உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آگرہ کے کالج سے کشمیری طلبا کی رہائی کو لیکر پی ڈی پی کارکنوں کا حتجاج، ماں نے بھی لگائی یہ بڑی گہار

     موصوف احتجاجی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ آگرہ میں گرفتار ہمارے بچوں کو فوری طور پر باعزت رہا کیا جانا چاہئے۔

    موصوف احتجاجی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ آگرہ میں گرفتار ہمارے بچوں کو فوری طور پر باعزت رہا کیا جانا چاہئے۔

    موصوف احتجاجی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ آگرہ میں گرفتار ہمارے بچوں کو فوری طور پر باعزت رہا کیا جانا چاہئے۔

    • Share this:
      پی ڈی پی کے ورکروں نے آگرہ کے ایک کالج میں پاکستان حامی نعرہ بازی کرنے کے الزام میں گرفتار کشمیری طلبا کی رہائی کو لے کر ہفتے کے روز احتجاج کیا۔ تاہم پولیس نے ان احتجاجیوں کو یہاں شیر کشمیر پارک کے متصل واقع پارٹی ہیڈکوارٹر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے وہ احتجاجی مارچ نہیں کرسکے۔ پولیس نے پارٹی ہیڈ کوارٹر کے مین گیٹ کو باہر سے بند کر دیا تھا جس کے بعد کارکن گیٹ پر چڑھ کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔ اس موقع پر ایک احتجاجی نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سیاسی لیڈروں، صحافیوں اور کسی بھی فرد کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر کوئی بات کرتا ہے تو اس کو جیل میں ڈالا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج پر امن احتجاج کرنے والے تھے لیکن ہمیں پارٹی ہیڈ کوارٹر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
      پارٹی صدر محبوبہ مفتی کے بارے میں یہ پوچھے جانے پر کہ وہ یہاں موجود کیوں نہیں ہے، کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ’ہماری پارٹی صدر کو خانہ نظر بند رکھا جاتا ہے اور انہیں کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے‘۔ موصوف احتجاجی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ آگرہ میں گرفتار ہمارے بچوں کو فوری طور پر باعزت رہا کیا جانا چاہئے۔  وہیں پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے پر آگرہ میں کشمیری طالب علم شوکت احمد کو  گرفتار کر لیا گیا ۔ سرینگر میں طالب علم کی ماں نے ایل جی منوج سنہا  سے اپنے بیٹے کو معاف کرنے اور رہا کرنے کی اپیل کی۔

      قابل ذکر ہے کہ آگرہ کے ایک انجیئرنگ کالج میں پاکستان کی ہندوستان کے خلاف ٹی ٹونٹی میچ میں جیت کے بعد مبینہ طور پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کے الزام میں تین کشمیری طلبا کو گرفتار کیا گیا۔

      گرفتار شدہ طلبا کو جب جمعرات کو آگرہ عدالت میں لے جایا گیا تو وہاں مبینہ طور بی جے پی اور اس کے ہم فکر کارکنوں اور وکلا نے ان پر حملہ کر دیا۔ دریں اثنا مقامی سیاسی جماعتوں نے ان طلبا کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: