உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے حالیہ بیان کی بڑے پیمانے پر ہورہی تنقید ، جانئے کیا کہا تھا

    جموں و کشمیر : پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے حالیہ بیان کی بڑے پیمانے پر ہورہی تنقید ، جانئے کیا کہا تھا

    جموں و کشمیر : پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے حالیہ بیان کی بڑے پیمانے پر ہورہی تنقید ، جانئے کیا کہا تھا

    22 اگست کو جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ایک عوامی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکز کو افغانستان کے حالات سے سبق سیکھ لینا چاہئے ، جہاں طالبان نے قبضہ کرلیا اور امریکی فوج کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے نئی دہلی میں منعقدہ کل جماعتی میٹنگ کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ میٹنگ میں شامل جموں وکشمیر کی سیاسی پارٹیاں بیانات جاری کرنے سے قبل حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھیں گی۔ تاہم میٹنگ کے چند ہفتے گزرنے کے بعد ہی پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کی طرف سے کچھ ایسے بیانات سامنے آئے ، جس سے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ یہ پارٹیاں کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کرنے کے باوجود اپنے اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ کل جماعتی میٹنگ کے بعد جموں وکشمیر میں بنیادی سطح پر کسی طرح کی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کے لیے جدو جہد کرتی رہی۔ اگر چہ محبوبہ مفتی نے بھی ماضی قریب میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا ۔ تاہم بائیس اگست کو انہوں نے ایک ایسا بیان دیا ، جس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جارہی ہے ۔

    22 اگست کو جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ایک عوامی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکز کو افغانستان کے حالات سے سبق سیکھ لینا چاہئے ، جہاں طالبان نے قبضہ کرلیا اور امریکی فوج کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔ انہوں نے دھمکی بھرے انداز میں مرکز سے کہا کہ وہ افغانستان حالات کے مدنظر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کریں اور یہاں بات چیت کا سلسلہ شروع کرے ۔ محبوبہ مفتی کے اس بیان کی لگ بھگ تمام سیاسی جماعتوں نے تنقید کی ہے۔

    جموں وکشمیر بی جے پی کے صدر رویندر رینہ نے محبوبہ مفتی کے اس بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے محبوبہ مفتی کی بوکھلاہٹ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی سیاسی طور پر کمزور ہو چکی ہیں ، لہذا وہ ایسے بے تکے بیانات دے رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک طاقت ور ملک ہے اور وہ ملک دشمن عناصر کی ناپاک سازشوں کو ناکام کرنے کا اہل ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ محبوبہ مفتی کی جانب سے ایسے بیانات جاری کرنے کا مقصد پی ڈی پی کی کھوئی ہوئی ساخت بحال کرنا ہے ۔

    معروف سیاسی تجزیہ نگار پروفیسر پرکھ شت منہاس نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی کی طرف سے ایسے بیانات دینا، جن کے ذریعہ سماج میں منفی سوچ کو پھیلایا جاسکے ۔ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ پارٹی کے کمزور ہونے کی وجہ سے تلملا چکی ہیں ، لہذا وہ اپنی شبہہ ٹھیک کرنے کے لیے حالات کو بگاڑنے اور عام لوگوں میں کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں ، جو صریحا ایک غلط سوچ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو سمجھ لینا چاہئے کہ ایسے بیانات سے نا ہی انہیں اور نہ ہی پی ڈی پی کو الیکشن میں کوئی فائدہ مل سکتا ہے ۔ منہاس نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو نوشت دیوار پڑھ لینی چاہیے کیونکہ آج کے نوجوان کھوکھلے سیاسی نعروں کے جال میں پھننسے والے نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کا نوجوان ترقی چاہتا ہے ، ایسے میں یہ بات عیاں ہے کہ متضاد بیانات دے کر پی ڈی پی کو زمینی سطح پر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔

    جموں وکشمیر کے نامور صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار سہیل کاظمی کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی اس طرح کے بیانات جاری کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کی طاق میں ہے۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ماضی میں بھی اسی طرح کے بیانات جاری کرتی آئی ہے ، جس کا اس جماعت کو پہلے منعقد شدہ انتخابات میں فائدہ بھی ہوا ہے ۔

    سیاسی تجزیہ نگار پرکھ شت منہاس کا تاہم کہنا ہے کہ بھلے ہی ایسے بیانات دے کر محبوبہ مفتی چند لوگوں کو اپنی پارٹی کے قریب لاسکیں ۔ تاہم سچائی یہ ہے کہ اس سے پی ڈی پی کے موجودہ ووٹ بنک میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: