ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : جنگ بندی معاہدہ پر عمل درآمد کی یقین دہانی کے باوجود سرحد پر پاکستان کی تخریبی سرگرمیاں جاری

Jammu and Kashmir News : دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیر میں دم توڑ چکی ملیٹنسیی کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے ۔ تاہم ہندوستانی افواج کی چوکسی کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہورہا ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : جنگ بندی معاہدہ پر عمل درآمد کی یقین دہانی کے باوجود سرحد پر پاکستان کی تخریبی سرگرمیاں جاری
جموں و کشمیر : جنگ بندی معاہدہ پر عمل درآمد کی یقین دہانی کے باوجود سرحد پر پاکستان کی تخریبی سرگرمیاں جاری

سری نگر : پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ دو ہزار تیرہ میں ہوا تھا ۔ تاہم اس معاہدے کے باوجود بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں پر سینکڑوں مرتبہ گولہ باری ہوتی رہی ۔ پانچ اگست دو ہزار اُنیس میں دفعہ تین سو ستر کے خاتمہ کے ساتھ ہی پاکستان نے سرحد پر گولہ باری کا سلسلہ تیز کردیا ۔ بار بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے سرحد کے دونوں اطراف کافی جانی و مالی نقصان ہوا ۔ سرحدوں پر جاری اس کشیدہ صورت کا زیادہ تر خمیازہ سرحد پر آباد لوگوں کو اُٹھانا پڑا۔ اب جب کہ دو ماہ قبل دونوں ملکوں نے سیز فائر معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو امید یہ کی جارہی تھی کہ شاید پاکستان اب اس معاہدے کو لیکر سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے گا ، لیکن حالیہ کچھ مہینوں میں پاکستان نے سرحد پر جو تخریبی کارروائیاں انجام دیں ، ان کی فہرست کافی طویل ہے اور ان کارروائیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان نے اپنی سوچ تبدیل نہیں کی ہے ۔


چودہ مئی کو سانبہ سیکٹر میں نڈ کے مقام پر بی ایس ایف کی گشتی پارٹی پر فائرنگ کی گئی ۔ حالانکہ اس حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا ۔ آٹھ مئی کو اسی سانبہ سیکٹر میں پاکستان نے سیز فائر معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی کی ۔ نو مئی کو پونچھ سیکٹر کے پھاگلہ علاقے میں بڑی مقدار میں گرنیڈ اور گولہ بارود ضبط کیا گیا ۔ چھ مئی کو سانبہ سیکٹر کے رگال علاقہ میں ایک درانداز مارا گیا ۔ تین مئی کو رام گڑھ سیکٹر میں پاکستان نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ۔ چوبیس اپریل کو پاکستان کا ایک ڈرون ارنیہ سیکٹر میں دیکھا گیا ۔ اکیس اپریل کو  سانبہ سیکٹر میں بڑی مقدار میں ہتھیار و گولہ بارود ضبط کیا گیا ۔


اسی طرح تیرہ اپریل کو بی ایس ایف نے آر ایس پورہ سیکٹر میں ایک درانداز کو گرفتار کیا ۔ یکم اپریل کو بالا کوٹ سیکٹر میں ایک پاکستانی باشندے کو پکڑا گیا ۔ نو مارچ کو مالو چک سانبہ میں ایک اور درانداز مارا گیا ۔ اس طرح کے واقعات یہی ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ابھی بھی اپنی ناپاک حرکتوں سے باز نہیں آیا ہے ۔ کل ہی جموں کے کانا چک علاقے میں ایک پاکستانی ڈرون دیکھا گیا تھا  ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے جموں کے کچھ سرحدی علاقوں میں ایسے غبارے بھی دیکھے گئے تھے جن پر پاک فضائیہ کا نام لکھا گیا تھا ۔


ادھر دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیر میں دم توڑ چکی ملیٹنسیی کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے ۔ تاہم ہندوستانی افواج کی چوکسی کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہورہا ہے ۔ دفاعی ماہر کیپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ پاکستان کبھی بھی کشمیر کو لے کر اپنی سوچ اور تخریبی سرگرمیاں نہیں چھوڑے گا ۔ وہ دکھاوے کے لئے سیز فائر معاہدے پر عمل درآمد کرنے کی باتیں کرے گا ، لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے گا اور اس لئے فوج اور دوسری سیکورٹی فورسز کو سرحدوں پر چوکسی برتنے کا عمل جاری رکھنا ہوگا ۔

خاص کر رات کے دوران سرحدوں پر اپنی گشت بڑھانی ہوگی ۔ تاکہ پاکستان کی ناپاک حرکتوں کو کسی بھی حالت میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 17, 2021 06:17 PM IST