ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : پی اے جی ڈی نے آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کی حامی بھری ، مگر الاپا پرانا راگ ، جانئے کیوں

Jammu and Kashmir News : پی اے جی ڈی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس اتحاد میں شامل تمام پارٹیوں کے نمائندے ذاتی طور پر اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل جماعتی میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ میٹنگ میں جن بھی مدعوں پر بات ہوگی ، وہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے عام لوگوں کے سامنے رکھے جائیں گے۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : پی اے جی ڈی نے آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کی حامی بھری ، مگر الاپا پرانا راگ ، جانئے کیوں
جموں و کشمیر : پی اے جی ڈی نے آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کی حامی بھری ، مگر الاپا پرانا راگ ، جانئے کیوں

جموں و کشمیر : پی اے جی ڈی میں شامل پارٹیوں نے رواں ماہ کی 24 تاریخ کو دہلی میں جموں و کشمیر سے متعلق معاملات کے تناظر میں وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے طلب کی گئی میٹنگ میں شریک ہونے کا فیصلہ لینے کے ساتھ ہی پی ڈی پی اور اتحاد میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کی شرکت کے تعلق سے تمام چہ گوئیاں ختم ہو چکی ہیں ۔ منگل کے روز سرینگر میں لگ بھگ دو گھنٹے طویل میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ پی اے جی ڈی میں شامل پارٹیوں کے جن لیڈران کو کل جماعتی میٹنگ کے تعلق سے دعوت نامے موصول ہوئے ہیں ، وہ ذاتی طور پر اس میٹنگ کا حصہ بنیں گے ۔ میٹنگ کے اختتام پر پی اے جی ڈی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس اتحاد میں شامل تمام پارٹیوں کے نمائندے ذاتی طور پر اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل جماعتی میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ میٹنگ میں جن بھی مدعوں پر بات ہوگی ، وہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے عام لوگوں کے سامنے رکھے جائیں گے۔


جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے پوچھا گیا کہ ان کا موقف کیا ہے تو انہوں نے کہا " ہمارا موقف آپ کو معلوم ہے ، وہ ہے اور رہے گا۔" تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اس موقع پر کہا کہ ان کی جماعت بات چیت کے خلاف نہیں ہے ، تاہم مرکز کو چاہئے کہ وہ بنیادی سطح پر اعتماد بحال کرنے کے لیے بنیادی سطح پر اقدامات کرے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ سرکار کو جموں و کشمیر کے سیاسی قیدیوں کو رہا کر دینا چاہئے اور اگر اس میں کوئی دشواری ہے ، تو قیدیوں کو باہر کی جیلوں سے جموں و کشمیر کی جیلوں میں منتقل کیا جائے۔


پی اے جی ڈی کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ گپکار الائنس میں شامل مختلف پارٹیوں کے لیڈران جموں ، کشمیر اور لداخ کے عوام کی بات کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئین ہند میں جموں و کشمیر کو پہلے سے ہی ملی رعایتوں کو بحال کرنے سے متعلق اپنا موقف رکھیں گے۔ محبوبہ مفتی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کا اپنا موقف دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت کے خلاف نہیں ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ مرکزی سرکار مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے پاکستان سے بات چیت کرے۔


ادھر مرکزی سرکار پہلے ہی یہ بات واضح کر چکی ہے کہ دفعہ 370 اور 35 اے سے متعلق 5 اگست 2019 کو کیا گیا فیصلہ کسی بھی صورت میں بدلا نہیں جا سکتا ہے، ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر محبوبہ مفتی اور گپکار الائنس کے دیگر چند لیڈران نے کل جماعتی میٹنگ سے قبل ہی ایسے بیانات کیوں دئے ۔ اس بارے میں نیوز18 اردو نے جموں و کشمیر کے سینئر صحافی محمد سعید ملک سے جب بات چیت کی ، تو انہوں نے کہا چونکہ کشمیر سینٹرک ان سیاسی جماعتوں کے پاس عوام کو نیا کہنے کیلئے کچھ نہیں ہے ، لہذا یہ اپنے پرانے موقف پر ہی قائم ہیں۔ تاکہ انہیں تنقید کا نشانہ نہ بننا پڑے ۔

نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے محمد سعید ملک نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں یہ جماعتیں پلک جھپکتے ہی اپنا موقف تبدیل نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35 اے ہٹائے جانے نیز جموں و کشمیر کو یوٹی میں تبدیل کئے جانے کے بعد سے ہی یہ جماعتیں اس کی بحالی کی وکالت کرتی آئی ہیں ، اس لئے انہیں پرانا موقف دہرانا ان کی سیاسی مجبوری ہے۔

واضح رہے کہ بی جے پی ، کانگریس ، جموں و کشمیر اپنی پارٹی اور جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے بھی کل جماعتی میٹنگ میں شریک ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ 24 تاریخ کو وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں دہلی میں منعقد ہونے والی کل جماعتی میٹنگ میں کیا کچھ خاص دیکھنے کو ملے گا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 22, 2021 09:10 PM IST