உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News : ڈرون کے ذریعہ دہشت گردوں تک ہتھیار پہنچانے کی پاکستان کی کوشش ناکام، کافی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود برآمد

    J&K News : ڈرون کے ذریعہ دہشت گردوں تک ہتھیار پہنچانے کی پاکستان کی کوشش ناکام، کافی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود برآمد

    J&K News : ڈرون کے ذریعہ دہشت گردوں تک ہتھیار پہنچانے کی پاکستان کی کوشش ناکام، کافی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود برآمد

    Jammu and Kashmir News : جموں کے ارنیا سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے پاس بیتی شب ڈرون کی حرکت دیکھی گئی۔ بی ایس ایف کے چوکس جوانوں نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے ڈورن کی جانب کئی راؤنڈ فائر کئے ، جس کے بعد وہ واپس پاکستان کی جانب اڑ گیا۔

    • Share this:
    Jammu and Kashmir News : جموں کے ارنیا سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے پاس بیتی شب ڈرون کی حرکت دیکھی گئی۔ بی ایس ایف کے چوکس جوانوں نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے ڈورن کی جانب کئی راؤنڈ فائر کئے ، جس کے بعد وہ واپس پاکستان کی جانب اڑ گیا۔ بی ایس ایف کے مطابق آر ایس پورہ کے ارنیا سیکٹر میں گزشتہ شب باڈر آؤٹ پوسٹ وکرم اور جبوال کے علاقے میں سرحد پار سے ایک ڈرون ہندوستانی حدود میں داخل ہوا۔ بی ایس ایف جوانوں نے اس ڈرون پر اس وقت گولیاں چلائیں جب یہ لگ بھگ سو سے ایک سو پندرہ میٹر اندر ہندوستان حدود میں داخل ہوگیا تھا۔ بی ایس ایف کی جانب سے کی گئی کارروائی کے بعد پاکستانی علاقے کی طرف واپس اڑ گیا۔

    پاکستان کی اس حرکت کے پیش نظر جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ نے آج صبح علاقے میں تلاشی کارروائی شروع کی۔ تلاشی کارروائی کے دوران پولیس نے ارنیا سیکٹر کے تریوا گاؤں میں تین صندوقیں پائیں۔ ان کی تلاشی کے دوران کافی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ضبط کئے گئے ہتھیاروں میں تین ڈیٹو نیٹر، ریموٹ کنٹرول سے چلائی جانے والی تین بارودی سرنگیں، تین بوتل دھماکہ خیز مواد، چھ گرینیڈ اور ایک پستول شامل ہے۔

    پولیس کے مطابق حفاظتی عملے کی اس بروقت کارروائی سے ایک بڑا سانحہ ٹالا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے یہ ہتھیار اور گولہ بارود دہشت گردوں کے حوالے کیا جانا تھا تاکہ وہ جموں وکشمیر میں بڑا دہشت گردانہ حملہ انجام دے سکیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ہتھیار اور گولہ بارود جموں وکشمیر میں بھیجے جانے کے لئے ڈرون کا استعمال کرنے کی کئی وجوہات ہیں ۔

    دفاعی ماہر ریٹائرڈ کپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن پر بی ایس ایف اور فوج کی چوکسی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے وہ زمینی راستے سے ہتھیار اور گولہ بارود جموں وکشمیر میں داخل کرنے کے لئے ہوائی راستے کا استعمال کررہاہے۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کپٹن انل گور نے کہا : " چونکہ کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر فوج اور بی ایس ایف کی چوکسی بڑھ گئی ہے اور زمینی راستے سے دہشت گردوں کی دراندازی نیز ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کابھی استعمال ہورہاہے جس کے باعث پاکستان زمینی راستوں سے جموں وکشمیر میں ہتھیار نہیں بھیج پا رہاہے ، یہی وجہ ہے کہ وہ ڈرونس کا استعمال کرکے اپنی مذموم حرکتیں انجام دینے کی کوششوں میں مصروف ہے"۔

    کپٹن انل گور نے کہا کہ ڈرونز کے ذریعے سرحد کے اس پار ہتھیار بھیجنے کے تناظر میں یہ لازمی ہے کہ پولیس سرحد اور کنٹرول لائن کے متصل علاقوں میں انٹلیجنس کو مزید پختہ کرے تاکہ پاکستان کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہ ہونے دیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ظاہر ہورہاہے کہ کنٹرول لائن اور سرحد سے متصل علاقوں میں رہائش پذیر کچھ قوم دشمن عناصر پاکستان کی خفیہ ایجنسی یا پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کے خود ساختہ کمانڈروں کے رابطے میں ہیں ، جو یہ ہتھیار جموں وکشمیر میں سرگرم دہشت گردوں تک پہنچانے میں ان کی حمایت کررہے ہیں۔ کپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف حفاظتی عملے کی کامیاب کارروائیوں سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی اور وہاں مقیم دہشت گردوں کے آقا بوکھلاہٹ  کے شکار ہوچکے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ جموں وکشمیر میں دم توڑتی ملی ٹنسی کو ہوا دینے اور سرگرم دہشت گردوں تک ہتھیار پہنچانے کے لیے مختلف حربے اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے تاہم کہا کہ حفاظتی عملے کی چوکسی کے باعث پاکستان اپنی ان سازشوں میں کامیاب نہیں ہوپا رہا ہے۔

    پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور وہاں کی فوج کی جانب سے ڈرون کے ذریعے جموں وکشمیر میں ہتھیار اور گولہ بارود پہنچانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی قریب میں بھی پاکستان کی جانب سے کئی بار ایسی کوششیں کی گئی ہیں جنہیں حفاظتی عملے نے بروقت کاروائی کرکے ناکام بنا دیا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: