உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر: اس دیوالی پر جموں کی ضلع جیل کے قیدی محبت اور بھائی چارے کا دیں گے پیغام

    جموں و کشمیر: اس دیوالی پر جموں کی ضلع جیل کے قیدی محبت اور بھائی چارے کا دیں گے پیغام

    جموں و کشمیر: اس دیوالی پر جموں کی ضلع جیل کے قیدی محبت اور بھائی چارے کا دیں گے پیغام

    Jammu and Kashmir News : دیوالی کے موقع پر جموں کی ضلع جیل کے قیدی بند دیواروں کے پیچھے سے موم بتیوں کے ذریعہ محبت اور بھائی چارے کا پیغام پھیلائیں گے۔ انہیں مختلف رنگوں، سائز اور اشکال میں بنا کر قیدی ایک دن میں سینکڑوں موم بتیاں بنا رہے ہیں اور انہیں صارفین کے لیے مزید پرکشش بنانے کے لیے انہیں سجیلا انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

    • Share this:
    جموں : اس دیوالی کے موقع پر جموں کی ضلع جیل کے قیدی بند دیواروں کے پیچھے سے موم بتیوں کے ذریعہ محبت اور بھائی چارے کا پیغام پھیلائیں گے۔  انہیں مختلف رنگوں، سائز اور اشکال میں بنا کر قیدی ایک دن میں سینکڑوں موم بتیاں بنا رہے ہیں اور انہیں صارفین کے لیے مزید پرکشش بنانے کے لیے انہیں سجیلا انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ جموں کی اس ضلع جیل کے قیدی اس وقت کئی دنوں سے رنگ برنگی اور پرکشش موم بتیاں بنانے میں مصروف ہیں۔  جیل حکام کی ہدایت کے مطابق یہ جیل کے قیدی مختلف قسم کی موم بتیاں اور مٹی کے چراغوں کی موم بتیاں بنا کر تیار کر رہے ہیں جنہیں پھر عام لوگوں کو فروخت کرنے کے لیے بازار میں بھیجا جا رہا ہے۔

    یہ موم بتیاں اور دیوالی سے متعلق دیگر اشیا تیار کرنے والے قیدی کئی جرائم میں ملوث پائے جانے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔  لیکن اب وہ بھی جیل سے رہائی کے بعد اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور کارآمد شہری بننا چاہتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ ان سب نے پہلے ہی باطن کی اصلاح کی کوشش کی ہے اور اس طرح موم بتیاں اور دیگر متعلقہ اشیا تیار کرنے کا ہنر سیکھا ہے۔  ظاہر ہے وہ دیوالی کے موقع پر اپنے گھر والوں سے دور ہیں اور اس بات کا غم انہیں ستا رہا ہے ، لیکن وہ خوش ہیں کہ جیل میں ان کی بنائی ہوئی موم بتیوں سے بہت سے گھر روشن ہوں گے۔

    جیل کے ایک قیدی نے بتایا کہ میں نے گزشتہ کئی سالوں سے دیوالی اپنے گھر والوں سے دور رہ کر منائی ، لیکن آج مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جیل انتظامیہ نے ہمیں دیوالی کے موقع پر چراغ اور موم بتیاں بنانے کا کام سونپا۔ یہ کام کر کے ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ شاید ہمارے ہاتھوں کی بنائی ہوئی موم بتیاں اور چراغ ہمارے گھروں کی دہلیز تک پہنچے۔

    ایک اور قیدی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس امید سے یہ کام کر رہے ہیں کہ شاید میرے ہاتھوں سے بنا ہوا دیا میرے گھر تک پہنچے اور جب یہ دیا جلے تو اس کی روشنی سے  میرے گھر والوں کی زندگی میں خوشیاں بھر آئیں اور میرے دل کو یہ سکون ملے گا کہ اس دیوالی پر میں نہ سہی لیکن میرے ہاتھ کا بنا ہوا دیا میرے گھر کو روشن کر رہا ہے۔ اس دیوالی پہ میں اوپر والے سے دعا کرتا ہوں کہ میں جلد سے جلد یہاں سے آزاد ہوکر اپنے گھر والوں کے پاس جاؤں اور ایک نئی زندگی شروع کروں۔

    جیل کے ایک اور قیدی نے کہا کہ جب سے میں قید ہوا ہوں تب سے لے کر میرے ذہن میں بہت ساری ایسی باتیں گھومتی تھیں ، جس سے مجھے اپنی زندگی بوجھ سے کم نظر نہیں آرہی تھی ۔ ہر وقت یا تو یہاں سے باہر نکلنے کی دعا کرتا تھا یا تو اسی چاردیواری میں اپنی زندگی ختم کرنے کی دعا کرتا تھا۔ اس سے مجھے ڈپریشن اور بلڈپریشر جیسی بیماری لگ رہی تھی ، لیکن جب سے جیل انتظامیہ نے ہمیں چراغ اور موم بتیاں بنانے کا کام سونپا ، ہم پورے دن کام کرتے ہیں ، آپس میں ہنسی مذاق بھی کرتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ کب ہم اس چار دیواری سے باہر نکلیں اور محنت اور ایمانداری سے اپنی زندگی کی نئی شروعات کریں ۔

    دوسری جانب جیل حکام کا کہنا ہے کہ وہ جیل کے قیدیوں کی ذہنیت کو منفی سے مثبت میں تبدیل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ جیل کے قیدی دن رات شفٹوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مارکیٹ میں ان کی بنی ہوئی موم بتیوں اور مٹی کے چراغ کی بہت زیادہ مانگ ہے اور لوگ انہیں بڑی تعداد میں خرید رہے ہیں۔

    یہاں تک کہ کووڈ وبا کے دوران جموں کی جیلوں میں قیدیوں نے ماسک اور دیگر مصنوعات تیار کرنے کے لیے بہت زیادہ تعاون کیا۔ جیل صدر کی طرف سے شروع کئے گئے اصلاحاتی عمل کے کامیاب نتائج برآمد ہو رہے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: