ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : پٹرول اور ڈیزل کی آسمان چھوتی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی بنائی محال

Jammu and Kashmir News : جموں و کشمیر میں پٹرول فی لیٹر قیمت نے 100 کا ہندسہ پار کر دیا ہے ۔ گرمائی راجدھانی میں پٹرول فی لیٹر پیر کے روز 100 سے تجاوز کر کے 103.44 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ جبکہ سرمائی دارالخلافہ جموں میں پٹرول فی لیٹر100.74 روپے تک پہنچ گیا ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : پٹرول اور ڈیزل کی آسمان چھوتی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی بنائی محال
جموں و کشمیر : پٹرول اور ڈیزل کی آسمان چھوتی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی بنائی محال

جموں و کشمیر: پٹرول کی قیمتوں میں لگاتار اضافے کی وجہ سے جموں و کشمیر میں بھی عام زندگی متاثر ہورہی ہے ۔ جبکہ اضافی قیمتوں کے اثرات سے عام لوگوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ اگرچہ عوامی حلقوں میں لگاتار پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی مخالفت ہو رہی ہے ، لیکن اس کے باوجود بھی ان قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس دوران جموں و کشمیر میں پٹرول فی لیٹر قیمت نے 100 کا ہندسہ پار کر دیا ہے ۔ جموں و کشمیر کی گرمائی راجدھانی میں پٹرول فی لیٹر پیر کے روز 100 سے تجاوز کر کے 103.44 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ جبکہ جموں و کشمیر کے سرمائی دارالخلافہ جموں میں پٹرول فی لیٹر100.74 روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ اس طرح سے جموں و کشمیر میں پٹرول کی ریکارڈ توڑ قیمتیں درج کی گئی ہیں ۔


پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا عام بجٹ بھی اس سے کافی متاثر ہوا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبائی صورتحال کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی جموں و کشمیر یوٹی کی معشیت پر برے اثرات مرتب ہوئے ہیں ، ایسے میں پٹرول کی لگاتار بڑھتی قیمتوں نے گویا یہاں کے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ لوگوں کے مطابق پٹرول کی آسمان چھوتی قیمتوں نے عام آدمی کا بجٹ بھی کافی متاثر کیا ہے ، جس کی وجہ سے اب لوگ نجی گاڑیوں کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔


جموں میں رہنے والی سمرن نامی خاتون کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں پٹرول کی قیمتوں میں لگاتار اضافے نے عام آدمی کو بد حال کر دیا ہے۔  نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سمرن نے کہا کہ  ہر روز پٹرول کی قیمتوں میں 20 سے 25 پیسے تک اضافہ ہوتا ہے ، جو ایک ہفتے میں 2 سے 3 روپے تک پہنچ جاتا ہے اور مجموعی طور گزشتہ چند ماہ سے ہر ہفتے میں پٹرول کی قیمتوں میں 2 سے 3 روپے تک اضافہ ہوتا ہے، جو اب عوام کیلئے برداشت سے باہر ہے۔


جموں کے ایک اور شخص انج کا کہنا ہے کہ وہ اب نجی گاڑی کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کو ترجیح دیتے ہیں ، کیونکہ پٹرول کی لگاتار اضافی قیمتوں سے اب نجی کار میں سفر کرنا متوسط طبقے کے افراد کیلئے مشکل بن چکا ہے۔  نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انج نے کہا کہ سرکار کی طرف سے پٹرول کی اضافی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے میں ناکامی کی وجہ سے عام زندگی پر نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ انج کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد وہ انہیں اب اپنے دفاتر و دیگر کاموں کے لیے معمول کے مطابق نکلنا پڑتا ہے ۔ لیکن پٹرول کی اضافی قیمتوں کی وجہ سے ان کا بجٹ بری طرح سے اثر انداز ہو گیا جسے وہ اب اپنی نجی کار میں سفر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

ادھر پٹرول پمپ مالکان کے مطابق پٹرول و ڈیزل کی اضافی قیمتوں پر ایندھن کی خرید وفروخت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ کیونکہ گزشتہ ایام میں اگرچہ گاڑیوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے ، لیکن اس کے باوجود بھی ایندھن کی  خرید وفروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ادھر ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ٹرانسپورٹر اور لوڈ کیریئر و ٹرانسپورٹ سے منسلک دیگر افراد بھی کافی پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔ منی بس چلانے والے جموں کے باشندے سباش کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں روز بروز اضافے کی وجہ سے یہاں کے ٹرانسپورٹر بھی معاشی بدحالی کے شکار ہو گئے ہیں ۔ سباش کے مطابق ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے انہیں کرایہ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے ، لیکن لوگ اس کے لئے آمادہ نہیں ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے بعض اوقات ٹرانسپورٹروں اور عام لوگوں و مسافروں میں بحث و تکرار ہوجاتی ہے۔ جبکہ کبھی کبھی ہاتھا پائی تک نوبت پہنچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹر بھی لگاتار سرکار سے کرایہ بڑھانے کا تقاضہ کرتے ہیں ، جس کا براہ راست اثر عام آدمی کی ہی جیب پر پڑتا ہے ۔ جبکہ ہر دو ایک ماہ کے بعد سرکار کےلئے بھی مسافر کرایہ کی شرح میں اضافہ ناگزیر بن جاتا ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے جہاں اب عام لوگوں کی حالت بد سے بدتر ہوگئی ہے وہیں ان قیمتوں کو اعتدال پر لانے کیلئے لوگوں کی تمام تر نظریں سرکار پر ہی مرکوز ہیں ۔ جبکہ عوامی حلقوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کا مطالبہ بھی طول پکڑتا جا رہا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 12, 2021 10:40 PM IST