ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : پی اے جی ڈی نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کا پھر اٹھایا معاملہ ، کہی یہ بات

Jammu and Kashmir News : پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلیریشن نے ایک بار پھر دفعہ 370 اور 35 اے کی بحالی کا معاملہ اٹھایا ہے ، جس سے جموں و کشمیر میں ایک نئی سیاسی بحث کا آغاز ہوگیا ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : پی اے جی ڈی نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کا پھر اٹھایا معاملہ ، کہی یہ بات
جموں و کشمیر : پی اے جی ڈی نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کا پھر اٹھایا معاملہ ، کہی یہ بات

جموں و کشمیر : پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلیریشن نے ایک بار پھر دفعہ 370 اور 35 اے کی بحالی کا معاملہ اٹھایا ہے ، جس سے جموں و کشمیر میں ایک نئی سیاسی بحث کا آغاز ہوگیا ہے ۔ پی اے جی ڈی کی جانب سے اتوار کی شام دیر گئے لگ بھگ 2 گھنٹہ طویل میٹنگ میں جموں و کشمیر کے تشخص اور خصوصی پوزیشن کے عزم کو دہرایا گیا ۔ اتحاد کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی نے 5 جولائی یعنی پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کی شام منعقدہ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں 24 جون کو ہوئی کل جماعتی میٹنگ کے بارے میں تفصیلی غور و خوض کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر سے متعلق لئے گئے فیصلے کو واپس لینے کیلئے سیاسی اور قانونی سطح پر جدوجہد جاری رکھنے کا عہد دہرایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں وزیراعظم کے ساتھ نئی دہلی میں منعقدہ کل جماعتی میٹنگ کے بعد ٹھوس نتائج سامنے نہ آنے پر مایوسی کا اظہار کیا گیا ۔


پی اے جی ڈی کی میٹنگ میں بنیادی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات بشمول مرکز کی طرف سے جموں و کشمیر کے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے بارے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر اتحاد کے لیڈران نے مایوسی ظاہر کی ۔ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے سے متعلق معاملے کے بارے میں یوسف تاریگامی نے کہا کہ میٹنگ میں بتایا گیا کہ بی جے پی نے ایوان میں یہ وعدہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دیا جائے گا اور اسے اپنا وعدہ نبھانا چاہئے ۔ محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ وعدے کے مطابق جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرنے سے پہلے یوٹی کو مکمل ریاست کا درجہ دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ پی اے جی ڈی میں شامل سیاسی جماعتیں اس بارے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ صلاح مشورے کا سلسلہ شروع کریں گی ۔


پی اے جی ڈی کی طرف سے دفعہ 370 اور 35 اے کی بحالی کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات سے قبل یوٹی کو دوبارہ ریاست کا درجہ دئے جانے کے بیان پر مختلف سیاسی جماعتوں نے الگ الگ ردعمل کا اظہار کیا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے چونکہ دفعہ 370 اور 35 اے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہذا سبھی سیاسی پارٹیوں کو عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے ۔ بی جے پی کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ان دفعات کو دوبارہ بحال کرنے کے حق میں نہیں ہے ۔ تاہم مرکز جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کر چکا ہے اور موزوں وقت آنے پر یہ فیصلہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پی اے جی ڈی کو بار بار اپنے بیانات بدلنے سے گریز کرنا چاہئے ۔


کانگریس پارٹی کے ترجمان رویندر شرما نے نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو بھی یہ امید تھی کہ کل جماعتی میٹنگ کے بعد جموں و کشمیر میں زمینی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات کئے جایئں گے ، لیکن اس بارے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کے معاملہ کو اسمبلی انتخابات کے ساتھ جوڑنا اچھی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو جلد از جلد اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے یوٹی کا ریاستی درجہ بحال کرنا چاہئے ۔

وہیں جموں کشمیر اپنی پارٹی کا کہنا ہے کہ پی اے جی ڈی میں شامل سیاسی جماعتیں سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے بیانات اکثر بدلتی رہتی ہیں ۔ نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے جنرل سیکرٹری وکرم ملہوترا نے کہا کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس نے ماضی قریب میں بلدیاتی انتخابات سے دور رہنے کی بات کہی تھی ۔ تاہم وہ اس فیصلے پر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ پائیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جماعتیں وقت کے مطابق بیانات بدلنے میں ماہر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اپنی پارٹی یوٹی کو دوبارہ ریاست میں تبدیل کرنے کی ہمیشہ وکالت کرتی آئی ہے ۔ تاہم اسمبلی انتخابات کو اسٹیٹ ہڈ کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں ہے۔

وہیں سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں اس معاملہ پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے متضاد بیانات جاری کئے جانے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 05, 2021 09:17 PM IST