ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے میں لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا ، انتظامیہ پر لگایا یہ سنگین الزام

پہاڑی ضلع رامبن میں سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے دوران مختلف دفاتر میں عوام کو کافی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے میں لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا ، انتظامیہ پر لگایا یہ سنگین الزام
جموں و کشمیر : ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے میں لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا ، انتظامیہ پر لگایا یہ سنگین الزام

جموں و کشمیر میں دفعہ تین سو ستر کی منسوخی اور اسٹیٹ سبجیکٹ ختم کئے جانے کے  بعد عوام کو ازسر نو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے حکومت و انتظامیہ کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی سے عوام  کو مستفید ہونے کی اپیل کی گئی تھی آن لائن طریقہ کار اپنا کر میل یا وہاٹس ایپ پر اپنی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی بات کہی گئی تھی ۔ لیکن پہاڑی ضلع رامبن میں سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے دوران مختلف دفاتر میں عوام کو کافی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ ضلع کی دور دراز تحصیل راجگڑھ میں تعلیم یا فتہ نوجوانوں نے حکومت کی جانب سے جاری نوکریوں کے نوٹیفیکیشن کے بعد تحصیل آفس کا رخ کیا ، جہاں کئی دنوں تک نوجوانوں کو دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ وہیں پڑھے لکھے نوجوانوں کو سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے ٹریزری فیس کے نام پر رسید کے بغیر پچاس سے سو روپے تک کی رقم مانگی گئی ۔ عوام کی جانب سے احتجاج درج کرانے پرسرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والے نوجوانوں کو دھمکایا گیا اور ان کے خلاف کارروائی کیلئے افسران کی جانب سے فرضی شکایات بھی درج کرائی جارہی ہیں ۔


واضح رہے پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کر چکی اوشا دیوی ساکنہ جھٹگلی نے  تحصیل دفتر راجگڑھ میں 6 جولائی کو ڈومیسائل حاصل کرنے کیلئے درخواست جمع کی ۔ انہیں سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کیلئے ایک ہفتہ کا وقت دیا گیا ۔ تاہم ایک ہفتہ کے بعد دفتر جانے کے بعد سرٹیفیکیٹ تیار نہ ہونے کا بہانا بتا کر آئندہ آنے کے بارے میں کہا گیا ۔ دس دنوں کے بعد 17 جولائی کو دوبارہ دفتر پہنچنے پر سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کیلئے ان سے فیس کے نام پر رقم طلب کی گئی اور رقم نہ دینے پر انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دیا گیا ۔


اوشا دیوی کی جانب سے ضلع ترقیاتی کمشنر رامبن سے شکایت کئے جانے بعد انہیں تحصیلدار دفتر سے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کیلئے فون آیا اور انہیں مسئلہ اجاگر کرنے کیلئے دھمکایا بھی گیا اور ان کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کرائی گئی ، جس کو اوشا دیوی نے خواتین کے حقوق کے ساتھ ہورہے استحصال اور رشوت خوری کے رحجان کے خلاف آواز اٹھانے کا شاخسانہ بتایا ۔


وہیں آن لائن درخواست جمع کرنے کے باوجود کئی امیدواروں کو آف لائن  سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کیلئے دفتر بلانے کی شکایات بھی موصول ہورہی ہے ۔ ضلع رامبن سے تعلق رکھنے والے بی جے پی لیڈر سوامی راج بھگت کے مطابق ڈومیسائل حاصل کرنے کیلئے دفاتر میں بیس ، پچاس اور سو روپے تک مانگے جارہے ہیں ، جس پر انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت و انتظامیہ کی جانب سے بتائے گئے ضوابط کے برعکس ضلع رامبن میں عوام کے ساتھ استحصال کیا جارہا ہے ۔

وہیں حکومت کی جانب سے فورتھ کلاس نوکریوں کیلئے نکلے نوٹیفیکشن کے بعد نوجوان ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں ، لیکن دفاتر کی جانب سے کی جانے والی تاخیر اور فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ نزدیک آنے کی وجہ سے بے روزگار نوجوانوں میں تشویش پائی جارہی  ہے۔ حکومت و انتظامیہ کو چاہئے کہ ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ مہیا کرانے کیلئے وضع کئے گئے آسان اور عوام دوست طریقہ کار کو زمینی سطح پر لاگو کرے ۔ تاکہ دفاتر میں بیٹھے افسران اور ان کے ملازمین کی جانب سے عوام کے ساتھ ہورہے استحصال کو روکا جاسکے اور عوام آسانی سے ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 23, 2020 07:24 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading