உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: سخت پولیس بندوبست کے باوجود PAGD لیڈروں کا احتجاج ، این سی نے کہا : موجودہ حکومت برطانوی راج سے بھی بدتر

    J&K News: سخت پولیس بندوبست کے باوجود PAGD لیڈروں کا احتجاج ، این سی نے کہا : موجودہ حکومت برطانوی راج سے بھی بدتر

    J&K News: سخت پولیس بندوبست کے باوجود PAGD لیڈروں کا احتجاج ، این سی نے کہا : موجودہ حکومت برطانوی راج سے بھی بدتر

    Jammu and Kashmir News : سرینگر (Sirnagar) میں آج پولیس کے سخت پہرے کے باوجود پی اے جی ڈی (PAGD) میں شامل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) اور نیشنل کانفرنس (NC) کے کچھ ارکان نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    • Share this:
    سری نگر : سرینگر (Sirnagar) میں آج پولیس کے سخت پہرے کے باوجود پی اے جی ڈی (PAGD) میں شامل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) اور نیشنل کانفرنس (NC) کے کچھ ارکان نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ حالانکہ پولیس نے پی اے جی ڈی کے احتجاجی مارچ کے اعلان کے مدنظر صبح سویرے ہی پی اے جی ڈی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ (Farooq Abdullah) ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی (Mehbooba Mufti) اور پی اے جی ڈی کے ترجمان ایم وائی تاریگامی کی رہائش کے باہر گاڑیاں بیٹھا دی تھیں اور انھیں باہر آنے کی اجازت نہیں دی لیکن ان پابندیوں کے باوجود کچھ ورکرس اور لیڈرس احتجاج کرنے میں کامیاب رہے۔ پی ڈی پی ارکان کا ایک گروپ لال چوک بنڈ سے برآمد ہوا اور نعرے بازی کرنے لگا ۔ پہلے سے وہاں موجود پولیس نے انھیں روکا اور آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔

    اس کے بعد نیشنل کانفرنس کے صدر دفتر نوائے صبح میں کچھ لیڈران اور ورکرس جمع ہوئے اور احتجاج درج کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے صوبائی نائب صدر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ احتجاج درج کرانا جمہوری حق ہے ، لیکن موجودہ حکومت اس کی بھی اجازت نہیں دے رہی ۔ ناصر اسلم وانی نے کہا کہ موجودہ حکومت برطانوی راج سے بھی بد تر ہے ، کیونکہ ان کے مطابق برطانوی حکومت کے دور میں بھی پر امن احتجاج کی اجازت ملتی تھی ۔ انھوں نے پی اے جی ڈی لیڈروں کو گھروں میں بند رکھنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔

    پی اے جی ڈی نے 21 دسمبر کو جموں میں میٹنگ کے دوران یکم جنوری کو جموں کشمیر حد بندی کمیشن کی تجاویز کے خلاف پر امن احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہی کہ حد بندی کمیشن نے کشمیر میں ایک اور جموں میں سات اسمبلی نشستیں بڑھانے کی تجویز رکھی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے کمیشن کی پچھلی میٹنگ میں شمولیت کی لیکن میٹنگ کے بعد اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ خبروں کے مطابق نیشنل کانفرنس نے اپنے اعتراضات کمیشن کو پیش کئے ہیں ، جس میں اطلاعات کے مطابق کمیشن قائم کرنے کو ہی غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    نیشنل کانفرنس شروع سے ہی کہتی رہی ہے کہ حد بندی کمیشن کا قیام جموں و کشمیر میں الگ سے قائم نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ پورے ملک میں حدبندی 2026 میں ہونی ہے اور جموں و کشمیر میں الگ سے کمیشن کا قیام اور حد بندی ایک جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا جارہا ہے۔

    نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے شروع میں کمیشن کے اجلاس میں شرکت نہیں کی لیکن پچھلی مرتبہ اس میں شامل ہوئے جس پر مخالف جماعتوں نے ان کی خوب تنقید کی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: