ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : 14 مہینے کی نظر بندی کے بعد رہا ہوئیں پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی

Mehbooba Mufti Released : محبوبہ مفتی کو گزشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام خطوں میں تقسیم کئے جانے سے ایک دن پہلے حراست میں لیا گیا تھا ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : 14 مہینے کی نظر بندی کے بعد رہا ہوئیں پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی
جموں و کشمیر : 14 مہینے کی نظر بندی کے بعد رہا ہوئی پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی

جموں و کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو 14 مہینے نظر بند رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا ہے ۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کے ترجمان روہت کنسل نے منگل کو یہ جانکاری دی ۔ محبوبہ مفتی کو گزشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام خطوں میں تقسیم کرنے سے ایک دن پہلے حراست میں لیا گیا تھا ۔


رہائی کے بعد محبوبہ مفتی کے آفیشیل ٹویٹر اکاونٹ سے ان کی بیٹی التجا مفتی نے ٹویٹ کیا : جیسا کہ محبوبہ مفتی کی غیر قانونی حراست ختم ہوگئی ہے ، میں ان سبھی کا شکریہ ادا کروں گی جنہوں نے مشکل وقت میں میری حمایت کی ۔ میں آپ سبھی کی شکر گزار ہوں ، اب میں التجا آپ سے رخصت لیتی ہوں ۔ اللہ آپ کی حفاظت کرے ۔ خیال رہے کہ محبوبہ مفتی کو حراست میں لئے جانے کے بعد 20 ستمبر 2019 سے التجا ہی ان کے ٹویٹر اکاونٹ سے ٹویٹ کررہی تھیں ۔




آپ کو بتادیں کہ تقریبا ایک سال سے بھی زیادہ وقت سے نظر بند محبوبہ مفتی کی رہائی کی مانگ کو لے کر ان کی بیٹی التجا نے سپریم کورٹ کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا تھا ، جس پر 29 ستمبر کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا تھا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو مزید کتنے وقت تک اور کس حکم سے حراست میں رکھنا چاہتی ہے ۔ عدالت نے مرکز کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا کی جانب سے داخل ترمیمی درخواست پر ایک ہفتہ کے اندر جواب داخل کرنے کیلئے کہا تھا ۔

مرکزی حکومت نے گزشتہ سال جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ واپس لینے سے پہلے نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور کئی مقامی پارٹیوں کے لیڈروں کو حراست میں لے لیا تھا ، جنہیں وقتا فوقتا مشروط طور پر رہا کردیا گیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 13, 2020 10:18 PM IST