکو مدنظر رکھتے ہوئے تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جموں ڈویژن میں متوقع 5600 پولنگ اسٹیشنوں میں سے جموں ضلع میں تقریباً 1400 پولنگ اسٹیشنوں کا امکان ہے، جس کے بعد کٹھوعہ 639، ادھم پور 624، راجوری 614، پونچھ 451، ڈوڈہ 448، ریاسی 424، کشتواڑ 400، رام بن 3347 اور سانبہ 3347 ہیں۔ حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد کشمیر ڈویژن میں 5400 پولنگ اسٹیشن ہو سکتے ہیں۔

    ابتدائی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سری نگر میں 913 پولنگ اسٹیشن ہوں گے، جس کے بعد بارہمولہ میں 899، اننت ناگ میں 798، بڈگام میں 602، کپواڑہ میں 578، پلوامہ میں 459، کولگام میں 349، بانڈی پورہ میں 300، گاندربل میں 260 اور شوپیاں میں 245 پولنگ اسٹیشن ہوں گے۔ "جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔"

    یہ بھی پڑھیں۔

    Exclusive: پاکستان نے ‘مشن کشمیر‘ کے لئے پھر بنایا دہشت گرد گروپ، ریٹائر ISI آفیسر کا انکشاف

    عہدیداران نے کہا، یہ واضح ہےکہ خصوصی سمری نظرثانی تین سال کے وقفے کے بعد ہو رہی ہے۔ نیز، نظرثانی میں تین سال کے وقفے کی وجہ سے رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ کی توقع ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نظرثانی 2019 میں نہیں ہوئی تھی کیونکہ مرکزی حکومت کے 5 اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے فیصلوں کے نتیجے میں کچھ وقت کے لئے پابندیاں عائد کردی گئی تھیں اور نظام میں تبدیلی آئی کیونکہ اس وقت ریاست کو مرکزکے زیرانتظام دو علاقوں (جموں و کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کیا گیا تھا۔

    نظر رسانی کا یہ عمل 2020 اور 2021 میں بھی نہیں ہوا کیونکہ جموں و کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے لئے جاری عمل کی وجہ سے حد بندی کمیشن کے معیاد میں کئی بار توسیع کرنی پڑی جس وجہ سے نظر رسانی کا عمل تاخیر کا شکار ہوا۔ چونکہ اب جبکہ یہ سارا عمل مکمل ہوچکا ہے امید کی جارہی ہے کہ جموں کشمیر بھی اب کبھی بھی الیکشن کا بگل بج سکتا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: