ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر ڈویژن کے دسویں بورڈ امتحانات میں سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پھر سے موضوع بحث، کیا جارہا ہے یہ بڑا مطالبہ

والدین کا کہنا ہے کہ سرکار نجی اسکولوں اور سرکاری اسکولوں کا تناسب برابر کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس حوالے سے ہمیشہ سے عدم سنجیدگی سے کام لیا جاتا رہا ہے ۔ والدین کا کہنا ہے کہ جن سرکاری اسکولوں کا ریزلٹ صفر نکلا ہے ، ان کے خلاف انتظامیہ کاروائی عمل میں لائے۔

  • Share this:
کشمیر ڈویژن کے دسویں بورڈ امتحانات میں سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پھر سے موضوع بحث، کیا جارہا ہے یہ بڑا مطالبہ
کشمیر ڈویژن کے دسویں بورڈ امتحانات میں سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پھر سے موضوع بحث، کیا جارہا ہے یہ بڑا مطالبہ

جموں و کشمیر: جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے حال ہی میں کشمیر ڈویژن کے میٹریکولیشن امتحانات کے نتائج کے بعد پھر ایک بار پھر سرکاری اسکولوں کی کاکردگی موضوع بحث بن گئی ہے ۔ اگرچہ مجموعی طور پر اس مرتبہ سرکاری اسکولوں کی کاکردگی اچھی رہی ہے ۔ تاہم نجی اسکولوں کے مقابلہ میں اب بھی سرکاری اسکول پیچھے ہیں ۔ جبکہ کئی اسکولوں کے نتائج اس بار بھی صفر فیصدی رہے ہیں ، جس کی وجہ سے والدین کے ساتھ ساتھ عام لوگوں میں بھی برہمی نظر آ رہی ہے ۔ ادھر جنرل لائن ٹیچرس ایسوسی ایشن نے جہاں سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ وہیں جموں و کشمیر کے نجی اور سرکاری اسکولوں میں یکساں نصاب رائج کرنے کی بھی وکالت کی ہے ۔


حال ہی میں دسیوں جماعت کے بورڈ امتحانات میں ضلع اننت ناگ کے کریوا علاقہ میں واقع مٹن ونتراگ کا گورنمنٹ ہائی اسکول اور ماگرے پورہ اچھہ بل کا سرکاری اسکول بورڈ امتحانات میں صفر کارکردگی کی وجہ سے سرخیوں میں رہا ۔ ونتراگ سرکاری ہائی اسکول کے امتحان میں بیٹھنے والے 23 امیدواروں میں کوئی بھی کامیاب  نہیں ہو سکا ۔ یہی حال ماگرے پورہ اچھہ بل کے گورنمنٹ ہائی اسکول کا بھی رہا ، جہاں پر 10 امیدواروں میں سے کسی نے بھی امتحان میں اوسط کارگردگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اس اسکول میں بھی کامیاب امیدواروں کی شرح صفر فیصد رہی۔


اسی طرح سے جموں و کشمیر کی سرمائی راجدھانی سرینگر میں کچھ سرکاری اسکولوں نے ان امتحانات میں صفر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ جبکہ کولگام ، بارہمولہ، کرنسی ، سوپور اور بانڈی پورہ و دیگر علاقوں میں بھی کچھ سرکاری اسکولوں کی کامیابی کی شرح صفر فیصد رہی ۔ جبکہ شمالی کشمیر کا بانڈی پورہ ضلع کامیاب امیدواروں کی شرح میں سب سے پیچھے ہے ۔


کشمیر ڈویژن میں ایسے بھی درجنوں اسکول ہیں ، جن کی کامیابی کی شرح 20 فیصد سے نیچے رہی ۔
کشمیر ڈویژن میں ایسے بھی درجنوں اسکول ہیں ، جن کی کامیابی کی شرح 20 فیصد سے نیچے رہی ۔


اس طرح سے کشمیر ڈویژن میں ایسے بھی درجنوں اسکول ہیں ، جن کی کامیابی کی شرح 20 فیصد سے نیچے رہی ۔ ایسے میں عوامی حلقوں میں پھر ایک بار سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پر بحث چھڑ گئی ہے ۔ جبکہ والدین کی ناراضگی بھی ایک بے جا بات نہیں ہے ۔ والدین کا کہنا ہے کہ سرکار نجی اسکولوں اور سرکاری اسکولوں کا تناسب برابر کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس حوالے سے ہمیشہ سے عدم سنجیدگی سے کام لیا جاتا رہا ہے ۔ والدین کا کہنا ہے کہ جن سرکاری اسکولوں کا ریزلٹ صفر نکلا ہے ، ان کے خلاف انتظامیہ کاروائی عمل میں لائے۔

ادھر ماہرین کے مطابق کشمیر کے حالات کے ساتھ ساتھ گزشتہ برس کووڈ کی صورتحال کے دوران متعلقین کی جانب سے اقدامات نہ اٹھانا سرکاری اسکولوں کی اس کارکردگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جبکہ کووڈ کے دوران آن لائن کلاسز کیلئے تعینات اکثر اساتذہ کے تجربوں پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نجی اسکولوں کے بہ نسبت سرکاری اسکولوں میں حکمت عملی کی کمی بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔

سماجی کارکن و جنوبی کشمیر کے سینئر صحافی ایس طارق کا کہنا ہے ہے کہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اس بار بھی نجی اسکولوں کے مقابلے میں کم رہی ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سرکاری اسکولوں میں تعینات اساتذہ زیادہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ہوتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود بھی غور طلب بات یہ ہے کہ ہمیشہ سرکاری اسکول امتحانات میں پیچھے کیوں رہتے ہیں ۔ ایس طارق کا کہنا ہے کہ اس بات پر سرکار کو غور کرنے کی اشد ضرورت ہے اور سرکاری اسکولوں میں رائج تعلیمی نظام اور اس حوالے سے مرتب شدہ پالسیوں میں تبدیلیاں لانے کی اہم ضرورت ہے ۔

سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اس بار بھی نجی اسکولوں کے مقابلے میں کم رہی ہے ۔
سماجی کارکن و جنوبی کشمیر کے سینئر صحافی ایس طارق کا کہنا ہے ہے کہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اس بار بھی نجی اسکولوں کے مقابلے میں کم رہی ہے ۔


اگرچہ ماضی کے مقابلہ میں سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار کافی سدھر گیا ہے۔ تاہم اساتذہ کے مطابق نجی اور سرکاری اسکولوں میں یکساں نصاب کو متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جبکہ سرکاری سطح پر نجی اسکولوں کے مقابلے میں مرتب کی گئی ناقص پالیسیوں کو دور کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ جموں کشمیر جنرل لائن ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر انور وانی کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں کی ان امتحانات میں کامیابی کی شرح 96 فیصد سے زائد رہی ہے ، جس کا مطلب یہ ہوا کہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اس بار اطمینان بخش رہی ہے۔

انور وانی کا کہنا ہے کہ کچھ سرکاری اسکولوں کی جانب سے ان امتحانات میں صفر کارکردگی کا مظاہرہ یقینی طور پر لمحہ فکریہ ہے ، جس کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انور وانی کے مطابق نجی اور سرکاری اسکولوں میں یکساں نصاب متعارف نہ کرانا بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ کیونکہ نجی اسکولوں میں اسکول انتظامیہ اپنی مرضی کا نصاب رائج کرتی ہے ، جس میں سرکار یا محکمہ تعلیم کا کوئی عمل دخل نہیں رہتا ہے۔ دوسری جانب سرکاری اسکولوں میں مروجہ تعلیمی نظام کی وجہ سے طالب علموں میں کوئی پیش رفت نہیں دکھ رہی ہے۔

انور وانی کے مطابق اگر سرکاری اسکولوں اور نجی اسکولوں میں رائج نصاب کا تفاوت ختم کیا جائے تو زمینی حقائق مستقبل میں کچھ اور ہو سکتے ہیں ۔ اسلئے سرکار کو چاہئے جموں و کشمیر کے سبھی اسکولوں میں یکساں نصاب متعارف کیا جائے تاکہ سرکاری اسکولوں میں رائج تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلیاں لانا ممکن بن سکے ۔

واضح رہے کہ نجی اور سرکاری اسکولوں میں رائج تعلیمی نظام میں تفاوت کو دور کرنے کی غرض سے اگرچہ کئی مرتبہ مدعے اٹھائے گئے ۔ تاہم اس تفاوت کو تاحال ختم نہیں کیا جا سکا ہے ۔ جس کی وجہ سے اب بھی والدین سرکاری اسکولوں کی بجائے نجی اسکولوں میں بچوں کے داخلہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیمی میعار کو مزید بڑھانے کیلئے ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 05, 2021 10:15 PM IST