உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان بنا رہا ہے تشدد کا نیا منصوبہ، شمالی کشمیر میں دہشت گردوں نے کی دراندازی : خفیہ ایجنسی

    پاکستان بنا رہا ہے تشدد کا نیا منصوبہ، شمالی کشمیر میں دہشت گردوں نے کی دراندازی : خفیہ ایجنسی (AP Photo/Mukhtar Khan)

    پاکستان بنا رہا ہے تشدد کا نیا منصوبہ، شمالی کشمیر میں دہشت گردوں نے کی دراندازی : خفیہ ایجنسی (AP Photo/Mukhtar Khan)

    Jammu and Kashmir News : سال 2013 کے بعد جنوبی کشمیر دہشت گردی کا گڑھ بن گیا تھا ، لیکن اب اس سال ہوئی دراندازی کے ساتھ شمالی کشمیر کے علاقوں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر:  جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بعد بدلی ہوئی صورت حال سے پاکستان بوکھلا گیا ہے۔ ترقی کی راہ پرگامزن کشمیر میں پاکستان ایک بار پھر تشدد پھیلانے کی سازش کر رہا ہے ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے سے نیوز 18 کو موصول ہونے والی جانکاری کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں شمالی کشمیر میں پاکستان کی جانب سے دراندازی ہوئی ہے ، جس کی وجہ سے مقامی دہشت گردوں کے مقابلہ میں غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔

      ذرائع نے بتایا کہ مئی اور اگست کے درمیان ایل او سی کے اس پار سے بڑی تعداد میں غیر ملکی دہشت گردوں نے دراندازی کی ہے ، جو آنے والے دنوں میں وادی میں دہشت گردانہ حملوں کو انجام دے سکتے ہیں ۔ ان دہشت گردوں کے نشانے پر سیکورٹی فورسز ، مقامی لیڈر اور سرپنچ ہوسکتے ہیں ۔

      ذرائع کے مطابق اس عرصہ کے دوران 65 سے زائد غیر ملکی دہشت گرد شمالی کشمیر میں دراندازی کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں ۔ پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے دہشت گردوں میں لشکر طیبہ ، جیش محمد اور البدر کے دہشت گرد شامل ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ دہشت گرد پی او کے کے لیپا ، جورا اور اٹھ مقام والے لانچ پیڈز سے دراندازی کرنے میں کامیاب ہوئے ۔

      سال 2013 کے بعد جنوبی کشمیر دہشت گردی کا گڑھ بن گیا تھا ، لیکن اب اس سال ہوئی دراندازی کے ساتھ شمالی کشمیر کے علاقوں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ بتادیں کہ شمالی کشمیر میں بارہمولہ ، بانڈی پورہ اور کپواڑہ شامل ہیں ۔

      سیکورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن کی وجہ سے اس سال کے آغاز میں غیر ملکی دہشت گردوں کا تقریبا خاتمہ ہو گیا تھا ، لیکن مئی کے بعد ہوئی دراندازی سے سیکورٹی فورسز کا چیلنج بڑھ سکتا ہے ۔ تاہم خفیہ ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ اس دراندازی کا افغانستان کی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: