ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : بڈگام میں آزاد امیدوار کے چیئرمین بننے پر عمر عبد اللہ کا شدید رد عمل ، کیا یہ بڑا اعلان

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا دعویٰ ہے کہ ضلع بڈگام میں پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے پاس ڈی ڈی سی ممبروں کی اکثریت ہونے کے باوجود ایک آزاد امید وار کو چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگلے ہفتے اس 'غیر جمہوری عمل' کے خلاف عدالت کا دروازہ کٹھکٹھائیں گے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 13, 2021 08:30 PM IST
  • Share this:
جموں و کشمیر : بڈگام میں آزاد امیدوار کے چیئرمین بننے پر عمر عبد اللہ کا شدید رد عمل ، کیا یہ بڑا اعلان
جموں و کشمیر : بڈگام میں آزاد امیدوار کے چیئرمین بننے پر عمر عبد اللہ کا شدید رد عمل ، کیا یہ بڑا اعلان

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا دعویٰ ہے کہ ضلع بڈگام میں پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے پاس ڈی ڈی سی ممبروں کی اکثریت ہونے کے باوجود ایک آزاد امید وار کو چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگلے ہفتے اس 'غیر جمہوری عمل' کے خلاف عدالت کا دروازہ کٹھکٹھائیں گے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ پر اس ضمن میں لوگوں کو دھمکیاں دینے کا بھی الزام لگایا ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کیا جن میں سے ایک ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے ضلع کے آٹھ ڈی ڈی سی ممبروں کے ساتھ ایک تصویر بھی پوسٹ کی تھی۔


انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کا قتل ہو رہا ہے۔ میں ضلع بڈگام کے آٹھ ڈی ڈی سی ممبروں سے ملا ہمارے ساتھ الائنس کے ایک رکن جاوید مصطفیٰ میر کا بھی ایک ڈی ڈی سی ممبر ہے ۔ کل ملا کر ہمارے پاس 14 میں سے 9 ڈی ڈی سی ممبران ہیں ، لیکن پھر بھی ایک آزاد امیدوار کو چیئرمین بنایا گیا ۔ دوسرے ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ضلع انتظامیہ کی صریح مداخلت سے ہوا جس نے لوگوں کو دو برسوں تک بند رکھنے کے اختیارات ہونے کی دھمکیاں دیں ۔ ہم اگلے ہفتے اس غیر جمہوری عمل کے خلاف عدالت کا دروازہ کٹھکٹھائیں گے ۔ بتادیں کہ ضلع بڈگام میں آزاد امیدوار نذیر احمد خان کو ڈی ڈی سی چیئرمین منتخب کیا گیا ہے ۔


ادھر نیشنل کانفرنس ترجمان کے مطابق عمر عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر بڈگام کے نو ڈی ڈی سی ممبران سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ڈی ڈی سی چیئرمین انتخابات میں 'خالق ڈی سی' کی روایت دہرائی گئی ، جس سے جمہوریت پھر ایک بار شرمسار ہوئی اور موقع پرست اور ابن الوقت افراد نے دن دہاڑے اس کا جنازہ نکالا۔ انہوں نے کہا کہ بڈگام میں نیشنل کانفرنس کے اپنے 8 ڈی ڈی سی ممبران ہیں اور اتحاد کے ایک سمیت ہمیں 9 ممبران کی حمایت حاصل تھی جبکہ ہمارے مدمقابل امیدوار کو 5 کی حمایت حاصل تھی اور اس کے باوجود بھی واضح اکثریت والوں کو ہرایا گیا ۔


اُن کا کہنا تھا کہ بڈگام کے ڈی ڈی سی چیئرمین کے انتخاب میں انتظامیہ نے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائیں۔ ایسا ہی کچھ شوپیاں میں بھی کیا گیا۔ عمر عبداللہ نے ڈی ڈی سی ممبران کو ہدایت کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے قانونی اور جمہوری جدوجہد کریں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 13, 2021 08:25 PM IST